پاک چین دوستی ترقی کا خود مختار راستہ
چین نے پاکستان کو ہر مشکل وقت میں جب بھی پکارا چین نے ہماری حمایت اور عملی مدد میں پیش پیش ہی رہا۔
چین نے پاکستان کو ہر مشکل وقت میں جب بھی پکارا چین نے ہماری حمایت اور عملی مدد میں پیش پیش ہی رہا۔ فوٹو: فائل
چین نے پاکستان کی طرف سے اپنے قومی حالات کی بنیاد پر ترقی کا خود مختار راستہ اختیار کرنے اور ''آزاد'' پالیسی بنانے کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے، یہ اعلان بیجنگ میں ہونے والی پاک چین وزرا خارجہ ملاقات کے مشترکہ اعلامیہ کا حصہ ہے۔
چینی صدر نے پاکستانی ہم منصب کے نام خط میں کہا ہے کہ سی پیک نے پاکستان اور چین کے مابین برادرانہ تعلقات کی مثال قائم کی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی چین کی سرکردگی میں خطے میں ہونے والی نئی صف بندی کے ضمن میں جاری اسٹرٹیجک مذاکرات میں شرکت کے لیے چین کے دورے پر ہیں۔
پاک چین وزرا خارجہ کی بات چیت کے دوران فریقین نے کورونا پر تعاون، دوطرفہ تعلقات، سی پیک اور باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا، تاہم ملاقات کے مشترکہ اعلامیہ کا سب سے اہم حصہ قومی ترجیحات کی بنیاد پر آزادانہ پالیسیاں بنانے پر پاکستان کے لیے چین کی حمایت پر مشتمل ہے۔
مشترکہ اعلامیہ میں چین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک چین سدا بہار تعاون پر مبنی پارٹنر شپ عالمی اور علاقائی امن و استحکام سمیت دونوں ملکوں کی باہمی سیکیورٹی اور ترقی کے مفاد میں ہے، فریقین باہمی اسٹرٹیجک اعتماد سازی بڑھانے، تعاون مستحکم کرنے، اعلیٰ سطح پر تبادلے جاری رکھنے، دوطرفہ تعلقات کو بلندیوں کی نئی سطح تک پہنچانے کے لیے پر عزم ہیں۔
پاک چین دوستی کی سرد و گرم چشیدہ روایات اور عالمی امن و خطے میں کثیر جہتی ترقی و خوشحالی کے اہداف کی روشنی میں وزیر خارجہ کا حالیہ دورہ چین اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک چین دوستی تاریخ کی اہم ترین حقیقت ہے جس میں کوئی طاقت دراڑ نہیں ڈال سکتی۔
چین نے اپنے اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان اور چین آئرن برادرز اور پاکستان خطے میں چین کا پختہ شراکت دار ہے اور اپنی علاقائی سلامتی، خودمختاری، استحکام اور اپنی قومی ترجیحات کی بنیاد پر ترقی کے لیے خودمختار پالیسی کا راستہ اختیار کرنے کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے بنیادی نوعیت کے قومی مفادات سے متعلق معاملات کی حمایت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
ذرایع کے مطابق اعلامیے کے ذریعے بعض ملکوں کو جن میں پاکستان کے دوست بھی شامل ہیں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان پر فیصلوں کے لیے دباؤ نہ ڈالا جائے جس سے اس کے طویل المدت مفادات پر زک پہنچے، وزیر اعظم عمران خان نے اپنے حالیہ ٹی وی انٹرویو میں واضح کر دیا ہے کہ پاکستان چین کو اپنا طویل المدت اسٹرٹیجک اور معاشی شراکت دار سمجھتا، مشترکہ اعلامیے میں پاکستان نے عالمی دباؤ کے باوجود سی پیک منصوبے کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
پاکستان نے چینی فریق کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، چین نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں یکطرفہ کارروائی کی مخالفت کی اور کہا کہ اس سے مسائل مزید پیچیدہ ہو جائیں گے، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی چین کا 2 روزہ دورہ مکمل کرکے واپس وطن روانہ ہو گئے، درین اثنا عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی جن پنگ نے سی پیک پولیٹیکل پارٹیز جوائنٹ کنسلٹیشن میکانزم (جے سی ایم) کی دوسری کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر پاکستانی ہم منصب صدر عارف علوی کو لکھے گئے خط میں تشکر کا اظہار کیا ہے۔
صدر عارف علوی کے خط کے جواب میں صدر شی جن پنگ نے سی پیک کو بی آر آئی کا اہم منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک نے پاکستان اور چین کے مابین برادرانہ تعلقات کی مثال قائم کی ہے اور دونوں ممالک کے مابین تعمیر و ترقی کے مشترکہ مستقبل کے سفر کو خوش اسلوبی سے آگے بڑھایا ہے، یاد رہے کہ سی پیک پولیٹیکل پارٹیز جوائنٹ کنسلٹیشن میکانزم (جے سی ایم) کی میزبانی پاکستان چائنہ انسٹیٹیوٹ (پی سی آئی) اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی شعبہ نے مشترکہ طور پر کی تھی۔
