ایوان سیاست کے نئے مہمان

جج صاحب اگر باعزت زندگی کے طلب گار ہیں تواس عزت کو قابو کرکے بیٹھ جائیں،اسے سیاست کے گلی کوچوں میں رسوا نہ کریں

Abdulqhasan@hotmail.com

سب سے پہلے میں اس ملک کی ایک بڑی شخصیت کو یہ بے سود مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی شدید خواہش کے باوجود سیاست میں حصہ نہ لیں۔ یہ ہمارے سابقہ چیف جسٹس محترم افتخار محمد چوہدری ہیں جو سیاست میں داخلے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ ان سے ملنے والوں اور ان کے دوستوں نے یہ انکشاف کیا ہے کہ جج صاحب سیاستدان بننے کے لیے بے تاب ہیں۔ ان کے ڈرائیور چوہدری اعتزاز احسن نے تو یہاں تک بھی کہہ دیا ہے کہ جج صاحب اگرچہ سیاستدان بننے کے لیے پر تول چکے ہیں لیکن ان کے اندر ''میں'' بہت ہے۔ یہی اندر کی میں ہے جو بڑے بڑوں کو رسوا کر دیتی ہے اور چوہدری اعتزاز نے بروقت اس کی نشاندہی کر کے چوہدری صاحب پر ان کی متوقع سیاسی اوقات واضح کر دی ہے۔ میرے خیال میں تو ان کی تن تنہا چار وردی پوش جرنیلوں کو ''ناں'' کہنے کا اعزاز ان کے لیے عمر بھر کافی ہے۔ صرف ایک جرنیل کے سامنے یہ ''ناں'' نہ کر کے ان کے ایک ہم عصر نے اپنی سیاست کو ختم کر لیا ہے۔ جج صاحب اگر باعزت زندگی کے طلب گار ہیں اور قوم نے انھیں یہ عزت از خود بخشی ہے کسی کی سفارش پر نہیں صرف جج صاحب کے عدالتی کارناموں کے عوض میں، تو وہ اس عزت کو قابو کر کے بیٹھ جائیں اور اسے سیاست کے گلی کوچوں میں رسوا نہ کریں جہاں آغاز بھی رسوائی ہے اور انجام بھی رسوائی۔

جن پاکستانی شخصیات نے اپنے قومی مقام و مرتبہ کی غلط فہمی میں سیاست اختیار کی ہے، ان میں سے کوئی بھی اپنے قومی مقام و مرتبے کو بچا نہیں سکا۔ پاکستان ایئر فورس کا بانی ہونا کوئی معمولی بات نہیں۔ اسی ایئر فورس نے دشمن کی اپنے سے بڑی ائر فورس کو زمین سے اٹھنے نہ دیا اور اس کے ہوا بازوں نے فضاؤں میں بھی عالمی ریکارڈ قائم کیے۔ یہ ہیں ایئرمارشل جناب اصغر خان، جن کا عمر بھر میں مدّاح رہا ہوں اور اب بھی ہوں لیکن انھوں نے سیاست میں آ کر نقصان اٹھایا۔ وہ پاکستان کی مروجہ سیاست میں آگے نہ بڑھ سکے حالانکہ آج کے کئی کامیاب سیاستدان ان کی جماعت کے رکن رہے۔ بہر کیف ائرمارشل صاحب اپنی دلاویز اور پیاری شخصیت کے باوجود سیاست میں وہ مقام حاصل نہ کر سکے جو سیاست میں آنے سے پہلے انھیں حاصل تھا۔ ایک بار تو وہ سیاست سے بے زار ہو کر ایبٹ آباد میں گوشہ نشین ہو گئے۔


