دھرنے پاکستان کے معاشی اور فوجی مفادات

دھرنوں کی عاقبت نااندیش سیاست سے جہاں فوجی مفادات کو نقصان ہے وہیں معیشت پربھی خطرات کے گہرے بادل منڈلاتے نظرآرہے ہیں

zahedahina@gmail.com

دھرنوں سے خیبر پختونخوا کی صنعت، تجارت اور کاروبار کو جو ''بے مثال فائدہ'' پہنچ رہا تھا، اس پر ملک کے دیگر تین صوبوں کے عوام کو یہ رنج تھا کہ ان کے صوبے ان فوائد سے محروم ہیں۔ لیکن نوید ہو کہ ان کے رنج و غم کے زمانے ختم ہونے والے ہیں، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اب احتجاج کے دائرے کو مزید وسیع کیا جائے گا تا کہ دوسرے صوبوں میں پائے جانے والے ''احساس محرومی'' کو دور کیا جا سکے۔

امریکی وزیر دفاع چک ہیگل کے حالیہ مختصر ترین دورے کے بعد دھرنوں کے ''قومی فوائد'' سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ وزیر موصوف نے وزیر اعظم اور چیف آف آرمی اسٹاف سے ملاقاتیں کیں اور ان دونوں کے سامنے امریکی مؤقف کو دو ٹوک انداز میں پیش کر دیا۔ چیک ہیگل نے پریس سے زیادہ گفتگو نہیں کی لیکن باوثوق اور معتبر ذرائع سے یہ بات واضح کر دی گئی کہ نیٹو سپلائی کی بندش کی صورت میں امریکا کے لیے پاکستان کی فوجی اور معاشی امداد جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

چک ہیگل چار برس کے دوران پاکستان کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی وزیر دفاع ہیں۔ ان کے ہنگامی دورۂ پاکستان سے مسئلے کی سنگینی کا اندازہ با آسانی لگایا جا سکتا ہے۔ اس وقت ملک کی داخلی سلامتی کو سنگین خطرات درپیش ہیں۔ اہم ترین فوجی تنصیبات دہشت گردوں کے حملوں کا نشانہ بن چکی ہیں اور ان کے ہاتھوں ہزاروں فوجی جوان اور متعدد اعلیٰ افسر شہید ہو چکے ہیں۔ ان حالات میں عسکری امداد اور تعاون کا رُکنا ملکی سلامتی کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ داخلی محاذ پر ہماری فوج حالت جنگ میں ہے، اس جنگ کی جانی اور مالی قیمت بہت زیادہ ہے اور بین الاقوامی برادری کے تعاون کے بغیر اس میں کامیابی ممکن نہیں ہے۔ عسکری امداد کی متوقع معطلی سے فوج کی استعداد اور حربی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ہمیں یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ پاکستان کا 90 فیصد فوجی ساز و سامان امریکی اور یورپی ساختہ ہے۔ ملک اس وقت زرمبادلہ کے بحران میں ہے، نیٹو سپلائی کی معطلی کے بعد پاکستان کے لیے دیگر ذرائع سے اسلحہ خریدنا ممکن نہیں ہو گا۔ اگر کہیں سے کچھ سرمائے کا بندوبست کر بھی لیا جاتا ہے تو چین سمیت کوئی اور ملک ہمیں فوجی ساز و سامان مہیا نہیں کرے گا۔

