کراچی کو اربن اتفاق رائے کی ضرورت

شہر قائد کو تو مجرمانہ غفلت اورغیر فعالیت ، بدانتظامی، سیاسی محاذ آرائی اور قبضہ گیری کی خواہش نے برباد کیا ہے۔

شہر قائد کو تو مجرمانہ غفلت اورغیر فعالیت ، بدانتظامی، سیاسی محاذ آرائی اور قبضہ گیری کی خواہش نے برباد کیا ہے۔ فوٹو؛ فائل

وفاق اورسندھ حکومت کے درمیان کراچی کے لیے6 شعبوں میں ملکرکام کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے، شاید کراچی کو ''پیرس'' بنانے کا پروگرام ہے۔رابطوں کے لیے وفاقی اور صوبائی نمایندوں کی ایک رابطہ کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔

کراچی عروس البلاد سے مسائلستان کیسے بنا، یہ داستان تو خاصی طویل اور المیوں سے بھرپور ہے، لیکن سیاسی طلسم ہوش ربا بھی۔اختیارات، فنڈز اور عدم دلچسپی کے زبانی دعوؤں اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے عبارت جب کہ عوام ایک ایسی بندگلی میں کھڑے ہیں،جہاں انھیں کوئی راستہ نظر نہیں آتا کہ آخر ہوگا کیا؟موجودہ منظرنامے کو دیکھیں تو وفاقی حکومت پی ٹی آئی صوبائی حکومت پیپلز پارٹی اور شہری حکومت متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کی ہے اور ان تینوں پارٹیوں کی جانب سے سیاسی کشمکش نے شہرکو ایک طلسم کدہ بنا دیا ہے، عوام کی مشکلات کب حل ہوں گی۔

اس سوال کا جواب کسی کو نہیں معلوم اور نہ ہی کوئی ٹائم فریم ہے۔کراچی کے معاملے پر اتفاق ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں ہفتے ہی سپریم کورٹ نے کراچی رجسٹری میں کیس کی سماعت کرتے ہوئے شہریوں کی مدد کے لیے وفاقی حکومت کے آنے کو سندھ حکومت کی ناکامی قرار دیا تھا۔

شہرکراچی اس وقت مختلف مسائل کا سامنا کررہا ہے اور حالیہ بارشوں کے بعد شہر میں نالوں اور علاقوں کی صفائی نہ ہونے کے بعد صورتحال انتہائی خراب ہوگئی تھی۔اربن فلڈ آنے سے شہریوں کو جن مصائب وآلام کا سامنا کرنا پڑا وہ المناک داستان سے کسی طور پرکم نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ایک طویل عرصے سے کراچی کے معاملات پر یہ تینوں جماعتیں ایک دوسرے پر الزام لگاتی آرہی تھیں۔

اب جو نوید عوام کو سنائی گئی ہے وہ کچھ یوں ہے کہ کراچی کے جن 6مسئلوں پر ملکر کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ان میں پہلا صاف پانی کی فراہمی، دوسرا نکاسی آب کا نظام ٹھیک کرنا اورگندے پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانا، تیسرا کچرا صاف کرنا جو نکاسی آب میں بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے، چوتھا نالوں کی صفائی اور ان پر قائم تجاوزات ختم کرنا، پانچواں خصوصی سڑکوں کی حالت بہتر بنانا اور چھٹا ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر بنانا ہے۔

کراچی پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اب ہر طرف کچرے کے ڈھیر' سیوریج لائنیں بند ہونے کے ساتھ ساتھ پورے شہر میں مکھیوں کا غلبہ ہے۔ ہم اس حقیقت سے کیسے انکار کرسکتے ہیں کہ جمہوری ادوار میں ہمیشہ اختیارات ووسائل کی نچلی سطح پر تقسیم میں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں اور ایسا بلدیاتی نظام چاروں صوبوں میں لایا گیا ہے کہ اختیارات ووسائل صوبائی حکومتوں کے پاس رہیں تاکہ وہ اپنے منتخب اراکین کے ذریعے لوگوں کے کام کرکے اپنی جماعت کے لیے مستقبل میں ووٹ لے سکیں اور برائے نام بلدیاتی نظام رائج کرکے صوبائی حکومتوں نے عوام کے غیض وغضب کے سامنے یہی موقف اپنایا ہے کہ یہ تمام مسائل بلدیاتی میئرزکی ذمے داری ہے کہ وہ حل کریں۔

