عوام کی آسودہ حالی کا سوال

عمران خان کے دو برس کے اقتدار میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پہلے سے زیادہ کرپشن ہوئی ہے۔

عمران خان کے دو برس کے اقتدار میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پہلے سے زیادہ کرپشن ہوئی ہے۔ (فوٹو، فائل)

وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت کی دوسالہ مدت کے اختتام پرکہا ہے کہ حکومت کے سامنے تین بڑے چیلنجز تھے۔ توانائی،گردشی قرضے اور پنشن۔ قوم ان کی متحمل نہیں ہوسکتی تھی،اس لیے پنشن فنڈز اسکیم لائیں گے، 14ارب روپے پی ٹی وی کے ملازمین کی پنشن میں چلے جاتے ہیں، اسلام آباد کا بجٹ 500 ارب ہے، 460 پنشن کی مد میں خرچ ہوجاتے ہیں، ملک پنشن کی وجہ سے دبا ہوا ہے، جس سے نکلنے کے لیے ملائیشیا سے اس بارے میں کچھ سیکھ رہے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 24 سالہ جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی،کمزور طبقہ کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے، جتنا بھی مشکل وقت آئے، عوام کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا۔ اجلاس میں حکومت کی دوسالہ کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی اور نمایاں کامیابیوں کا ذکرکیا گیا۔ کابینہ نے پنشن اورحج فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا، پٹرول بحران انکوائری کمیشن میں2 نئے ارکان شامل کرنے، پی ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز، چیئرمین کی نامزدگی کی منظوری دی۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوسالہ دوراقتدار پر ملے جلے رد عمل کا اظہار عوامی وسیاسی حلقوں، اقتصادی مبصرین اور تجزیہ کاروں کی طرف سے جاری ہے، بلاشبہ حکومت کے معاشی شعبے میں جمہوری ثمرات، عوامی ریلیف اورگراس روٹ لیول پر ہونے والے اقدامات اور پالیسیوں کی حمایت یا مخالفت کرنے سے کہیں بہتر انداز نظر ملکی معیشت وسیاست کے استحکام اور تبدیلی کا عہد وپیمان ہے جو قوم کو یاد ہے۔

حکومتی حلقے عمران خان کی کارکردگی کوغیر معمولی اورشاندار قرار دے رہے ہیں، یہ ان کا جمہوری حق ہے، پارٹی کی معیاد ابھی باقی ہے اور توقع یہی کی جانی چاہیے کہ حکومت اپنی باقی آئینی مدت کو ایک بریک تھروکے لیے استعمال کرے اور اس کے لیے ضروری ہوگا کہ وزیراعظم اپنی کارکردگی کا خود احتسابی کے جذبہ سے جائزہ لیں، زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھتے ہوئے ٹیم کی جملہ پرفارمنس کو سنگ میل نہ بنائیں، ابھی حکومت کو خارجہ پالیسی، خطے کی صورتحال،کشمیر اور پاک بھارت تعلقات، مشرق وسطیٰ کے منظرنامہ میں سپر ڈائنامک تبدیلیوں سمیت اسرائیل ومتحدہ عرب امارات معاہدہ ، پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ رشتوں کی حساسیت، امریکا وافغانستان کے سیاق وسباق میں طالبان سے مذاکرات سمیت داخلی امن وامان، شفاف انتظامی ڈھانچہ کی تشکیل نو، غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگارصنعتی ماحول کے ہمہ جہتی اقدامات کا دریا پارکرنا ہے،گڈگورننس کے اہداف پورے کرنے ہیں اور ملک کوکرپشن فری بنانے کا اعصاب شکن چیلنج سے نمٹنا ہے۔

مبصرین کے مطابق حکومت تعلیم وصحت، کلچر، سیاحت ، نجکاری ، برآمدات، روزگار، مہنگائی کے ایشوز پر الجھن ختم کرے ، چینی،گندم اورآٹے کی فراہمی کا ایک فالٹ فری اور شفاف میکنزم اس کا ٹارگٹ ہونا چاہیے،کاروباری سرگرمیاں کورونا کے باعث معطل رہی ہیں،ایک کروڑ سے زائد لوگ بیروزگار ہیں، خط افلاس سے نیچے زندگی بسرکرنے والوں کی تعداد بھی پانچ کروڑ سے تجاوزکرگئی ہے، تعلیم کا سب سے بڑا پروگرام یکساں نصاف کے نفاذ کا ہے، حکومت کا عزم ہے کہ وہ طبقاتی نظام تعلیم وتدریس کا خاتمہ کرے گی۔

