قانون سازی پختونخوا اسمبلی سب سے آگے بلوچستان اسمبلی پیچھے
کے پی اسمبلی نے دوسرے سال کے دوران 59 اور پنجاب اسمبلی نے 41 قوانین پاس کیے
سندھ اسمبلی نے 24 اور بلوچستان اسمبلی نے 8 قوانین پاس کیے، پلڈاٹ سروے رپورٹ۔ فوٹو:فائل
پلڈاٹ سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان کی چاروں صوبائی اسمبلیوں کی کارکردگی کا تقابلی جائزہ لیا گیا۔
یہ تقابلی جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی نے دوسرے پارلیمانی سال کے اختتام پر دیگر صوبائی اسمبلیوں کی نسبت بہتر قانون سازی کی۔
کے پی اسمبلی نے دوسرے سال میں 59 قانون پاس کیے جبکہ پنجاب اسمبلی نے41 قوانین پاس کیے، سندھ اسمبلی نے 24 قوانین منظور کیے ہیں، بلوچستان اسمبلی دوسرے سال کے دوران صرف8 قوانین پاس کرکے تینوں اسمبلیوں سے پیچھے رہ گئی۔
قوانین کی منظوری کے تقابلی تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ بلوچستان اسمبلی کے مقابلے میں باقی 3 اسمبلیوں میں قانون سازی کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ۔ اگست 2020 میں ختم ہونے والے 2 پارلیمانی سالوں کے دوران ہر اسمبلی کے منظور کردہ قوانین پر نظر ڈالیں تو کے پی اسمبلی دو سال میں منظور شدہ 89مجموعی قوانین کے ذریعے دیگر اسمبلیوں سے آگے ہے۔
یہ تقابلی جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی نے دوسرے پارلیمانی سال کے اختتام پر دیگر صوبائی اسمبلیوں کی نسبت بہتر قانون سازی کی۔
کے پی اسمبلی نے دوسرے سال میں 59 قانون پاس کیے جبکہ پنجاب اسمبلی نے41 قوانین پاس کیے، سندھ اسمبلی نے 24 قوانین منظور کیے ہیں، بلوچستان اسمبلی دوسرے سال کے دوران صرف8 قوانین پاس کرکے تینوں اسمبلیوں سے پیچھے رہ گئی۔
قوانین کی منظوری کے تقابلی تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ بلوچستان اسمبلی کے مقابلے میں باقی 3 اسمبلیوں میں قانون سازی کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ۔ اگست 2020 میں ختم ہونے والے 2 پارلیمانی سالوں کے دوران ہر اسمبلی کے منظور کردہ قوانین پر نظر ڈالیں تو کے پی اسمبلی دو سال میں منظور شدہ 89مجموعی قوانین کے ذریعے دیگر اسمبلیوں سے آگے ہے۔