ان کی سیاست سے یہ علیحدگی بہت بڑی خبر تھی۔ کتنے ہی رپورٹروں نے ان سے انٹرویو کی درخواست کی جو کامیاب نہ ہوئی۔ میرے ایڈیٹر نے مجھے حکم دیا کہ تم ان کا انٹرویو کرو۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ ان دنوں ہر ایک کو انکار کر چکے ہیں۔ میں نے بھی قسمت آزمائی کی۔ اذن ملاقات ملا کہ آئو ملو لیکن انٹرویو نہیں، میں حاضر ہوا اور مرحوم نسیم حجازی بھی ایبٹ آباد میں مقیم تھے۔ میں ہوٹل میں سامان رکھ کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ میرے ساتھ ائرمارشل کے پاس گئے۔ پر تکلف کھانا کھایا اور انٹرویو بھی ہو گیا۔ میں سیدھا لاہور پہنچا۔ اسی دن یحییٰ خان نے تین سو سے اوپر افسروں کو فارغ کیا جو بڑی خبر تھی لیکن ائرمارشل کا انٹرویو بھی کچھ کم خبر نہ تھی۔ میں عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ ائرمارشل باوجود بہت سارے نامی گرامی ساتھیوں کے سیاست سے کچھ بے زار سے ہو گئے اور اس زندگی میں جم نہ سکے۔

ایسی ہی ایک تازہ مثال محترم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ہے۔ قوم کی طرف سے جو عزت اور وقار ان کو ملا وہ قائد اعظم کے بعد کسی کو نہیں ملا، قوم نے از خود انھیں اپنا محسن قرار دیا اور وہ محسن پاکستان کے نام سے یاد کیے جانے لگے۔ ایٹم بم بنانا بلاشبہ ایک غیر معمولی اور انتہائی قومی خدمت کا کارنامہ تھا۔ قوم نے جی بھر کر اس کا اعتراف کیا، اس قومی اعتراف کو وہ ہضم نہ کر سکے اور کسی بڑے ہی غلط وقت میں انھوں نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا۔ اپنی ہر اس خواہش کا کھل کر اظہار کیا جو وہ سیاست سے حاصل کرنا چاہتے تھے۔ وہ ملک کی باگ ڈور سنبھالنا چاہتے تھے، وزیر اعظم اور صدر بننے کے آرزو مند تھے۔ میں نے ان کی قلمی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور وہ بھی مجھ پر بہت مہربان رہے۔ وہ کبھی کبھار گفتگو میں ملک کی صدارت کی خواہش ظاہر کرتے تھے لیکن وہ چونکہ صدر کے منصب کے اہل تھے اس لیے میں ان کی خدمت کرتا رہا لیکن دبے لفظوں میں یہ بھی عرض کرتا رہا کہ سیاست ان کے لیے موزوں نہیں ہے لیکن وہ اپنے کام سے ریٹائر ہونے کے بعد سیاست میں آ گئے، تب سے میں نے تو خاموشی اختیار کر لی۔ ان کے کئی دوسرے دوست بھی خاموش ہو گئے۔ سیاست میں وہ ادھر ادھر گھومتے پھرتے رہے لیکن اپنے لیے موزوں جگہ نہ بنا سکے یا تلاش نہ کر سکے۔ چنانچہ اب وہ سیاست سے بھی ریٹائر ہو گئے ہیں یا اس دنیا میں خاموشی کے ساتھ کہیں بیٹھ گئے ہیں۔

پاکستانی عوام کسی ٹھوس مزاج کے کارکن فرد کو سیاست میں کوئی منصب دینے کے قائل نہیں ہیں چنانچہ وہ وقت گزارنے اور اپنا مطلب نکالنے والے سیاستدانوں کو ہی قبول کر رہے ہیں۔ اگرچہ اب پوری قوم یہ جان گئی ہے کہ ان ہی سیاسی مسافروں نے ان کے راستے بند کر دیے ہیں اور اب وہ ایک غریب اور محتاج قوم ہیں مگر کسی ماہر عمرانیات کو قوم کی اس ذہنی کیفیت کا تجزیہ کرنا چاہیے۔ کوئی ابن خلدون پیدا ہو جو ہماری امراض کی صحیح تشخیص کر سکے۔ بہرحال عرض یہ ہے کہ کسی پاکستانی کو جو غیر سیاسی ہو اسے سیاست میں داخل ہو کر اپنی عزت کو ختم نہیں کرنا چاہیے۔ جج صاحب کی خدمت میں یہی عرض ہے کہ وہ جتنا کچھ مل گیا ہے اسی پر گزارہ کریں اور آئندہ بھی کسی کامیاب پاکستانی کو سیاست میں آنے سے پہلے خوب سوچ سمجھ لینا چاہیے۔
Load Next Story