جی ایس پی پلس پاکستان کو معاشی فائدہ اٹھانے کیلیے 27 بڑی رکاوٹوں کا سامنا
توانائی بحران کا خاتمہ، امن وامان بحال، لیبررائٹس،جبری مشقت ختم، صنعتوں اورکارخانوں میں یونین سازی کا حق دینا ہوگا۔
توانائی بحران کا خاتمہ، امن وامان بحال، لیبررائٹس،ماحولیات، چائلڈ لیبر،جبری مشقت ختم، صنعتوں اورکارخانوں میں یونین سازی کا حق دینا ہوگا۔ فوٹو فائل
معاشی ماہرین اور انڈسٹری نے ملک میں جاری توانائی کے بحران اور امن و امان کے مسائل کو جی ایس پی پلس کے ممکنہ معاشی فوائد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے دیا ہے۔
جی ایس پی پلس کے ثمرات سمیٹنے کیلیے پاکستان کو سماجی تحفظ اور انسانی حقوق کے27بین الاقوامی کنونشنز پر بھی سختی سے عمل درآمد کرنا ہوگا جن میں لیبر رائٹس، ماحولیات اور گڈ گورننس کے کنونشنز شامل ہیں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے بنیادی اصولوں کے تحت صنعتوں اور کارخانوں میں یونین سازی، اجتماعی مفادکیلیے سوداکاری کو یقینی بنانا ہوگا جبکہ جبری یا رضاکارانہ مشقت، چائلڈ لیبر، کام کی جگہ پر جنس رنگ و نسل عقیدے کی بنیاد پر امتیازی طرز عمل کو ختم کرنا ہوگا مذکورہ27کنونشنز کی خلاف ورزی کی صورت میں یورپی یونین پاکستان کو دی جانے والی اس سہولت پر نظرثانی کی مجاز ہے سماجی تحفظ انسانی حقوق اور لیبر رائٹس پر عمل درآمد کیلیے انڈسٹری اور حکومت کو مشترکہ فریم ورک تیار کرنا ہوگا۔معاشی تجزیہ نگار محمد سہیل نے یورپی یونین کی جی ایس پی پلس سہولت کی راہ میں توانائی کے بحران کو سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے ان کاکہنا ہے کہ توانائی کی دستیابی کے ساتھ انرجی ٹیریف بھی اہم مسئلہ ہے۔
یورپی یونین کو برآمدات بڑھانے اور سہولت سے بھرپور استفادہ کرنے کیلیے امن و امان لازمی ہے تاکہ بیرونی خریدار پاکستان آسکیں۔ ایمرجنگ اکنامکس ریسرچ کے منیجنگ ڈائریکٹرمزمل اسلم نے جی ایس پی پلس سے ملنے والی ٹیریف رعایت مسابقت کی نظرہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے ان کاکہنا ہے کہ پاکستانی ایکسپورٹرز نے قومی حکمت عملی اختیار نہ کی تو ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کیلیے ٹیریف کی رعایت کا فائدہ یورپی درآمد کنندگان کو فائدہ پہنچے گا ۔
پاکستانی ایکسپورٹرزکے مارجن میں اب کافی گنجائش ہے اور حریف تجارتی ملکوں سے بھی مسابقت آسان ہے تاہم انفرادی فائدہ اٹھانے کے لیے مصنوعات کی ایکسپورٹ پرائس کم کرنے سے پاکستان کو نقصان ہوگا اور برآمدات میں اضافے کے اندازے غلط ہوجائیں گے، گارمنٹ کے ساتھ لیدر مصنوعات میں بھی وسیع مواقع موجود ہیں ٹیکسٹائل اور گارمنٹ مصنوعات کا معیار بہتر بنانے اور پیداواری لاگت کم رکھنے کے لیے اعلیٰ معیار کی خام کپاس کا حصول ناگزیر ہے۔
سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر افتخار علی ملک نے جی ایس پی پلس کابھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے انھوں نے پاکستانی انڈسٹری پر زور دیا کہ ایسی مصنوعات تیار کی جائیں جو یورپی یونین کے معیارکے مطابق ہوں۔ سائٹ ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین یونس ایم بشیر نے کہا کہ ملک میں جاری توانائی کا بحران اور امن و امان کے مسائل پیداواری سرگرمیوں میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے یورپی یونین کی جانب سے ملنے والی اس رعایت کے فوائد سمیٹنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہوگا ،انھوں نے تجویز دی کہ یورپی یونین کے لیے پاکستان میں خصوصی اکنامک زون قائم کیے جائیں۔ وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان کے قائم مقام صدر اظہر سعید بٹ نے کہا ہے کہ جی ایس پی پلس کی سہولت سے استفادہ کرنے کے لیے پیداواری سرگرمیوں کا بلاتعطل جاری رہنا ناگزیر ہے اس سہولت سے سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوگا جبکہ بنگلہ دیش اور ملائیشیا منتقل ہونے والی صنعتیں بھی پاکستان واپس آنے پر مجبور ہوں گی ۔
