پنجاب میں بارش کی تباہ کاریاں
لاہوری بارش کے بعد جس کرب واذیت کا سامنا کررہے ہیں وہ قلم بیان کرنے سے قاصر ہے۔
لاہوری بارش کے بعد جس کرب واذیت کا سامنا کررہے ہیں وہ قلم بیان کرنے سے قاصر ہے۔ فوٹو: آن لائن
لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں طوفانی بارشوں کے باعث سڑکیں ندیاں بن گئیں، بجلی گھنٹوں معطل جب کہ20 افراد جاں بحق ہوگئے، صرف لاہور میں کرنٹ لگنے، مکانوں کی چھتیں گرنے اور دیگر حادثات میں 10افراد ہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ، نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے ندی نالوں میں طغیانی کی کیفیت ہے جب کہ لاہور جیسے جدید شہر میں موسلادھار بارش سے سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کررہی ہیں۔
اس ساری صورتحال نے حکومت پنجاب سمیت دیگرشہری انتظامی اداروںکی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھا دیے ہیں۔ بارشیں انفرااسٹرکچرکو اپنے ساتھ بہا کر لے جا رہی ہیں اورحکومتی بلند بانگ دعوؤں کی قلعی کھل رہی ہے۔ منظرنامہ کچھ یوں ہے کہ اکثر علاقوں میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا ،جس سے گھروں میں پڑے قیمتی سامان کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے لاہور اوردیگر شہروں میں بارش کے بعد پانی کھڑا ہونے پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے اورجلد ازجلد نکاسی کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ پنجاب کے باسی بارشوں کے موقعے پر انتظامیہ اور واسا حکام کی مدد کے منتظر رہتے ہیں لیکن وہ انھیں فیلڈ میں موجود نظر نہیں آتے۔
واسا حکام اور متعلقہ انتظامیہ نے پانی کے نکاس کے لیے تمام تر وسائل رکھنے کے باوجود فرائض سے غفلت برتنے کے چلن کو اپنایا ہوا ہے، اسی لیے لاہورکی سڑکیں ڈوبی نظرآرہی ہیں، شہریوں کو بارش کے پانی کی وجہ سے دشواری کاسامنا کرنا پڑتا ہے، سڑکوں پرگھنٹوں ٹریفک جام ہوجاتا ہے، لیکن انتظامیہ کی کارکردگی صفر ہے۔ لاہور میں ایک ہی بارش نے پنجاب حکومت کی دوسالہ کارکردگی کا پول کھول دیا ہے۔ بارہ گھنٹے گزرنے کے باوجود لاہور پانی میں ڈوبا رہا ہے، بارش سے لاہورکی کچی آبادیاں اور پوش علاقے زیرآب ہونے سے تالاب کا منظر پیش کر رہے ہیں۔
پنجاب کے دیگر شہروں شیخوپورہ،گوجرانوالہ، سرگودھا،گجرات، ملکوال، منڈی بہاء الدین، اوکاڑہ، جہلم، حافظ آباد، چنیوٹ، فیصل آباد، قصور،میانوالی، بھکر اور پھالیہ کی بات کی جائے تو وہاں بھی ہرطرف پانی ہی پانی نظر آرہا ہے۔ راولپنڈی میں ڈی ایم اے پنجاب نے نالہ لئی، بڑے نالوں اور نہروں کنارے آباد شہریوں کے لیے بچاؤ الرٹ جاری کردیا ہے جس کے تحت ان شہریوں کو بارش کے دوران فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہونے،اپنا قیمتی سامان تہہ خانوں سے بالائی منزلوں میں منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نالوں میں نہانے پر پابندی جب کہ ضلعی انتظامیہ کو بھی اس بابت عملدرآمدکی ہدایات دی گئی ہیں،جب کہ فیصل آباد اورسرگودھا کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش نے تباہی مچا دی ہے۔ ہر شہر میں نشیبی علاقے ڈوب گئے، سڑکیں بھی زیر آب آچکی ہیں۔ حکومت پنجاب کو انتہائی سنجیدگی سے ایک پلان ترتیب دینا چاہیے،جس میں بارشوں کے نقصانات سے بچاؤکے اقدامات اٹھائے جائیں۔