کراچی کو اس حال تک پہنچانے کے ذمے داران اور ان کے طریقہ کارکی بہت طویل فہرست ہے۔ بارش کے گزشتہ دواسپیل کے بعد پوری دنیا میں کراچی شہر سیلاب زدہ شہر کے طور پر نمایاں ہوا اور تادم تحریرکراچی میں فوری طور پر بارش کے ایک اور اسپیل کا امکان ظاہرکیا جا رہا ہے اور عاشورہ محرم کے دنوں میں بارش کے چوتھے اسپیل کے امکانات بھی بنتے نظر آرہے ہیں۔کراچی کی عوام پچھلی بارشوں کے پانی،کچرے اورمکھیوں سے پریشان ہوکر وبائی امراض کا شکار ہوتی چلی جا رہی ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے میئرکراچی وسیم اختر سے جب بھی سوال پوچھا تو ان کا جواب یہی ہوتا ہے کہ ہمارے پاس اختیارات ووسائل کی کمی ہے جس کے باعث ہم اپنی بھرپورکوششوں کے بعد اس سے زیادہ کام نہیں کرپا رہے۔ جنرل مشرف نے ایک آئیڈیل مقامی حکومتوں کا نظام دیا تھا جس کے ذریعے عام آدمی کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوئے اور ریکارڈ ترقیاتی کام خود مقامی نمایندوں نے کرائے۔

ریونیوکی مد میں وفاق کو ستر فیصد اور سندھ کو93فیصد دینے والے شہر کو نظر اندازکرنا کہاں کی دانشمندی ہے،ایک سادہ سی بات ہے کراچی کے شہری چاہتے ہیں کہ ان کے ٹیکس کی رقم یہاں کے مسائل حل کرنے کے لیے خرچ کی جائے۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ شہر نا پرساں کے مسائل حل کرنے کے لیے تینوں سیاسی جماعتیں ایک ساتھ دن رات نکل پڑتیں تاکہ کراچی کو کچرے' سیوریج کے گندے پانی اور مکھیوں کی کثرت سے نجات دلائی جاسکتی لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔


شہری بارشوں کے بعد سیلابی پانی میں ڈوبتے رہے، لیکن صاحب اختیارایسے سخت دل ہیں کہ انھوں نے پھر بھی سیاست کرنا ہی اولین ترجیج جانا اور سمجھا۔ ایک جانب رابطہ کمیٹی قائم کرکے مسائل کرنے کی نوید سنائی جارہی ہے تو دوسری جانب پیپلز پارٹی نے اسلام آباد،کراچی، حیدرآباد اورجیکب آباد میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں، جن میں تقریریں کی گئیں کہ حکومت ملک توڑنے کی کوششیں کررہی ہے، سندھ کی تقسیم نہیںمانیںگے،کراچی پر قبضے کا خواب دیکھنے والے خوار ہونگے۔ پی ٹی آئی کے رہنما سندھ حکومت کی ناقص کارکردگی کو مسئلے کی جڑ قرار دیتے ہیں۔ سندھ حکومت کو الٹی میٹم ملتے ہیں کہ کام کریں ورنہ وزیراعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ ہوگا۔

الیکشن2018میں کراچی کے عوام کی اکثریت نے پی ٹی آئی پراعتمادکا اظہارکیا اور وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور اب وفاق کا فرض بنتا ہے کہ وہ کراچی کی عوام کے اعتماد پر پورا اتریں اور صوبائی و شہری حکومت کے ساتھ ملکر،کچھ سمجھوتے کرکے بھی کراچی کو اپنائیں اور یہاں کے مسائل راتوں رات حل کریں، لیکن اس وقت یہ صورتحال ہے کہ وفاق بھی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں شامل ہوکر صرف زبانی جمع خرچ تک محدود ہے، ادارہ جاتی عدم فعالیت ہے،ایک قسم انتظامی انارکی ہے، اورکراچی سے منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی صوبائی حکومت پر تنقید کرنے اور وزیراعلیٰ کی کردارکشی تک محدود ہیں اور پی ٹی آئی کے لوگ بھی کچرے کے ڈھیر پر وزیراعلیٰ کی تصویریں لگانے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں اور جب پی ٹی آئی کے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت صفائی کی کوشش کرتے ہیں تو اس کو اس معاملے میں تنہا سب کچھ کرنا پڑتا ہے، جب کہ بعض حلقے نئے جنوبی سندھ صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ سب کیا ہے؟ ہر ایک اپنی سیاسی دکان چمکانے کے چکر میں لگا ہوا ہے اور عوام مایوسی کا شکار ہوتے چلے جارہے ہیں۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو اختیارات ووسائل کا کوئی مسئلہ نہیں اورموجودہ وسائل و اختیارات میں رہ کر بھی شہرکو صاف کیا جاسکتا ہے لیکن کرپشن کے باعث کچھ نہیں ہورہا اور ان گنت سرکاری اداروں کے ملازمین صرف تنخواہیں لے رہے ہیں جب کہ سیاسی جماعتیں اور ان کے لیڈر منظم سازش کے تحت بدنامی کے داغ اپنے دامن پہ سجاتے نظر آتے ہیں۔

