آرمی چیف کا دورہ سعودی عرب اور عالمی سطح پر بدلتی ہوئی صورتحال
سفارتی حلقوں میں اس دورے کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
سفارتی حلقوں میں اس دورے کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ فوٹو : فائل
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اہم سرکاری دورے پر سعودی عرب میں موجود ہیں جہاں ان کی اہم سعودی شخصیات سے ملاقاتیں جاری ہیں، سعودی عرب پہنچنے پر سعودی عرب کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الروئیلی نے ان کا استقبال کیا اور سعودی وزارت دفاع میں آرمی چیف کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔
آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے سعودی اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے ابھی ان کے دورے کی زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، ان سطور کی اشاعت تک دورے کی مزید تفصیلات سامنے آجائیں گی، البتہ موجودہ حالات میں ان کا یہ دورہ انتہائی زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور پاکستان و سعودی عرب کے درمیان موجودہ حالات میں سب کی نظریں آرمی چیف کے دورہ پر لگی ہیں اور توقع ہے کہ ملک کے فوجی سربراہ قمر جاوید باجوہ کا یہ دورہ تاریخی طور پر پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کرے گا۔
اس دورے میں ہونیوالی ابتدائی ملاقاتوں کے حوالے سے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سعودی عرب کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الروئیلی اور سعودی کمانڈر جوائنٹ فورسز لیفٹیننٹ جنرل فہد بن ترکی السعود سے ملاقات کی ہے اور ملاقات میں فوجی تربیتی تبادلے سمیت دونوں ملکوں کے فوجی تعلقات پر بات چیت ہوئی ہے۔
سفارتی حلقوں میں اس دورے کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے، سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے کشمیر کے مسئلہ پر او آئی سی وزراء خارجہ کونسل کا اجلاس نہ بلانے کی صورت میں مظلوم کشمیریوں کی مدد کیلئے دوست ممالک کا اجلاس بلانے کی بات کی گئی تھی جس کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کچھ تناو آیا اور پاکستان نے سعودی عرب کو ایک ارب ڈالر بھی واپس کئے جس سے دونوں ممالک کے دیرنہ تعلقات کے بارے میں سفارتی و سیاسی حلقوں میں تشویش میں اضافہ ہوا اور اس پر اپوزیشن نے بھی خوب تنقید کی اور وزیر خارجہ کے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا جبکہ سعودی عرب نے اگرچہ پاکستانی وزیر خارجہ کے بیان پر باضابطہ طور پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے مگر سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ وزیر خارجہ کے بیان کو او آئی سی میں سعودی عرب کی قیادت کو چیلنج کرنے کے طور پر دیکھا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ سفارتی حلقے اس بارے میں سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کے بارے میں جو بیان دیا ہے وہ ان کی ذاتی رائے تھی یا ان کا بیان حکومتی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر تو وزیر خارجہ نے اپنے طور پر غیر سفارتی زبان استعمال کی ہے تو اْنھیں اس پر معذرت کرنی چاہئے لیکن اگر وزیر خارجہ کا بیان حکومتی پالیسی کا عکاس ہے تو پھر یہ بیان پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے جبکہ پاکستان میں بعض حلقے اسے شاہ محمود قریشی کی