ملک بھرمیں مناسب صفائی نہ ہونے کی وجہ سے بارشوں کے بعد بدبو اور تعفن پھیلنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے،جس سے کئی لوگوں کو صحت کے مسائل ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ بارشوں کے موسم میں عام افراد کو نزلہ، زکام ، بخار اورسردرد جیسی شکایات ہوجاتی ہیں جب کہ کم عمرافراد اور بچوں کو الٹی، بخار اور اسہال جیسے مسائل ہوجاتے ہیں،اگرچہ بارشوں کے کم ہونے سے ان امراض میں بھی کم آجاتی ہے، تاہم اگر بارشوں کے دوران چند حفاظتی انتظامات کیے جائیں تو ان بیماریوں اور مسائل سے بچا جاسکتا ہے۔
پانی سے پیدا ہونے والی بیماری کے علاج کے لیے اکثر لوگ بیماری کو سمجھے بغیر خود سے اینٹی بائیوٹک بھی کھانا شروع کردیتے ہیں جو بعض اوقات فائدہ پہنچانے کے بجائے الٹا نقصان پہنچا دیتی ہیںکیونکہ ان کے استعمال سے جسم میں موجود فائدہ مند بیکٹیریا بھی ختم ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے جسم اور زیادہ بیماریوں کا شکار ہونے لگتا ہے۔اس لیے عوام کا یہ جاننا ضروری ہے کہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا کس طرح علاج کرنا چاہیے۔
پنجاب کے عوام اس وقت بارشوں کے تسلسل سے پریشان ہیں،ان کا وسیع پیمانے پرجانی ومالی نقصان ہورہا ہے، دیہاتوں کی بات کریں تو وہاں پرکھڑی فصلوں کو نقصان پہنچنے کا عمل جاری ہے۔کچے گھروں کی چھتیں گرنے سے بھی اموات واقع ہورہی ہیں،اگر بارشیں مزید شدت سے جاری رہتی ہیں تو پنجاب میں سیلابی صورتحال پیدا ہوجانے کا خطرہ ہے،جس سے ملک میں غذائی بحران جنم لے سکتا ہے۔
بارش کا کام تو برسنا ہے اور وہ خوب برستی ہے، لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ انتظامی ادارے اپنے فرائض سے غفلت برتتے ہیں، کراچی میں بارش سے ہونے والی تباہ کاریوں کے خوب چرچے ہیں، وفاقی، صوبائی اورشہری حکومتوں پر تنقید کے اثرات ہیں کہ کراچی کے لیے سیاسی جماعتوں کی رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، لیکن لاہورجیسا پاکستان کا دوسرا بڑا شہر جس بری طرح سے نظرانداز ہو رہا ہے، وہ بھی کسی بھی المیے سے کم نہیں ہے۔
لاہوری بارش کے بعد جس کرب واذیت کاسامناکررہے ہیں وہ قلم بیان کرنے سے قاصر ہے۔ حکومت خطرے کے وقت کبوترکی طرح آنکھیں بندکرلیتی ہے۔پنجاب میں ساری صورتحال کو جاننے کے بعد اس بات کا دکھ شدید تر ہوجاتا ہے کہ حکومت کے تمام اداروں میں فرائض سے غفلت برتنے کی عادت پختہ ہوچلی ہے،کیونکہ چیک اینڈ بیلنس کا کوئی نظام سرے سے موجود نہیں ہے، عوام صرف مرنے کے لیے رہ گئے ہیں، بے حسی کا یہ عالم ہے کہ لوگ مررہے ہیں اور حکومت اس کا کوئی نوٹس نہیں لے رہی ہے۔