شہرکراچی میں سب ادارے موجود ہیں ان کے ہزارہا ملازمین ہیں، افسران ہیں۔ آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیجیے کہ پورا انتظامی ڈھانچہ موجود ہے لیکن یہ فعال نہیں ہے، جب آئین، قانون اور نظام کے تحت ہر چیز کراچی کے عوام کو سہولت دینے کے لیے موجود ہے تو پھر بھی ایک کمیٹی تشکیل دینا کیا معنی رکھتا ہے؟ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اداروں کی غیرفعالیت بنیادی مسئلہ ہے۔

ادارے اور ان کے سربراہان اور عملہ کام نہیں کرتا، یعنی چیک اینڈ بیلنس کے نظام موجود نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ غفلت اورلاپرواہی کو ان شہری اداروں کے ملازمین نے اپنی علت بنالیا ہے۔ بات کو مزید آسان کر لیتے ہیں، ادارہ فراہمی نکاسی آب، کراچی واٹر بورڈ ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، سڑکوں کی تعمیر ومرمت اور تجاوزات کا خاتمے سے متعلق ادارے موجود ہونے کے باوجود کراچی مسائلستان کیوں بنا ہوا ہے، یہ سارا سلسلہ تو بنیادی طور پر شہری اورصوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کم ازکم اس بات کا اطمینان توکر لیں تمام اداروں کے لیے جو فنڈز جاری کیے جاتے ہیں، وہ کہاں خرچ ہوتے ہیں؟

صوبائی حکومت جب فنڈزجاری کرتی ہے تو وہ پوچھنے کا حق بھی رکھتی ہے کہ نالوں کی صفائی کیوں نہیں ہوئی، برساتی نالوں کی مانیٹرنگ کرنے کا سلسلہ کیوں شروع نہیں ہوسکا ہے۔ یادش بخیر ،کراچی ماضی میں دنیا کا ایک جدید ترین اور صاف ستھرا شہر تھا، یہاں ٹرامیں چلتی تھیں۔

ڈبل ڈیکر بسیں تھیں، اب حال یہ ہے کہ کراچی جیسے میگا صنعتی شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام مکمل طور پر تباہ وبرباد ہوچکا ہے، جو شہر ملکی معیشت کا بوجھ اٹھاتا ہے، اس کے لاکھوں مزدوروں کوکارخانوں اور فیکٹریوں تک پہنچانے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ سرے سے موجود نہیں ہے،آہ !کراچی کا نوحہ لکھنے کی قلم میں طاقت نہیں، شہر توکنکریٹ کا جنگل بن چکا، تجاوزات کی بھرمار نے تو شہریوں کا جینا دوبھرکردیا ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کوکہنا پڑا کہ سیاحتی مقامات پر تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے، پانی، بجلی،گیس اور پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولتیں نہ ہونے سے عوام مصائب وآلام کا شکار ہیں۔ ایسا حبس ہے کہ سانس لینا دشوار ہے، شجرنہ ہوتوسورج کی تپش اور موسموں کی سختیاں جھیلنا آسان نہیں ہوتا۔

ضرورت کراچی کے اربن مسائل کے ادراک اور ادارہ جاتی ہم آہنگی اورسیاسی مفاہمت کی ہے، سیاسی حلقے جب بارشوں سے ہونے والی تباہی کا ذکرکرتے ہیں تو لاہورکی بربادی کو بھول جاتے ہیں حالانکہ یہی روش رہی اور ریج ایمرجنسی کا معیار یہی رہا تو لاہور اورکراچی کا تقابل کرنے والے دونوں شہروں کی تباہی پر رنجیدہ ہونگے۔

کراچی ہو یا لاہور کوئی شہر راتوں رات اس حالت زارکو نہیں پہنچا، شہر قائد کو تو مجرمانہ غفلت اورغیر فعالیت ، بدانتظامی، سیاسی محاذ آرائی اور قبضہ گیری کی خواہش نے برباد کیا ہے، اور اس کا علاج بھی وہی ادارے، وزارتیں اور بلدیاتی ادارے کریں گے جو مقامی سطح کے مسئلہ کو بھی وفاق و صوبوں کے کے لیے چیلنج بناچکے ہیں،اس رویے میں پیرا ڈائم شفٹ لانے کی ضرورت ہے۔
Load Next Story