ریاست مدینہ کی جانب حکومت کے سفرکا عندیہ بھی وزیراعظم کے پیش نظر ہے، یہ اہم کام ہیں،کورونا کا درحقیقت ''لاسٹ فیز'' چل رہا ہے، عالمی سطح پر بگ گیٹس اور عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کی کورونا کے انسداد کے لیے اقدامات کی تعریف کی ہے تاہم عوام کو صائب طریقے سے خبردارکیا گیا ہے کہ وہ ایس اوپیز پر سختی سے عمل کریں، حکومت کوکورونا وائرس کے اثرات کا حل بھی نکالنا ہے، اس وائرس کے معاشی اثرات اور صحت نظام اور انفراسٹرکچرکے استحکام، ضروری سہولتوں کی فراہمی بھی مکمل کرنی ہے۔ لہذا حکومت کو آیندہ کے لیے اپنی کمرکس لینی چاہیے، دنیا بدل رہی ہے۔

عالمی طاقتوں کے خفیہ گیم پلان میں غیر محسوس تبدیلیوں کا سلسہ جاری ہے، مشرق وسطیٰ کا سیناریو پاکستان کے حکمرانوں کے لیے نئی تشویش اور توجہ کا سامان لیے ہوئے ہے، اندریں حالات بھی خارجہ تعلقات اور مقبوضہ جموں وکشمیر کی اندوہناک صورتحال کے لیے سیاسی وعسکری قیادت کے سامنے صبرآزما مراحل حکومت کا امتحان ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی ساری کوشش یہ ہے کہ کسی طرح کرپشن کیسز ختم ہو جائیں،کسی صورت این آر او نہیں دونگا،کیسز ختم کرنا حکومت کے اختیار میں نہیں۔ وزیراعظم نے وزراء کو ڈسپلن پر توجہ دینے کی ہدایت کردی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ اجلاس میں عمران خان نے اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کیسز ہم نے نہیں بنائے، نیب اوردیگر عدالتوں میں زیرسماعت کیسز اپنے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ وفاقی وزراء نے اجلاس میں مہنگائی کا شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت کے لیے مہنگائی بڑا چیلنج ہے، دو سال میں مہنگائی میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ فواد چوہدری نے کہا صوبائی حکومتیں مہنگائی کنٹرول کرنے میں غیرسنجیدہ دکھائی دیتی ہیں۔


وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تین تین وزراء اپنی کارکردگی سے متعلق پریس کانفرنسزکرکے کارکردگی قوم کے سامنے رکھیں ۔ وفاقی وزرا نے دعوی کیا ہے کپتان کریز پر سیٹ ہوگیا اور لمبی اننگزکھیلنے کے لیے تیار ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کے دوسال مکمل ہونے پر شبلی فراز نے اسدعمر، حفیظ شیخ ، شاہ محمود، حماد اظہر اور معاون خصوصی ثانیہ نشترکے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا جمہوریت میں حکومت عوام کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے، ہماری سیاست کا مقصد فلاحی ریاست کا قیام ہے، وزیراعظم عمران خان محنتی اور دیانت دارلیڈر ہیں۔

ان کی قیادت میں ترقی کا سفرکررہے ہیں، احتساب، انصاف، میرٹ اور پسماندہ طبقے کی ترقی ان کی بصیرت ہے۔ وزیر ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہمیں مشکلات کا سامنا رہا، حکومت پر نا اہلی کے الزامات لگائے جاتے ہیں، کہا جاتا ہے عمران خان دوسروں کو ساتھ لے کر نہیں چلتے، یہ سچ ہے، عمران خان دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے این آر او نہیں دے سکتے، وہ ملکی مفاد کے لیے ساتھ چلنے کی بات کرتے ہیں، وہ ریاستی اداروں اور اکائیوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا جب حکومت آئی تو بحرانی کیفیت تھی 20 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا زرمبادلہ کے ذخائر آدھے رہ گئے تھے۔

