کینجھر جھیل کا درد ناک سانحہ
اس المناک سانحے میں جاں بحق افراد کی تدفین کے موقعے پر ہر دل غمگین اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔
اس المناک سانحے میں جاں بحق افراد کی تدفین کے موقعے پر ہر دل غمگین اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔ (فوٹو : فائل)
لاہور:
پیر کو سندھ کے شہر ٹھٹھہ کی کینجھر جھیل میں کشتی الٹنے سے ایک ہی خاندان کے10 افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں 9 خواتین اور ایک بچی شامل ہے، اس المناک سانحے میں جاں بحق افراد کی تدفین کے موقعے پر ہر دل غمگین اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔ کراچی کے علاقے محمود آباد کا رہائشی خاندان جو 28 افراد پر مشتمل تھا، پکنک منانے کے لیے وہاں گیا تھا۔
پولیس نے ملاح کو گرفتار کرلیا ہے جس پر الزام ہے کہ کشتی میں سوراخ ہونے کے باوجود وہ اسے گہرے پانی میں لے گیا، ملاح کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ درحقیقت اس سانحے کا بنیادی سبب اوور لوڈنگ اور کشتی میں خرابی ہے ، جس کی وجہ سے حادثہ رونما ہوا۔ کشتی میں حادثے کے وقت 14افراد سوار تھے جن میں سے اکثریت خواتین کی تھی، جب کہ تین خواتین کو بچا لیا گیا۔ مقامی لوگوں نے انسانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرین کی بہت مدد کی۔
درحقیقت یہ واقعہ انتظامیہ کی غفلت کے باعث پیش آیا، کیونکہ جھیل کنارے پر لائف جیکٹس سمیت کوئی خاص حفاظتی انتظامات سرے سے موجود نہیں ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی کشتی نہ رجسٹرڈ تھی بلکہ یہ کشتی مچھلیوں کے شکار کے لیے استعمال کی جاتی ہے جسے ملاح نے رقم کے لالچ میں عوام کو نوری جام تماچی کے مزار پر لے جانے کے لیے استعمال کیا اور یہ المناک سانحہ رونما ہوا۔
اہل کراچی اور اندرون سندھ سے عوام خاصی بڑی تعداد میں کینجھر جیل پر جاتے ہیں لیکن محکمہ ٹورازم سندھ سمیت دیگر متعلقہ ادارے اپنے فرائض سے غافل ہیں ،کوئی چیک اینڈ بیلنس کا نظام سرے سے موجود نہیں ہے۔
گو وزیر اعلیٰ سندھ نے کینجھر جھیل میں کشتی ڈوبنے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے اور جھیل میں کشتی رانی پر غیر معینہ مدت تک پابندی بھی عائد کر دی ہے، لیکن پابندی عائد کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے، کیونکہ کورونا وائرس کے باعث پہلے ہی عوام پانچ ماہ سے گھروں میں مقید رہ کر ذہنی وجسمانی طور پر پریشانی کا سامنا کرچکے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام حفاظتی ہدایات کو اردو، سندھی اور انگریزی زبان میں نمایاں طور بورڈز پر درج کیا جائے، لائف جیکٹس ، لائف سیونگ بوٹس اور ماہر غوطہ خوروں کی تعیناتی کو ممکن بنانے کے بعد اس جھیل کو عوام کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے۔
پیر کو سندھ کے شہر ٹھٹھہ کی کینجھر جھیل میں کشتی الٹنے سے ایک ہی خاندان کے10 افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں 9 خواتین اور ایک بچی شامل ہے، اس المناک سانحے میں جاں بحق افراد کی تدفین کے موقعے پر ہر دل غمگین اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔ کراچی کے علاقے محمود آباد کا رہائشی خاندان جو 28 افراد پر مشتمل تھا، پکنک منانے کے لیے وہاں گیا تھا۔
پولیس نے ملاح کو گرفتار کرلیا ہے جس پر الزام ہے کہ کشتی میں سوراخ ہونے کے باوجود وہ اسے گہرے پانی میں لے گیا، ملاح کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ درحقیقت اس سانحے کا بنیادی سبب اوور لوڈنگ اور کشتی میں خرابی ہے ، جس کی وجہ سے حادثہ رونما ہوا۔ کشتی میں حادثے کے وقت 14افراد سوار تھے جن میں سے اکثریت خواتین کی تھی، جب کہ تین خواتین کو بچا لیا گیا۔ مقامی لوگوں نے انسانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرین کی بہت مدد کی۔
درحقیقت یہ واقعہ انتظامیہ کی غفلت کے باعث پیش آیا، کیونکہ جھیل کنارے پر لائف جیکٹس سمیت کوئی خاص حفاظتی انتظامات سرے سے موجود نہیں ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی کشتی نہ رجسٹرڈ تھی بلکہ یہ کشتی مچھلیوں کے شکار کے لیے استعمال کی جاتی ہے جسے ملاح نے رقم کے لالچ میں عوام کو نوری جام تماچی کے مزار پر لے جانے کے لیے استعمال کیا اور یہ المناک سانحہ رونما ہوا۔
اہل کراچی اور اندرون سندھ سے عوام خاصی بڑی تعداد میں کینجھر جیل پر جاتے ہیں لیکن محکمہ ٹورازم سندھ سمیت دیگر متعلقہ ادارے اپنے فرائض سے غافل ہیں ،کوئی چیک اینڈ بیلنس کا نظام سرے سے موجود نہیں ہے۔
گو وزیر اعلیٰ سندھ نے کینجھر جھیل میں کشتی ڈوبنے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے اور جھیل میں کشتی رانی پر غیر معینہ مدت تک پابندی بھی عائد کر دی ہے، لیکن پابندی عائد کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے، کیونکہ کورونا وائرس کے باعث پہلے ہی عوام پانچ ماہ سے گھروں میں مقید رہ کر ذہنی وجسمانی طور پر پریشانی کا سامنا کرچکے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام حفاظتی ہدایات کو اردو، سندھی اور انگریزی زبان میں نمایاں طور بورڈز پر درج کیا جائے، لائف جیکٹس ، لائف سیونگ بوٹس اور ماہر غوطہ خوروں کی تعیناتی کو ممکن بنانے کے بعد اس جھیل کو عوام کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے۔