وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اہم امور پرغور

تحقیقاتی اداروں کو تحقیقات کے لیے زیادہ اختیارات ملیں گے

انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2012 اور دہشت گردوں و مشکوک افراد کی نگرانی اور ان سے متعلق معلومات تک رسائی کے لیے فیئر ٹرائل بل 2012 کی منظوری دی گئی۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

وفاقی کابینہ کے بدھ کے روز ہونے والے اجلاس میں 12 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔

دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے اور ان کی جائیداد ضبط کرنے سے متعلق انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2012 اور دہشت گردوں و مشکوک افراد کی نگرانی اور ان سے متعلق معلومات تک رسائی کے لیے فیئر ٹرائل بل 2012 کی منظوری دی گئی۔ ان قوانین کے تحت ای میل، موبائل پیغامات سے ہراساں کرنے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے گی اور مجرموں کی ضمانت پر رہائی کے عمل کی روک تھام کی جا سکے گی جب کہ تحقیقاتی اداروں کو تحقیقات کے لیے خاصے اختیارات مل جائیں گے۔

اگرچہ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے پہلے بھی قوانین موجود ہیں جن کے تحت اس عفریت کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں تاہم دہشت گردوں کی مالی اور عملی معاونت روکنے کا کوئی مناسب طریقہ نہیں تھا جب کہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اسی معاشرے میں ان لوگوں کی حمایت کرنے اور ان کو مالی تعاون فراہم کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے جو نہ صرف حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں بلکہ اپنے غلط سلط نظریات دوسروں پر تھونپنے کے لیے انسانیت کا خون بہانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

چنانچہ امید کی جاتی ہے کہ ان ترمیمی بلوں کے نفاذ سے دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے میں مدد ملے گی جس کے نتیجے میں ظاہر ہے ان کے لیے اپنی مہم چلانا اور سرگرمیاں جاری رکھنا ممکن نہیں رہے گا' دہشت گردوں و مشکوک افراد کی نگرانی اور ان سے متعلق معلومات تک رسائی بھی ایسے افراد اور گروہوں پر کڑا ہاتھ ڈالنے میں کافی مدد دے گی جو معاشرے کا امن و چین چھین لینے کے درپے ہیں۔ ماضی میں مشاہدے میں آتا رہا کہ دہشت گردی کے الزام کے تحت گرفتار کیے گئے افراد ضمانت پر رہا ہو جاتے رہے نیا ترمیمی قانون اس عمل کی روک تھام میں معاون ثابت ہو گا یوں قانون کی گرفت میں آئے ہوئے دہشت گردوں کے لیے اپنی جان چھڑانا ممکن نہیں رہے گا۔


تحقیقاتی اداروں کو تحقیقات کے لیے زیادہ اختیارات ملیں گے تو شفاف تحقیقات کو بہتر طور پر ممکن بنایا جا سکے گا۔ یہاں تک تو معاملات ٹھیک ہیں لیکن سبھی جانتے ہیں کہ دہشت گردوں کے زیادہ تر ٹھکانے افغانستان کے سرحدی علاقوں کے ساتھ لگنے والی متعدد ایجنسیوں باجوڑ' مہمند' خیبر' کُرم' اورکزئی' جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان میں ہیں جن کو فاٹا کہا جاتا ہے۔ یہ علاقے وفاقی انتظام کے تحت چلائے جاتے ہیں اور وہاں پاکستانی قوانین لاگو نہیں ہیں چنانچہ سوال یہ ہے کہ ان علاقوں سے پکڑے گئے دہشت گردوں اور ان کی معاونت کرنے والوں کو بھی ان ترمیمی قوانین کے تحت سزا دی جا سکے گی؟۔ دہشتگردی کے مکمل خاتمے اور دہشتگردوں پر مکمل قابو پانے کے لیے اس سوال کا جواب تلاش کیا جانا ازحد ضروری ہے۔

کابینہ نے اپنے اجلاس میں بجلی کی چوری کی روک تھام کے لیے دو مسودہ قوانین کی منظوری بھی دی جن میں ڈرافٹ الیکٹرسٹی ترمیمی بل 2012ء اور فوجداری قانون ترمیمی بل 2012ء شامل ہیں جن کے مطابق بجلی کی چوری کے جرم کو ناقابل ضمانت قرار دیا گیا اور اس حوالے سے سزائوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ مخصوص کیسز میں اس جرم میں ملوث افراد کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا جا سکے گا۔ فوجداری قانون (ترمیمی) بل 2012ء کے مطابق بجلی کی ٹرانسمیشن کے نظام میں گڑبڑ اور جعلسازی کرنے کے جرم کی سزا تین سال قید بامشقت اور ایک کروڑ روپے تک جرمانہ ہو گا اور ترسیلی نظام میں خلل' گڑبڑ اور جعلسازی کرنے پر دو سال قید اور تیس لاکھ روپے جرمانہ کی سزا ہو گی۔

گھریلو صارفین کی جانب سے بجلی کے میٹروں میں ٹمپرنگ، اس کے نامناسب استعمال یا جعلسازی پر ایک سال قید یا دس لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ صنعتی یا زرعی صارفین کی جانب سے بجلی کے میٹروں میں ٹمپرنگ، نامناسب استعمال یا جعلسازی پر کئی سال قید یا 60 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکیں گی جب کہ بجلی کی ٹرانسمشن لائنز، ڈسٹری بیوشن لائنز یا بجلی کے میٹروں کو نقصان پہنچانے کے جرم پر 7سال قید اور جرمانہ کی سزا ہو سکتی ہے جو 30 لاکھ روپے سے کم نہیں ہو گا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ موجودہ قانونی نظام میں بجلی کی چوری پر معمولی سزائیں ہیں تاہم نئے قوانین سے بجلی چوروں کو طویل قید اور بھاری جرمانے کی سزائیں دی جا سکیں گی۔

دونوں مسودہ قوانین اس حوالے سے نہایت اہمیت و افادیت کے حامل ہیں کہ ان کو حتمی شکل دینے اور پارلیمنٹ سے ان کی منظوری اور نفاذ کے بعد بجلی چوری کی شرح کو نیچے لایا جا سکے گا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف واپڈا کا ریونیو بڑھے گا اور اس کے لیے مزید بجلی پیدا کرنے کے وسائل جمع کرنا ممکن ہو سکے گا بلکہ اس کے بلوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور اس کے بعد ممکن ہے بجلی کی تقسیم اور ترسیل کے ذمے دار اداروں کو بار بار بجلی کی قیمت بڑھانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔

ضروری ہے کہ ان قوانین کے جلد از جلد نفاذ کو یقینی بنایا جائے تاکہ اس کے مثبت اثرات سے مستفید ہوا جا سکے۔ کابینہ نے اپنے اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے گزشتہ ماہ ہونے والے فیصلوں کی توثیق کی' عبوری حکومت کے قیام میں پیش رفت کو پرکھا' ترکی اور سری لنکا کے ساتھ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق مفاہمت کی یادداشتوں کی منظوری دی اور قانون ساز اداروں میں غیرمسلموں کی نشستوں کے معاملے پر کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ بھی لیا۔
Load Next Story