دیوالیہ ہونے کا خطرہ تھا،ہم نے مشکل حالات میں بڑے فیصلے کیے، آئی ایم ایف کے ساتھ اہم معاہدہ کیا، بیرونی خسارہ 20 ارب ڈالر سے کم کرکے3ارب ڈالرکردیا گیا۔ تاریخ میں پہلی بارحکومت نے اخراجات میں کمی کی، ہم نے ماضی کے قرضوں کا بوجھ کم کیا، ہم نے 5 ہزار ارب روپے کے قرضے واپس کیے، فوج کے اخراجات کو منجمد کیا، برآمدات میں اضافے کے لیے مراعات دیں، زراعت کو 280 ارب روپے کا پیکیج دیا۔ وزیر اعظم کی معاون خصوصی ثانیہ نشترنے کہا احساس کفالت پروگرام حکومت کا بہترین منصوبہ ہے، اس پروگرام کے تحت شفاف طریقے سے مالی امداد تقسیم کی گئی، احساس کفالت پروگرام کے تحت 70 لاکھ مستحقین کوماہانہ وظیفہ دیاجارہا ہے، احساس لنگر خانوں پرتوجہ دی گئی۔

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کابینہ ارکان نے وزیراعظم کو تالیاں بجا کر زبردست خراج تحسین پیش کیا اورکہا انھوں نے مشکلات میں گھرے ملک کو بحرانوں سے نکالا، ان کی قیادت میں پاکستان نے کورونا سے نمٹنے میں قابل تقلید کردار ادا کیا۔ اقوام متحدہ میں وزیراعظم نے نہایت جرات مندانہ انداز میں مسئلہ کشمیرکو اجاگرکیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سفارتی کامیابیوں اور اسد عمر نے ملکی ترقی کے لیے حکومتی منصوبہ بندی سے آگاہ کیا۔

دریں اثنا وزیراعظم کی گندم اور چینی کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی اورکہا اس حوالے سے آرڈیننس پر سختی سے عمل کیا جائے۔ حقیقت میں حکومت کوگندم وچینی کے مسئلہ کوہمیشہ کے لیے حل کرنے کی شافی وکافی حکمت عملی اختیارکرنی پڑے گی۔

مافیا ازم کو دفن کرنا ہوگا۔حکومت کی دوسالہ کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ حکمرانوں نے دوسال میں تباہی کے علا وہ کچھ نہیں دیا، بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران نے بدترین معیشت دی اورکرپشن زیادہ ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف نے ٹویٹر پر اپنے بیان میں حکومت کی دوسالہ کارکردگی پر سخت تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی دوسالہ کارکردگی ناکامی کی منہ بولتی تصویرہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے ملک اور عوام کو دوسال میں تباہی کے علاوہ کچھ نہیں دیا ،گورننس ، خارجہ پالیسی ہو یا معاشی پالیسی عمران خان کی قومی معاملات میں بدانتظامی مزید بڑھی ہے،عوام کو اس بدترین سیاسی انجینئرنگ کے تجربے کی سزا مسلسل بھگتنا پڑرہی ہے۔

دریں اثنا پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ عمران خان کو حکومت کرتے ہوئے دوسال ہوگئے، انھوں نے ہمیں ملکی تاریخ کی بدترین معیشت دی، دوسالوں میں کشمیر سے سعودیہ تک خارجہ پالیسی ناکام رہی۔ عمران خان کے دوسالوں کے دوران جمہوریت اور انسانی حقوق نشانہ بنے۔

اس عرصے کے دوران ملک میں سب سے زیادہ بیروزگاری ہوئی۔ عمران خان کے دو برس کے اقتدار میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پہلے سے زیادہ کرپشن ہوئی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ کراچی کو درپیش معاملات کا حل تلاش کرنے میں تاخیر نہ کی جائے، اسٹیک ہولڈرزکو ساتھ ملایا جائے، سخت بیانات سے گریزکیا جائے، وزرا اور حکومتی افراد میں سیاسی، فکری اور پالیسی ہم آہنگی کویقینی بنایا جائے، اسمارٹ لاک ڈاؤن اور creative سماجی فاصلہ کی منطق سے زیادہ اہم کام کورونا کی پیدا کردہ اذیتوں کا خاتمہ ہے۔ حکمران اپنے دل پر ہاتھ رکھ کرکہیں کہ کیا واقعی قوم آسودہ حال ہوگئی ہے۔
Load Next Story