سیاسی چال قرار دے رہے ہیں اور بعض تو اسے شاہ محمود قریشی کی سیاسی خود کشی قرار دے رہے ہیں اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ان کے اس بیان کے نہ صرف انکے بلکہ تحریک انصاف کی مستقبل کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہونگے، ویسے بھی پاکستان میں سیاسی موسم بدلتے دیر نہیں لگتی اور پچھلے کچھ عرصے سے تبدیلی کی باتیں ہو رہی ہیں اور ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں متحرک دکھائی دے رہی ہیں اور اپوزیشن کی آل پارٹیزکانفرنس کی بھی تیاریاں جاری ہیں۔
دوسری طرف دونوں بڑی جماعتوں کی سرکردہ قیادت اور رہنماوں کے گرد بھی احتساب کا شکنجہ سخت ہوتاجا رہا ہے، ریفرنسز دائر ہو رہے ہیں تو کہیں کیسز میں فرد جرم عائد ہو رہی ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے لب و لہجہ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت بڑھتی جا رہی ہے۔ دونوں باپ بیٹا حکومت و اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ڈٹنے کے موقف پر سخت ہوتے جا رہے ہیں اور پیپلز پارٹی کی قیادت ان کے خلاف ہونیوالی احتساب کی کاروائیوں کو اٹھارویں ترمیم میں واپسی کیلئے حمایت حاصل کرنے سے جوڑ رہی ہے۔ اگرچہ ابھی تک پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کا بیانیہ تو یہی ہے کہ انکے پورے خاندان کو بھی جیلوں میں ڈال دیا جائے تو وہ اٹھارویں ترمیم کی واپسی اور دوسرے اقدامات پر حکومتی و مقتدر قوتوں کے دباو میں نہیں آئیں گے۔
دوسری طرف سیاست کے منجھے ہوئے کھلاڑی جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمن بھی ملک کی دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں سے کچھ نالاں دکھائی دے رہے ہیں اور ان بڑی جماعتوں کی قیادت سے گلے شکوے کرتے بھی دکھائی دے رہے ہیں اور پھر پاکستان مسلم لیگ(ن)کے اندر بھی تضاد واضع دکھائی دے رہا ہے ایک گروپ مقتدر قوتوں کے ساتھ بات چیت اور معاملہ فہمی کا حامی ہے تو وہیں دوسرا دھڑا سخت موقف اپنائے ہوئے ہے، لہذا ان حالات میں اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اپوزیشن جماعتیں اپنے اس بیانیہ پر قائم رہ سکیں گی۔
ادھر مریم نواز کی نیب پیشی کے موقع پر پیش آنے والا واقعہ بھی پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے اور مریم نواز کی گاڑی پر پتھراو کا معاملہ مریم نواز پر حملے کا رنگ دیا جا رہا پے اور جعمیت اہلحدیث کے رہنما پروفیسر ساجد میر نے مریم نواز سے حالیہ ملاقات کے بعد تو میڈیا کے سامنے انکشاف کیا ہے کہ مریم کی گاڑی پر دو نشانات سنائپر گن کے گولے کے ہیں اور مریم نواز کے قتل کی سازش قرار دیا جا رہا ہے جس کیلئے مریم نواز کے شوہر کیپٹن صفدر نے مقدمہ درج کروانے کیلئے بھی عدالت سے رجوع کیا ہے اور اس میں بھی اس کو قتل کی سازش قرار دیا گیا ہے اور وزیراعظم اور ان کی ٹیم کے اہم رہنما شہزاد اکبر اور نیب حکام کو نامزد کیا گیا ہے۔
اب انصاف کے بیانیہ پر قائم ہونیوالی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کیلئے یہ بہت بڑی آزمائش ہے کیونکہ ماضی میں کپتان کا بیانیہ رہا ہے کہ ایف آئی آر کروانا کسی بھی پاکستانی کا حق ہے، کیا اب وہ بیانیہ بدل گیا ہے یا کچھ اور معاملہ ہے کہ ایک شہری کو ایف آئی آر درج کروانے کیلئے عدالت سے رجوع کرنا پڑا ہے۔