جی ایس پی پلس کے ثمرات سمیٹنے کیلیے پاکستان کو سماجی تحفظ اور انسانی حقوق کے27بین الاقوامی کنونشنز پر بھی سختی سے عمل درآمد کرنا ہوگا جن میں لیبر رائٹس، ماحولیات اور گڈ گورننس کے کنونشنز شامل ہیں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے بنیادی اصولوں کے تحت صنعتوں اور کارخانوں میں یونین سازی، اجتماعی مفادکیلیے سوداکاری کو یقینی بنانا ہوگا جبکہ جبری یا رضاکارانہ مشقت، چائلڈ لیبر، کام کی جگہ پر جنس رنگ و نسل عقیدے کی بنیاد پر امتیازی طرز عمل کو ختم کرنا ہوگا مذکورہ27کنونشنز کی خلاف ورزی کی صورت میں یورپی یونین پاکستان کو دی جانے والی اس سہولت پر نظرثانی کی مجاز ہے سماجی تحفظ انسانی حقوق اور لیبر رائٹس پر عمل درآمد کیلیے انڈسٹری اور حکومت کو مشترکہ فریم ورک تیار کرنا ہوگا۔معاشی تجزیہ نگار محمد سہیل نے یورپی یونین کی جی ایس پی پلس سہولت کی راہ میں توانائی کے بحران کو سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے ان کاکہنا ہے کہ توانائی کی دستیابی کے ساتھ انرجی ٹیریف بھی اہم مسئلہ ہے۔
یورپی یونین کو برآمدات بڑھانے اور سہولت سے بھرپور استفادہ کرنے کیلیے امن و امان لازمی ہے تاکہ بیرونی خریدار پاکستان آسکیں۔ ایمرجنگ اکنامکس ریسرچ کے منیجنگ ڈائریکٹرمزمل اسلم نے جی ایس پی پلس سے ملنے والی ٹیریف رعایت مسابقت کی نظرہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے ان کاکہنا ہے کہ پاکستانی ایکسپورٹرز نے قومی حکمت عملی اختیار نہ کی تو ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کیلیے ٹیریف کی رعایت کا فائدہ یورپی درآمد کنندگان کو فائدہ پہنچے گا ۔
پاکستانی ایکسپورٹرزکے مارجن میں اب کافی گنجائش ہے اور حریف تجارتی ملکوں سے بھی مسابقت آسان ہے تاہم انفرادی فائدہ اٹھانے کے لیے مصنوعات کی ایکسپورٹ پرائس کم کرنے سے پاکستان کو نقصان ہوگا اور برآمدات میں اضافے کے اندازے غلط ہوجائیں گے، گارمنٹ کے ساتھ لیدر مصنوعات میں بھی وسیع مواقع موجود ہیں ٹیکسٹائل اور گارمنٹ مصنوعات کا معیار بہتر بنانے اور پیداواری لاگت کم رکھنے کے لیے اعلیٰ معیار کی خام کپاس کا حصول ناگزیر ہے۔
سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر افتخار علی ملک نے جی ایس پی پلس کابھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے انھوں نے پاکستانی انڈسٹری پر زور دیا کہ ایسی مصنوعات تیار کی جائیں جو یورپی یونین کے معیارکے مطابق ہوں۔ سائٹ ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین یونس ایم بشیر نے کہا کہ ملک میں جاری توانائی کا بحران اور امن و امان کے مسائل پیداواری سرگرمیوں میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے یورپی یونین کی جانب سے ملنے والی اس رعایت کے فوائد سمیٹنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہوگا ،انھوں نے تجویز دی کہ یورپی یونین کے لیے پاکستان میں خصوصی اکنامک زون قائم کیے جائیں۔ وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان کے قائم مقام صدر اظہر سعید بٹ نے کہا ہے کہ جی ایس پی پلس کی سہولت سے استفادہ کرنے کے لیے پیداواری سرگرمیوں کا بلاتعطل جاری رہنا ناگزیر ہے اس سہولت سے سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوگا جبکہ بنگلہ دیش اور ملائیشیا منتقل ہونے والی صنعتیں بھی پاکستان واپس آنے پر مجبور ہوں گی ۔