یہ حقیت ہے کہ چین نے پاکستان کو ہر مشکل وقت میں جب بھی پکارا چین نے ہماری حمایت اور عملی مدد میں پیش پیش ہی رہا، بحران اور آزمائش کی ہر گھڑی میں چین ہمارے ساتھ کھڑا رہا اور آیندہ بھی یہ دو طرفہ تعلقات مزید مستحکم ہونگے۔ پاک چین تعلقات کی یہی بنیاد ہمارے دشمنوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے، لیکن پاک چین دوستی اصولوں، اشتراک باہمی اور خطے کے گیم چینجر منصوبہ سی پیک کو آگے بڑھانے کے عزم کو ساتھ لے کر چلتی رہے گی۔
چینی صدر نے پاکستانی ہم منصب کے نام خط میں کہا ہے کہ سی پیک نے پاکستان اور چین کے مابین برادرانہ تعلقات کی مثال قائم کی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی چین کی سرکردگی میں خطے میں ہونے والی نئی صف بندی کے ضمن میں جاری اسٹرٹیجک مذاکرات میں شرکت کے لیے چین کے دورے پر ہیں۔
پاک چین وزرا خارجہ کی بات چیت کے دوران فریقین نے کورونا پر تعاون، دوطرفہ تعلقات، سی پیک اور باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا، تاہم ملاقات کے مشترکہ اعلامیہ کا سب سے اہم حصہ قومی ترجیحات کی بنیاد پر آزادانہ پالیسیاں بنانے پر پاکستان کے لیے چین کی حمایت پر مشتمل ہے۔
مشترکہ اعلامیہ میں چین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک چین سدا بہار تعاون پر مبنی پارٹنر شپ عالمی اور علاقائی امن و استحکام سمیت دونوں ملکوں کی باہمی سیکیورٹی اور ترقی کے مفاد میں ہے، فریقین باہمی اسٹرٹیجک اعتماد سازی بڑھانے، تعاون مستحکم کرنے، اعلیٰ سطح پر تبادلے جاری رکھنے، دوطرفہ تعلقات کو بلندیوں کی نئی سطح تک پہنچانے کے لیے پر عزم ہیں۔
پاک چین دوستی کی سرد و گرم چشیدہ روایات اور عالمی امن و خطے میں کثیر جہتی ترقی و خوشحالی کے اہداف کی روشنی میں وزیر خارجہ کا حالیہ دورہ چین اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک چین دوستی تاریخ کی اہم ترین حقیقت ہے جس میں کوئی طاقت دراڑ نہیں ڈال سکتی۔
چین نے اپنے اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان اور چین آئرن برادرز اور پاکستان خطے میں چین کا پختہ شراکت دار ہے اور اپنی علاقائی سلامتی، خودمختاری، استحکام اور اپنی قومی ترجیحات کی بنیاد پر ترقی کے لیے خودمختار پالیسی کا راستہ اختیار کرنے کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے بنیادی نوعیت کے قومی مفادات سے متعلق معاملات کی حمایت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
ذرایع کے مطابق اعلامیے کے ذریعے بعض ملکوں کو جن میں پاکستان کے دوست بھی شامل ہیں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان پر فیصلوں کے لیے دباؤ نہ ڈالا جائے جس سے اس کے طویل المدت مفادات پر زک پہنچے، وزیر اعظم عمران خان نے اپنے حالیہ ٹی وی انٹرویو میں واضح کر دیا ہے کہ پاکستان چین کو اپنا طویل المدت اسٹرٹیجک اور معاشی شراکت دار سمجھتا، مشترکہ اعلامیے میں پاکستان نے عالمی دباؤ کے باوجود سی پیک منصوبے کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
پاکستان نے چینی فریق کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، چین نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں یکطرفہ کارروائی کی مخالفت کی اور کہا کہ اس سے مسائل مزید پیچیدہ ہو جائیں گے، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی چین کا 2 روزہ دورہ مکمل کرکے واپس وطن روانہ ہو گئے، درین اثنا عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی جن پنگ نے سی پیک پولیٹیکل پارٹیز جوائنٹ کنسلٹیشن میکانزم (جے سی ایم) کی دوسری کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر پاکستانی ہم منصب صدر عارف علوی کو لکھے گئے خط میں تشکر کا اظہار کیا ہے۔
صدر عارف علوی کے خط کے جواب میں صدر شی جن پنگ نے سی پیک کو بی آر آئی کا اہم منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک نے پاکستان اور چین کے مابین برادرانہ تعلقات کی مثال قائم کی ہے اور دونوں ممالک کے مابین تعمیر و ترقی کے مشترکہ مستقبل کے سفر کو خوش اسلوبی سے آگے بڑھایا ہے، یاد رہے کہ سی پیک پولیٹیکل پارٹیز جوائنٹ کنسلٹیشن میکانزم (جے سی ایم) کی میزبانی پاکستان چائنہ انسٹیٹیوٹ (پی سی آئی) اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی شعبہ نے مشترکہ طور پر کی تھی۔
یہ حقیت ہے کہ چین نے پاکستان کو ہر مشکل وقت میں جب بھی پکارا چین نے ہماری حمایت اور عملی مدد میں پیش پیش ہی رہا، بحران اور آزمائش کی ہر گھڑی میں چین ہمارے ساتھ کھڑا رہا اور آیندہ بھی یہ دو طرفہ تعلقات مزید مستحکم ہونگے۔ پاک چین تعلقات کی یہی بنیاد ہمارے دشمنوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے، لیکن پاک چین دوستی اصولوں، اشتراک باہمی اور خطے کے گیم چینجر منصوبہ سی پیک کو آگے بڑھانے کے عزم کو ساتھ لے کر چلتی رہے گی۔