ہمیں جنگی بنیادوں پر حکومتی سطح پر اقدامات اٹھانے ہونگے کیونکہ شدید بارشوں کے بعد سیلابوں کا خطرہ سر پر منڈلارہا ہے، عوام اور حکومت مل کر ہی ان خطرات کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔لاہور ڈوب رہا ہے، اسے ڈوبنے سے بچانا پنجاب حکومت کی اولین ذمے داری بنتی ہے۔ پنجاب میں بارشوں سے ہونیوالے جانی ومالی نقصانات کے ازالے کے لیے ریلیف فنڈ کا قیام بھی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ آنے والے دن بارشوں کے حوالے سے مزید کٹھن ہوسکتے ہیں، پنجاب حکومت کو ایسا میکنزم بنانا ہے، جو بارش کے نقصانات کو کم سے کم کرسکے۔
اس ساری صورتحال نے حکومت پنجاب سمیت دیگرشہری انتظامی اداروںکی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھا دیے ہیں۔ بارشیں انفرااسٹرکچرکو اپنے ساتھ بہا کر لے جا رہی ہیں اورحکومتی بلند بانگ دعوؤں کی قلعی کھل رہی ہے۔ منظرنامہ کچھ یوں ہے کہ اکثر علاقوں میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا ،جس سے گھروں میں پڑے قیمتی سامان کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے لاہور اوردیگر شہروں میں بارش کے بعد پانی کھڑا ہونے پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے اورجلد ازجلد نکاسی کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ پنجاب کے باسی بارشوں کے موقعے پر انتظامیہ اور واسا حکام کی مدد کے منتظر رہتے ہیں لیکن وہ انھیں فیلڈ میں موجود نظر نہیں آتے۔
واسا حکام اور متعلقہ انتظامیہ نے پانی کے نکاس کے لیے تمام تر وسائل رکھنے کے باوجود فرائض سے غفلت برتنے کے چلن کو اپنایا ہوا ہے، اسی لیے لاہورکی سڑکیں ڈوبی نظرآرہی ہیں، شہریوں کو بارش کے پانی کی وجہ سے دشواری کاسامنا کرنا پڑتا ہے، سڑکوں پرگھنٹوں ٹریفک جام ہوجاتا ہے، لیکن انتظامیہ کی کارکردگی صفر ہے۔ لاہور میں ایک ہی بارش نے پنجاب حکومت کی دوسالہ کارکردگی کا پول کھول دیا ہے۔ بارہ گھنٹے گزرنے کے باوجود لاہور پانی میں ڈوبا رہا ہے، بارش سے لاہورکی کچی آبادیاں اور پوش علاقے زیرآب ہونے سے تالاب کا منظر پیش کر رہے ہیں۔
پنجاب کے دیگر شہروں شیخوپورہ،گوجرانوالہ، سرگودھا،گجرات، ملکوال، منڈی بہاء الدین، اوکاڑہ، جہلم، حافظ آباد، چنیوٹ، فیصل آباد، قصور،میانوالی، بھکر اور پھالیہ کی بات کی جائے تو وہاں بھی ہرطرف پانی ہی پانی نظر آرہا ہے۔ راولپنڈی میں ڈی ایم اے پنجاب نے نالہ لئی، بڑے نالوں اور نہروں کنارے آباد شہریوں کے لیے بچاؤ الرٹ جاری کردیا ہے جس کے تحت ان شہریوں کو بارش کے دوران فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہونے،اپنا قیمتی سامان تہہ خانوں سے بالائی منزلوں میں منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نالوں میں نہانے پر پابندی جب کہ ضلعی انتظامیہ کو بھی اس بابت عملدرآمدکی ہدایات دی گئی ہیں،جب کہ فیصل آباد اورسرگودھا کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش نے تباہی مچا دی ہے۔ ہر شہر میں نشیبی علاقے ڈوب گئے، سڑکیں بھی زیر آب آچکی ہیں۔ حکومت پنجاب کو انتہائی سنجیدگی سے ایک پلان ترتیب دینا چاہیے،جس میں بارشوں کے نقصانات سے بچاؤکے اقدامات اٹھائے جائیں۔
