اقتصادی صورتحال میں بہتری آئی شرح نمو29سے بڑھ کر51فیصد ہو گئی نواز شریف
پاکستان کوجی ایس پی پلس کادرجہ ملناامدادسے تجارت کی طرف معاشی سمت تبدیل کرنے کی ہماری کوششوں کی ایک مثال ہے
نوجوان بہت ذمے دارہیں،قرضے کی رقم کاموثراستعمال کریں گے،بجلی کامسئلہ راتوں رات حل نہیں ہوسکتا،ارکان پارلیمنٹ سے گفتگو ۔فوٹو:آئی این پی
وزیراعظم نوازشریف نے کہاہے کہ ملک کی اقتصادی صورتحال گزشتہ سال کی نسبت بہترہوئی ہے۔
گزشتہ سال جولائی سے ستمبرتک شرح نمو 2.9فیصدتھی جورواںسال کے اس عرصے میں5.1 فیصد ہے۔آئندہ 4سال میں جی ڈی پی کی شرح نم 7فیصدتک بڑھاناچاہتے ہیں۔ ارکان پارلیمنٹ کے ایک گروپ سے گفتگومیں انھوںنے کہاکہ 1991 میںمیری حکومت کے پہلے دورمیں معاشی صورتحال بہت بہترتھی، ہماری معاشی حالت ہمسایہ ممالک کے برابرجبکہ بعض پہلوئوں میں ہم ان سے آگے تھے لیکن اہم منصوبوں پرفیصلہ سازی میں کمی کی وجہ سے ہم اس صورتحال تک جاپہنچے جس کا آج ہمیں سامنا ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ جی ایس پی پلس کادرجہ ملناامدادسے تجارت کی طرف معیشت کی سمت تبدیل کرنے کی ہماری کوششوں کی ایک مثال ہے۔ ٹیکسٹائل کے علاوہ چمڑے کی صنعت جیسے دوسرے شعبوں کوبھی بعض پہلوئوں میں ہم ان سے آگے تھے لیکن اہم منصوبوں پرفیصلہ سازی میں کمی کی وجہ سے ہم اس صورتحال تک جاپہنچے جس کا آج ہمیں سامناہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ جی ایس پی پلس کادرجہ ملناامدادسے تجارت کی طرف معیشت کی سمت تبدیل کرنے کی ہماری کوششوں کی ایک مثال ہے۔
ٹیکسٹائل کے علاوہ چمڑے کی صنعت جیسے دوسرے شعبوں کوبھی اس سے فائدہ ہوگا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے جامشورو کول پاورپلانٹ میں سرمایہ کاری کے فیصلے سے گڈانی کول پاور پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کے لیے بھی راہ ہموار ہوگی، معیشت پرمثبت اثر پڑے گااور ہم 3سے 4سال میں توانائی کے اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ وزیراعظم نے یوتھ بزنس لون اسکیم کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ پہلے مرحلے میں اس سے تقریبا 30لاکھ افرادکوفائدہ ہوگا۔ بعض افراداس منصوبے پرخدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔
ہمارے نوجوان بہت ذمے دار ہیں، مجھے یقین ہے کہ وہ قرضے کی رقم کاموثرطریقے سے استعمال کریںگے۔ ایس ایم ایزامریکا، جاپان اورجرمنی کی معیشت میںریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اوریہ ہماری انتخابی مہم کاوعدہ تھا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ بجلی کے مسئلے میں کچھ ریلیف دیکھنے میں آیاہے لیکن یہ مسئلہ راتوں رات حل نہیں ہو سکتا۔ ہم نے طویل مدتی کے ساتھ مختصرمدتی منصوبے بھی بنائے ہیں۔ دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لیے ہم نے کل جماعتی کانفرنس میں ہونے والے فیصلے کے مطابق مذاکرات کاراستہ اختیارکیاہے۔ امیدہے کہ مثبت نتائج سامنے آئیںگے۔ انھوں نے کہاکہ کراچی آپریشن کامیابی سے جاری ہے اورہم نے مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے ضروری قانون سازی کی ہے۔ این این آئی نے بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف اسلام آبادسے لاہور پہنچ گئے ہیں۔ وہ آج گورنرہائوس لاہورمیں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے زیراہتمام تقریب میںشریک ہوں گے۔