اس سے قبل کرپٹ اور قانون شکن حکمرانوں کے دور میں تو ان کے اپنے خلاف سنگین مقدمات درج ہونے کی مثال موجود ہے۔ اب جب کہ ایسی جماعت برسراقتدار ہے جس کاوجود انصاف کے بیانیہ پر ہو اور اس دور میں اگر کسی شہری کو ایف آئی آر درج کروانے کا حق میسر نہیں آتا تو کیا یہ انصاف کے بیانیہ کی نفی نہیں ہوگا۔
دوسری جانب اقتصادی فرنٹ پر بھی بہتری آرہی ہے اور رواں مالی سال کے پہلے ماہ اقتصادی اعشاریوں میں واضح بہتری آئی ہے جبکہ حکومتی ٹیم نے منگل کو اسلام آباد میں موجودہ حکومت کی دوسالہ کارکردگی بارے بھی میڈیا کو آگاہ کیا ہے اور اس میں بھی بہتری کی جانب گامزن ہونے کے دعوے کئے گئے ہیں، اگر کپتان معاشی فرنٹ میں بھی بہتری لانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یقینی طور پر حکومت کی مشکلات میں کمی آئے گی لیکن سیاسی میدان میں صورتحال پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے، یہی نہیں بعض حلقوں کی جانب سے شاہ محمود قریشی کی سیاسی قربانی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں، البتہ سیاسی کہانی دلچسپ ہوتی جا رہی ہے اور جو صورتحال بن رہی ہے اس کے ملکی اندرونی سیاست پر جو اثرات ہوں گے وہ اگلے چند روز میں سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔
مگر اس کے خطے اور عالمی سطح پر جو اثرات ہوںگے وہ زیادہ اہمیت کے حامل ہیں اور پھر ہماری مالی و سیاسی پوزیشن بھی ایسی ہے کہ اس طرح کے کسی دوسرے تنازعے کے متحمل نہیں ہو سکتے، کیونکہ بعض سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ سعودی عرب پاکستان کو مالی امداد روکنے کے بارے میں سوچ رہا ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا جبکہ سفارتی و دفاعی تجزیہ کاروںکا خیال ہے کہ یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے حالیہ معاہدہ کے بعد سے امریکی صدر کے سامنے آنے والے بیانات میں جلد ایک عرب ملک کے ساتھ اسرائیل کے معاہدے کی باتیں سامنے آئی ہیں اور سفارتی و دفاعی تجزیہ کار صدر ٹرمپ کے اس بیان کو بھی سعودی عرب کی جانب اشارہ قرار دے رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس حوالے سے بھی پاکستان پر دباو بڑھ رہا ہے۔
آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے سعودی اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے ابھی ان کے دورے کی زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، ان سطور کی اشاعت تک دورے کی مزید تفصیلات سامنے آجائیں گی، البتہ موجودہ حالات میں ان کا یہ دورہ انتہائی زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور پاکستان و سعودی عرب کے درمیان موجودہ حالات میں سب کی نظریں آرمی چیف کے دورہ پر لگی ہیں اور توقع ہے کہ ملک کے فوجی سربراہ قمر جاوید باجوہ کا یہ دورہ تاریخی طور پر پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کرے گا۔
اس دورے میں ہونیوالی ابتدائی ملاقاتوں کے حوالے سے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سعودی عرب کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الروئیلی اور سعودی کمانڈر جوائنٹ فورسز لیفٹیننٹ جنرل فہد بن ترکی السعود سے ملاقات کی ہے اور ملاقات میں فوجی تربیتی تبادلے سمیت دونوں ملکوں کے فوجی تعلقات پر بات چیت ہوئی ہے۔