ملک بھرمیں مناسب صفائی نہ ہونے کی وجہ سے بارشوں کے بعد بدبو اور تعفن پھیلنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے،جس سے کئی لوگوں کو صحت کے مسائل ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ بارشوں کے موسم میں عام افراد کو نزلہ، زکام ، بخار اورسردرد جیسی شکایات ہوجاتی ہیں جب کہ کم عمرافراد اور بچوں کو الٹی، بخار اور اسہال جیسے مسائل ہوجاتے ہیں،اگرچہ بارشوں کے کم ہونے سے ان امراض میں بھی کم آجاتی ہے، تاہم اگر بارشوں کے دوران چند حفاظتی انتظامات کیے جائیں تو ان بیماریوں اور مسائل سے بچا جاسکتا ہے۔
پانی سے پیدا ہونے والی بیماری کے علاج کے لیے اکثر لوگ بیماری کو سمجھے بغیر خود سے اینٹی بائیوٹک بھی کھانا شروع کردیتے ہیں جو بعض اوقات فائدہ پہنچانے کے بجائے الٹا نقصان پہنچا دیتی ہیںکیونکہ ان کے استعمال سے جسم میں موجود فائدہ مند بیکٹیریا بھی ختم ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے جسم اور زیادہ بیماریوں کا شکار ہونے لگتا ہے۔اس لیے عوام کا یہ جاننا ضروری ہے کہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا کس طرح علاج کرنا چاہیے۔
پنجاب کے عوام اس وقت بارشوں کے تسلسل سے پریشان ہیں،ان کا وسیع پیمانے پرجانی ومالی نقصان ہورہا ہے، دیہاتوں کی بات کریں تو وہاں پرکھڑی فصلوں کو نقصان پہنچنے کا عمل جاری ہے۔کچے گھروں کی چھتیں گرنے سے بھی اموات واقع ہورہی ہیں،اگر بارشیں مزید شدت سے جاری رہتی ہیں تو پنجاب میں سیلابی صورتحال پیدا ہوجانے کا خطرہ ہے،جس سے ملک میں غذائی بحران جنم لے سکتا ہے۔
بارش کا کام تو برسنا ہے اور وہ خوب برستی ہے، لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ انتظامی ادارے اپنے فرائض سے غفلت برتتے ہیں، کراچی میں بارش سے ہونے والی تباہ کاریوں کے خوب چرچے ہیں، وفاقی، صوبائی اورشہری حکومتوں پر تنقید کے اثرات ہیں کہ کراچی کے لیے سیاسی جماعتوں کی رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، لیکن لاہورجیسا پاکستان کا دوسرا بڑا شہر جس بری طرح سے نظرانداز ہو رہا ہے، وہ بھی کسی بھی المیے سے کم نہیں ہے۔
لاہوری بارش کے بعد جس کرب واذیت کاسامناکررہے ہیں وہ قلم بیان کرنے سے قاصر ہے۔ حکومت خطرے کے وقت کبوترکی طرح آنکھیں بندکرلیتی ہے۔پنجاب میں ساری صورتحال کو جاننے کے بعد اس بات کا دکھ شدید تر ہوجاتا ہے کہ حکومت کے تمام اداروں میں فرائض سے غفلت برتنے کی عادت پختہ ہوچلی ہے،کیونکہ چیک اینڈ بیلنس کا کوئی نظام سرے سے موجود نہیں ہے، عوام صرف مرنے کے لیے رہ گئے ہیں، بے حسی کا یہ عالم ہے کہ لوگ مررہے ہیں اور حکومت اس کا کوئی نوٹس نہیں لے رہی ہے۔
ہمیں جنگی بنیادوں پر حکومتی سطح پر اقدامات اٹھانے ہونگے کیونکہ شدید بارشوں کے بعد سیلابوں کا خطرہ سر پر منڈلارہا ہے، عوام اور حکومت مل کر ہی ان خطرات کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔لاہور ڈوب رہا ہے، اسے ڈوبنے سے بچانا پنجاب حکومت کی اولین ذمے داری بنتی ہے۔ پنجاب میں بارشوں سے ہونیوالے جانی ومالی نقصانات کے ازالے کے لیے ریلیف فنڈ کا قیام بھی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ آنے والے دن بارشوں کے حوالے سے مزید کٹھن ہوسکتے ہیں، پنجاب حکومت کو ایسا میکنزم بنانا ہے، جو بارش کے نقصانات کو کم سے کم کرسکے۔