دھرنوں کی عاقبت نااندیش سیاست سے جہاں پاکستان کے فوجی مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے وہیں ملکی معیشت کے افق پر بھی خطرات کے گہرے بادل منڈلاتے نظر آ رہے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع نے پاکستانی حکومت پر واضح کر دیا ہو گا کہ نیٹو سپلائی بند رہنے کی صورت میں، پاکستان کو معمول کے مطابق مالی ادائیگیاں کرنی مشکل ہوں گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی کانگریس، پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عدم تعاون کے باعث متعلقہ ادائیگیوں کی توثیق نہیں کرے گی۔ انقلابی سیاسی رہنما جو رات دن ملک و قوم کے غم میں مبتلا نظر آتے ہیں، انھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ملک ماضی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کتنے بھیانک معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ ان نازک حالات میں پاکستان کے معاشی مسائل کو مزید سنگین کرنے سے ملک اور عوام کی کون سی خدمت ہو گی؟ نیٹو سپلائی کو روکنے سے جن ادائیگیوں کے رکنے یا معطل ہونے کا خطرہ ہے ان میں کولیشن سپورٹ فنڈ کی وہ بھاری رقم بھی شامل ہے جو پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پہلے ہی خرچ کر چکا ہے۔ یہ خیرات کا نہیں پاکستان کا اپنا پیسہ ہے جس کے واپس ملنے کی راہ میں کوئی اور نہیں خود ہمارے جذباتی سیاستدان رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔ ایک مشکل وقت میں جب زر مبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور روپے کی قدر گھٹ رہی ہے۔ اگر دھرنوں کی وجہ سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی ادائیگی معطل ہوتی ہے توا س کا نقصان پاکستان اور اس کے غریبوں کو نہیں تو کیا امریکا کو ہو گا؟

نیٹو سپلائی روکنے والی جماعتوں میں خارجہ امور اور کارپوریٹ سیکٹر کے بڑے بڑے ماہرین شامل ہیں۔ کیا انھیں یہ نہیں معلوم کہ نیٹو سپلائی کے رُکنے سے عالمی بینک، آئی ایم ایف اور ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت تمام عالمی مالیاتی ادارے پاکستان سے کیے گئے تمام وعدے اور معاہدے معطل کر سکتے ہیں؟ کیا اس کے نتیجے میں ہماری کمزور معیشت مکمل طور پر تباہ نہیں ہو جائے گی؟ کیا اس کے بعد ملک کی برآمدات اور درآمدات رک نہیں جائیں گی اور افراط زر میں اتنا اضافہ نہیں ہو جائے گا کہ ایک لاکھ روپے میں ایک کلو آلو کا ملنا بھی ممکن نہ رہے؟


وہ جماعت جو 20 دسمبر سے مہنگائی کے خلاف لاہور میں مہم چلانے والی ہے کیا وہ مستقبل میں بھیانک مہنگائی کے اسباب خود پیدا نہیں کر رہی؟ طویل عرصے کی جدوجہد اور کوششوں کے بعد ایک اچھی خبر یہ آئی ہے کہ یورپی پارلیمنٹ نے پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ دے دیا ہے۔ اس سہولت کے تحت پاکستان کی 1600 مصنوعات کسی ڈیوٹی کے بغیر یورپی یونین کے 27 ملکوں کو برآمد کی جا سکیں گی۔ اس سے ملک کی برآمدات میں 2 ارب ڈالر تک کا اضافہ متوقع ہے۔ ٹیکسٹائل کی صنعت کو اس سہولت کا براہ راست فائدہ ہو گا جب کہ کم از کم بیس لاکھ لوگوں کو روزگار کے براہ راست مواقعے میسر آئیں گے۔ یہ پاکستان کی ایک بڑی کامیابی ہے اور اس امر کا مظہر ہے کہ ایک ذمے دار ملک کی حیثیت سے پاکستان کی ساکھ عالمی سطح پر بحال ہو رہی ہے۔ اس اہم موقعے پر نیٹو سپلائی کے رکنے سے عالمی برادری میں پاکستان کی ساکھ یقینا متاثر ہو گی۔ احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ تیز ہوا تو یہ سہولت واپس بھی لی جا سکتی ہے اور پاکستان کو کھربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