گزشتہ سال جولائی سے ستمبرتک شرح نمو 2.9فیصدتھی جورواںسال کے اس عرصے میں5.1 فیصد ہے۔آئندہ 4سال میں جی ڈی پی کی شرح نم 7فیصدتک بڑھاناچاہتے ہیں۔ ارکان پارلیمنٹ کے ایک گروپ سے گفتگومیں انھوںنے کہاکہ 1991 میںمیری حکومت کے پہلے دورمیں معاشی صورتحال بہت بہترتھی، ہماری معاشی حالت ہمسایہ ممالک کے برابرجبکہ بعض پہلوئوں میں ہم ان سے آگے تھے لیکن اہم منصوبوں پرفیصلہ سازی میں کمی کی وجہ سے ہم اس صورتحال تک جاپہنچے جس کا آج ہمیں سامنا ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ جی ایس پی پلس کادرجہ ملناامدادسے تجارت کی طرف معیشت کی سمت تبدیل کرنے کی ہماری کوششوں کی ایک مثال ہے۔ ٹیکسٹائل کے علاوہ چمڑے کی صنعت جیسے دوسرے شعبوں کوبھی بعض پہلوئوں میں ہم ان سے آگے تھے لیکن اہم منصوبوں پرفیصلہ سازی میں کمی کی وجہ سے ہم اس صورتحال تک جاپہنچے جس کا آج ہمیں سامناہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ جی ایس پی پلس کادرجہ ملناامدادسے تجارت کی طرف معیشت کی سمت تبدیل کرنے کی ہماری کوششوں کی ایک مثال ہے۔
ٹیکسٹائل کے علاوہ چمڑے کی صنعت جیسے دوسرے شعبوں کوبھی اس سے فائدہ ہوگا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے جامشورو کول پاورپلانٹ میں سرمایہ کاری کے فیصلے سے گڈانی کول پاور پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کے لیے بھی راہ ہموار ہوگی، معیشت پرمثبت اثر پڑے گااور ہم 3سے 4سال میں توانائی کے اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ وزیراعظم نے یوتھ بزنس لون اسکیم کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ پہلے مرحلے میں اس سے تقریبا 30لاکھ افرادکوفائدہ ہوگا۔ بعض افراداس منصوبے پرخدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔
ہمارے نوجوان بہت ذمے دار ہیں، مجھے یقین ہے کہ وہ قرضے کی رقم کاموثرطریقے سے استعمال کریںگے۔ ایس ایم ایزامریکا، جاپان اورجرمنی کی معیشت میںریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اوریہ ہماری انتخابی مہم کاوعدہ تھا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ بجلی کے مسئلے میں کچھ ریلیف دیکھنے میں آیاہے لیکن یہ مسئلہ راتوں رات حل نہیں ہو سکتا۔ ہم نے طویل مدتی کے ساتھ مختصرمدتی منصوبے بھی بنائے ہیں۔ دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لیے ہم نے کل جماعتی کانفرنس میں ہونے والے فیصلے کے مطابق مذاکرات کاراستہ اختیارکیاہے۔ امیدہے کہ مثبت نتائج سامنے آئیںگے۔ انھوں نے کہاکہ کراچی آپریشن کامیابی سے جاری ہے اورہم نے مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے ضروری قانون سازی کی ہے۔ این این آئی نے بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف اسلام آبادسے لاہور پہنچ گئے ہیں۔ وہ آج گورنرہائوس لاہورمیں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے زیراہتمام تقریب میںشریک ہوں گے۔