میر حاصل بزنجو جمہوریت کے سینہ چاکانِ چمن

میر حاصل بزنجو کی ساری سیاسی جدوجہد اپنے والد میر غوث بخش بزنجو کے سیاسی آدرش اور اصولوں کی پیروی میں گزری۔

میر حاصل بزنجو کی ساری سیاسی جدوجہد اپنے والد میر غوث بخش بزنجو کے سیاسی آدرش اور اصولوں کی پیروی میں گزری۔ فوٹو:فائل

نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سینئر بلوچ رہنما سینیٹر میر حاصل بزنجو 63 برس کی عمر میں انتقال کرگئے، تدفین آج آبائی علاقے نال میں کی جائے گی، نیشنل پارٹی کی طرف سے دس روزہ سوگ کا اعلان، پارٹی پرچم سرنگوں رہے گا وہ کافی ماہ سے پھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا تھے اور جمعرات کو طبیعت ناساز ہونے پر انھیں کراچی کے نجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج انتقال کر گئے۔

مرحوم کے جسد خاکی کو کراچی سے ان کے آبائی علاقے نال منتقل کردیا گیا ہے، ان کے جنازے اور تدفین میں سیاسی رہنماؤں، پارٹی کارکنوں، دانشوروں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

میر حاصل بزنجو کی ساری سیاسی جدوجہد اپنے والد میر غوث بخش بزنجو کے سیاسی آدرش اور اصولوں کی پیروی میں گزری، وہ بلوچ عوام کے حقوق کے علمبردار اور سچے قوم پرست لیڈر تھے، ان کی جمہوریت کی بقا کے لیے جدوجہد بے داغ اور غیر معمولی تھی، ان کی محکوم انسانوں کی آزادی، مساوات اور انسانی حقوق کے حصول کے لیے کوششیں غیر متزلزل تھیں۔ وہ جمہوریت پسند، روشن خیال اور استحصال سے پاک بلوچستان کا خواب دیکھنے والے بے لوث سیاستدان تھے۔

میر حاصل خان بزنجو3 فروری 1958کو خضدار کی تحصیل نال میں سابق گورنر بلوچستان میر غوث بخش بزنجو کے گھر پیدا ہوئے، سیاست کا آغاز زمانہ طالب علمی میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے کیا، فلسفہ میں ایم اے کیا۔


1989 میں والد میر غوث بخش بزنجو کے انتقال کے بعد میر حاصل بزنجو نے باقاعدہ ملکی سیاست میں قدم رکھا، 1990 میں پاکستان نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر پہلی بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، وہ دوسری مرتبہ1997 میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوئے تاہم بعد میں انھوں نے بلوچستان نیشنل پارٹی چھوڑ کر بلوچستان ڈیموکریٹک پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور بلوچستان ڈیموکریٹک پارٹی اور بی این ایم کے انضمام سے بننے والی جماعت نیشنل پارٹی کا حصہ بن گئے۔

2014 میں نیشنل پارٹی کے صدر منتخب ہوئے۔ میر حاصل خان بزنجو 2009 میں پہلی مرتبہ سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے، میاں نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کی کابینہ میں وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ میری ٹائم افیئرز بھی رہے، پرویز مشرف کے دور حکومت میں ملک میں جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے جدوجہد کے دوران وہ کئی بار جیل کی سلاخوں کے پیچھے گئے۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل جان محمد بلیدی نے میر حاصل بزنجو کے انتقال پر دس روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران پارٹی پرچم سرنگوں رہے گا۔

حاصل بزنجو کا سینہ بلوچستان کے سیاسی رازوں کا دفینہ تھا، مرحوم نے بچپن اور جوانی میں شورشیں دیکھیں، ناراض قوم پرست بلوچ رہنماؤں سے مکالمہ پر زور دیا، بلوچ مزاحمت کاروں کے خلاف ان کا انداز نظر واضح تھا اور وہ مزاحمت کاروں کو قومی دھارے میں لانے کے خواہشمند تھے۔

مرکز اور بلوچستان کے مابین تناؤ کے حل کے لیے صوبہ کے عوام کو حقوق دینے کے لیے کوشاں رہے، تاہم انھوں نے دیگر اکائیوں کے حقوق کی بھی بھرپور وکالت کی۔ وہ انسان دوستی، ترقی پسندی اور جمہوری و عوامی سوچ رکھنے والے سیاستدانوں کی نسل میں اپنا چراغ جلا کر رخصت ہوئے، وہ بے شک سینہ چاکانِ چمن تھے، اب سیاست میں میر حاصل بزنجو کی صرف یاد آئیگی۔
Load Next Story