یہ سیاسی مہم جوئی آج اس مرحلے پر ہو رہی ہے جب 60 سال بعد پاکستان میں جمہوری نظام اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے۔ اس وقت اہم ریاستی اور آئینی ادارے اپنے دائرۂ کار کے اندر رہتے ہوئے کام کر رہے ہیں۔ حقیقی تبدیلی کا یہ عمل 2008ء سے شروع ہوا۔ جمہوری بنیادوں پر انتقال اقتدار کے تمام مراحل ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ خوش اسلوبی سے مکمل ہوئے ہیں۔ 11 دسمبر کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اپنی میعاد پوری کر کے رخصت ہو چکے ہیں۔ ان کی جگہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس تصدیق حسین جیلانی نے چیف جسٹس آف پاکستان کا منصب سنبھال لیا ہے۔ اس عمل سے کچھ ہفتے پہلے، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی فوج کی کمان جنرل راحیل شریف کے سپرد کر کے باوقار انداز میں رخصت ہوئے ہیں۔ اس نوعیت کی اہم ترین تبدیلیاں پاکستان میں پہلے کبھی اتنے ہموار انداز میں نہیں ہوئی تھیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جمہوری نظام کے عمل کو پائیدار طریقے سے جاری رہنے دیا جائے تا کہ سیاسی استحکام پیدا ہو، معیشت بحال ہو اور عالمی برادری میں پاکستان کا وقار بلند ہو۔ اس موقعے پر سیاسی مہم جوئی نشو و نما پانے والے جمہوری اداروں کے لیے سم قاتل ثابت ہو گی۔

سیاسی ہیجان میں مبتلا سیاستدانوں کو وقتی فائدہ حاصل کرنے کا رویہ ترک کرنا چاہیے۔ جمہوری نظام کا استحکام آئندہ خود ان کے لیے سیاسی گنجائش پیدا کرے گا۔ راتوں رات اقتدار میں آنے کی خواہش، پاکستان کے فوجی اور معاشی مفادات پر ضرب لگانے کے مترادف ہو گی۔ عوام دیکھ رہے ہیں کہ امریکا دشمنی کا جنون، پاکستان کو مسائل کی گہری کھائی میں دھکیل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو سیاسی جماعتیں نیٹو سپلائی کی آڑ میں سیاسی فائدہ اٹھانا چاہ رہی ہیں ان کے بارے میں مختلف سوال اٹھنے لگے ہیں۔

پہلا سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی جو خود کو پاکستانی عوام کا سب سے بڑا بہی خواہ کہتی ہیں اور یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کے پاس اعلیٰ دماغ ہیں، کیا انھوں نے نیٹو سپلائی بند کرنے کی تحریک کا آغاز کرنے سے پہلے یہ حساب لگایا تھا کہ اس عمل کے نتیجے میں پاکستان کے فوجی اور معاشی مفادات کو کتنا نقصان ہو گا اور اس کا ازالہ کس طرح کیا جائے گا؟ اگر انھوں نے یہ مشق کی تھی تو انھیں عوام کو اعتماد میں لے کر پہلے یہ بتانا چاہیے تھا کہ ان کے پاس کون سی متبادل حکمت عملی ہے اور اس کے بعد اپنی تحریک کا آغاز کرنا چاہیے تھا۔ محسوس یہی ہوتا ہے کہ انھوں نے منفی عوامل کا کوئی تجزیہ نہیں کیا اور اپنی جماعتوں اور ملک دونوں کو بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔

دوسرا سوال ذہنوں میں یہ ابھرتا ہے کہ نیٹو سپلائی روکنے والے رہنمائوں کو اس قدر عجلت کس بات کی ہے؟ اس مسئلے کا تعلق صرف امریکا سے نہیں بلکہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے ہے۔ جو ملک اس عمل میں رخنہ ڈالے گا وہ اپنا نقصان خود کرے گا۔ یہ سب جاننے کے باوجود، عجلت اور بے قراری ظاہر کرتی ہے کہ ان جماعتوں کو یہ خوف لاحق ہے کہ جمہوری نظام کا تسلسل برقرار رہتا ہے تو موجودہ حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع مل جائے گا وہ توانائی کے بحران سمیت دیگر معاشی مسائل پر بڑی حد تک قابو پا لے گی اور اسے آئندہ عام انتخابات میں ہرانا بہت مشکل ہو گا۔ لہٰذا یہی بہتر وقت ہے کہ داخلی اور خارجی محاذ پر مشکلات میں گھری ہوئی حکومت کو جذباتی نعروں کی بنیاد پر احتجاجی تحریک چلا کر رخصت کر دیا جائے۔ ایک معمولی سیاسی ہدف کو حاصل کرنے کے نتیجے میں پاکستان کا کتنا فوجی اور معاشی نقصان ہو گا اس کی فکر انھیں ضرور کرنی چاہیے۔ آج نہیں تو کل اس کا جواب انھیں دینا تو ہو گا۔
Load Next Story