سفارتی حلقوں میں اس دورے کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے، سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے کشمیر کے مسئلہ پر او آئی سی وزراء خارجہ کونسل کا اجلاس نہ بلانے کی صورت میں مظلوم کشمیریوں کی مدد کیلئے دوست ممالک کا اجلاس بلانے کی بات کی گئی تھی جس کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کچھ تناو آیا اور پاکستان نے سعودی عرب کو ایک ارب ڈالر بھی واپس کئے جس سے دونوں ممالک کے دیرنہ تعلقات کے بارے میں سفارتی و سیاسی حلقوں میں تشویش میں اضافہ ہوا اور اس پر اپوزیشن نے بھی خوب تنقید کی اور وزیر خارجہ کے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا جبکہ سعودی عرب نے اگرچہ پاکستانی وزیر خارجہ کے بیان پر باضابطہ طور پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے مگر سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ وزیر خارجہ کے بیان کو او آئی سی میں سعودی عرب کی قیادت کو چیلنج کرنے کے طور پر دیکھا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ سفارتی حلقے اس بارے میں سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کے بارے میں جو بیان دیا ہے وہ ان کی ذاتی رائے تھی یا ان کا بیان حکومتی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر تو وزیر خارجہ نے اپنے طور پر غیر سفارتی زبان استعمال کی ہے تو اْنھیں اس پر معذرت کرنی چاہئے لیکن اگر وزیر خارجہ کا بیان حکومتی پالیسی کا عکاس ہے تو پھر یہ بیان پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے جبکہ پاکستان میں بعض حلقے اسے شاہ محمود قریشی کی سیاسی چال قرار دے رہے ہیں اور بعض تو اسے شاہ محمود قریشی کی سیاسی خود کشی قرار دے رہے ہیں اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ان کے اس بیان کے نہ صرف انکے بلکہ تحریک انصاف کی مستقبل کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہونگے، ویسے بھی پاکستان میں سیاسی موسم بدلتے دیر نہیں لگتی اور پچھلے کچھ عرصے سے تبدیلی کی باتیں ہو رہی ہیں اور ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں متحرک دکھائی دے رہی ہیں اور اپوزیشن کی آل پارٹیزکانفرنس کی بھی تیاریاں جاری ہیں۔
دوسری طرف دونوں بڑی جماعتوں کی سرکردہ قیادت اور رہنماوں کے گرد بھی احتساب کا شکنجہ سخت ہوتاجا رہا ہے، ریفرنسز دائر ہو رہے ہیں تو کہیں کیسز میں فرد جرم عائد ہو رہی ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے لب و لہجہ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت بڑھتی جا رہی ہے۔ دونوں باپ بیٹا حکومت و اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ڈٹنے کے موقف پر سخت ہوتے جا رہے ہیں اور پیپلز پارٹی کی قیادت ان کے خلاف ہونیوالی احتساب کی کاروائیوں کو اٹھارویں ترمیم میں واپسی کیلئے حمایت حاصل کرنے سے جوڑ رہی ہے۔ اگرچہ ابھی تک پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کا بیانیہ تو یہی ہے کہ انکے پورے خاندان کو بھی جیلوں میں ڈال دیا جائے تو وہ اٹھارویں ترمیم کی واپسی اور دوسرے اقدامات پر حکومتی و مقتدر قوتوں کے دباو میں نہیں آئیں گے۔
دوسری طرف سیاست کے منجھے ہوئے کھلاڑی جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمن بھی ملک کی دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں سے کچھ نالاں دکھائی دے رہے ہیں اور ان بڑی جماعتوں کی قیادت سے گلے شکوے کرتے بھی دکھائی دے رہے ہیں اور پھر پاکستان مسلم لیگ(ن)کے اندر بھی تضاد واضع دکھائی دے رہا ہے ایک گروپ مقتدر قوتوں کے ساتھ بات چیت اور معاملہ فہمی کا حامی ہے تو وہیں دوسرا دھڑا سخت موقف اپنائے ہوئے ہے، لہذا ان حالات میں اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اپوزیشن جماعتیں اپنے اس بیانیہ پر قائم رہ سکیں گی۔
