شام کے شہر غوطہ میں کیمائی ہتھیار استعمال ہوئے اقوام متحدہ لبنان میں شدید برف باری شامی کیمپوں میں متع?
سیرن گیس راکٹوں کےذریعےپھینکی گئی،دیگر 4شہروں جوبر، سراقب، اشرفیہ سہنایا اور خان العسل میں بھی استعمال ہوا، حتمی رپورٹ
شام میں شدید برفباری کے باعث سڑک پر کھڑی کار مکمل طور پر برف سے ڈھکی ہوئی ہے جبکہ ایک شہری اس کے پاس سے گزر رہاہے۔فوٹو:رائتڑز
سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوام متحدہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے معائنہ کاروں کی رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ21 اگست کو شام کے شہر غوطہ میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گیے تھے۔
معائنہ کاروں نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا یہ کیمیائی ہتھیار شامی حکومت کی جانب سے استعمال کیے گئے یا باغیوں کی جانب سے۔ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی ٹیم کی سربراہی سویڈن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ایک سیلسٹروم کر رہے تھے۔ ڈاکٹر سیلسٹروم نے کہا غوطہ میں سیرن گیس کا استعمال زمین سے زمین پر مار کرنے والے راکٹوں کے ذریعے کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے جمعرات کو اپنی حتمی رپورٹ میں کہاکہ اس بات کے بھی شواہد ملے ہیں کہ کیمیائی ہتھیار غوطہ کے علاوہ 4 مزید علاقوں میں بھی استعمال کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق جن مزید 4 علاقوں میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ہوا ، ان میں جوبر، سراقب، اشرفیہ صحنایا اور خان العسل شامل ہیں۔ شام کے شہر حلب میں شامی حکام نے انسانی ہمدری کی بنیادپر جیل میں قید 336 افراد کو رہا کردیا۔
ادھر سعودی حکومت نے حج کی غرض سے آئے 400 شامی حجاج کوفوری طور پر ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا جو حج کے بعد واپس شام نہیں گئے تھے۔ شام میں حکومت کے جبرو تشدد کے نتیجے میں گھربار چھوڑنے والے لاکھوں باشندوں کو اندرون اور بیرون ملک کہیں بھی امن وعافیت نہیں مل سکی، سخت سردی کے باعث کئی بچے جاں بحق اور متعدد بیمار ہوگئے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہاکہ بہت کم تعداد میں شامی پناہ گزینوں کو پناہ دینے کے تیار ہونے پر یورپی رہنماؤں کو شرم آنی چاہیے، لبنان میںمسلسل برف باری اور جان لیوا سردی سے جیلوں میں قیدیوں اور خیمہ بستیوں میں پناہ گزینوں کی زندگیاں مزید خطرات میں گھر چکی ہیں، سخت سردی سے حلب کی سرکاری جیل میں زیرحراست 10افراد جاں بحق ہو گئے۔ مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں شدید سردی، اسرائیل، اردن اور لبنان میں برف باری کا20 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔
معائنہ کاروں نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا یہ کیمیائی ہتھیار شامی حکومت کی جانب سے استعمال کیے گئے یا باغیوں کی جانب سے۔ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی ٹیم کی سربراہی سویڈن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ایک سیلسٹروم کر رہے تھے۔ ڈاکٹر سیلسٹروم نے کہا غوطہ میں سیرن گیس کا استعمال زمین سے زمین پر مار کرنے والے راکٹوں کے ذریعے کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے جمعرات کو اپنی حتمی رپورٹ میں کہاکہ اس بات کے بھی شواہد ملے ہیں کہ کیمیائی ہتھیار غوطہ کے علاوہ 4 مزید علاقوں میں بھی استعمال کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق جن مزید 4 علاقوں میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ہوا ، ان میں جوبر، سراقب، اشرفیہ صحنایا اور خان العسل شامل ہیں۔ شام کے شہر حلب میں شامی حکام نے انسانی ہمدری کی بنیادپر جیل میں قید 336 افراد کو رہا کردیا۔
ادھر سعودی حکومت نے حج کی غرض سے آئے 400 شامی حجاج کوفوری طور پر ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا جو حج کے بعد واپس شام نہیں گئے تھے۔ شام میں حکومت کے جبرو تشدد کے نتیجے میں گھربار چھوڑنے والے لاکھوں باشندوں کو اندرون اور بیرون ملک کہیں بھی امن وعافیت نہیں مل سکی، سخت سردی کے باعث کئی بچے جاں بحق اور متعدد بیمار ہوگئے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہاکہ بہت کم تعداد میں شامی پناہ گزینوں کو پناہ دینے کے تیار ہونے پر یورپی رہنماؤں کو شرم آنی چاہیے، لبنان میںمسلسل برف باری اور جان لیوا سردی سے جیلوں میں قیدیوں اور خیمہ بستیوں میں پناہ گزینوں کی زندگیاں مزید خطرات میں گھر چکی ہیں، سخت سردی سے حلب کی سرکاری جیل میں زیرحراست 10افراد جاں بحق ہو گئے۔ مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں شدید سردی، اسرائیل، اردن اور لبنان میں برف باری کا20 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