ادھر مریم نواز کی نیب پیشی کے موقع پر پیش آنے والا واقعہ بھی پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے اور مریم نواز کی گاڑی پر پتھراو کا معاملہ مریم نواز پر حملے کا رنگ دیا جا رہا پے اور جعمیت اہلحدیث کے رہنما پروفیسر ساجد میر نے مریم نواز سے حالیہ ملاقات کے بعد تو میڈیا کے سامنے انکشاف کیا ہے کہ مریم کی گاڑی پر دو نشانات سنائپر گن کے گولے کے ہیں اور مریم نواز کے قتل کی سازش قرار دیا جا رہا ہے جس کیلئے مریم نواز کے شوہر کیپٹن صفدر نے مقدمہ درج کروانے کیلئے بھی عدالت سے رجوع کیا ہے اور اس میں بھی اس کو قتل کی سازش قرار دیا گیا ہے اور وزیراعظم اور ان کی ٹیم کے اہم رہنما شہزاد اکبر اور نیب حکام کو نامزد کیا گیا ہے۔
اب انصاف کے بیانیہ پر قائم ہونیوالی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کیلئے یہ بہت بڑی آزمائش ہے کیونکہ ماضی میں کپتان کا بیانیہ رہا ہے کہ ایف آئی آر کروانا کسی بھی پاکستانی کا حق ہے، کیا اب وہ بیانیہ بدل گیا ہے یا کچھ اور معاملہ ہے کہ ایک شہری کو ایف آئی آر درج کروانے کیلئے عدالت سے رجوع کرنا پڑا ہے۔
اس سے قبل کرپٹ اور قانون شکن حکمرانوں کے دور میں تو ان کے اپنے خلاف سنگین مقدمات درج ہونے کی مثال موجود ہے۔ اب جب کہ ایسی جماعت برسراقتدار ہے جس کاوجود انصاف کے بیانیہ پر ہو اور اس دور میں اگر کسی شہری کو ایف آئی آر درج کروانے کا حق میسر نہیں آتا تو کیا یہ انصاف کے بیانیہ کی نفی نہیں ہوگا۔
دوسری جانب اقتصادی فرنٹ پر بھی بہتری آرہی ہے اور رواں مالی سال کے پہلے ماہ اقتصادی اعشاریوں میں واضح بہتری آئی ہے جبکہ حکومتی ٹیم نے منگل کو اسلام آباد میں موجودہ حکومت کی دوسالہ کارکردگی بارے بھی میڈیا کو آگاہ کیا ہے اور اس میں بھی بہتری کی جانب گامزن ہونے کے دعوے کئے گئے ہیں، اگر کپتان معاشی فرنٹ میں بھی بہتری لانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یقینی طور پر حکومت کی مشکلات میں کمی آئے گی لیکن سیاسی میدان میں صورتحال پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے، یہی نہیں بعض حلقوں کی جانب سے شاہ محمود قریشی کی سیاسی قربانی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں، البتہ سیاسی کہانی دلچسپ ہوتی جا رہی ہے اور جو صورتحال بن رہی ہے اس کے ملکی اندرونی سیاست پر جو اثرات ہوں گے وہ اگلے چند روز میں سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔
مگر اس کے خطے اور عالمی سطح پر جو اثرات ہوںگے وہ زیادہ اہمیت کے حامل ہیں اور پھر ہماری مالی و سیاسی پوزیشن بھی ایسی ہے کہ اس طرح کے کسی دوسرے تنازعے کے متحمل نہیں ہو سکتے، کیونکہ بعض سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ سعودی عرب پاکستان کو مالی امداد روکنے کے بارے میں سوچ رہا ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا جبکہ سفارتی و دفاعی تجزیہ کاروںکا خیال ہے کہ یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے حالیہ معاہدہ کے بعد سے امریکی صدر کے سامنے آنے والے بیانات میں جلد ایک عرب ملک کے ساتھ اسرائیل کے معاہدے کی باتیں سامنے آئی ہیں اور سفارتی و دفاعی تجزیہ کار صدر ٹرمپ کے اس بیان کو بھی سعودی عرب کی جانب اشارہ قرار دے رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس حوالے سے بھی پاکستان پر دباو بڑھ رہا ہے۔