جی ایس پی پلس سے لیدرگارمنٹس کورعایت نہیں ملیپیٹرن انچیف پاکستان لیدرگارمنٹس ایسوسی ایشن

جی ایس پی پلس کا درجہ حاصل ہونے سے یورپین مارکیٹ کے لیے صرف ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات کا حجم بڑھے گی،فواد اعجاز خان

لیدرگارمنٹس انڈسٹری کے ریفنڈز کی مد میں مجموعی طور پر4 ارب روپے مالیت کے واجبات طویل دورانیے سے التوا کا شکار ہیں،، فواد اعجاز خان فوٹو: فائل

یورپین یونین کے جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے سے پاکستان کی لیدرگارمنٹس ایکسپورٹ پر کوئی خاص مثبت اثرات مرتب نہیں ہوں گے کیونکہ یورپی ممالک میں پاکستان سے برآمد ہونے والے لیدرگارمنٹس کو پہلے ہی زیروریٹنگ ڈیوٹی کی سہولت حاصل ہے، البتہ لیدرگارمنٹس کے صرف چند آئٹمز جن میں لیدرگلوز شامل ہیں کو یورپ میں ڈیوٹی فری کی سہولت حاصل ہوگئی ہے۔

پاکستان لیدرگارمنٹس ایسوسی ایشن کے پیٹرن انچیف فواد اعجاز خان نے ''ایکسپریس'' کے استفسار پر بتایا کہ حکمران جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے پر سیاسی فوائد حاصل کرتے ہوئے برآمدات میں اضافے کے بلندوبانگ دعوے کررہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ درجہ حاصل ہونے سے یورپین مارکیٹ کے لیے صرف پاکستان سے ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات کا حجم بڑھے گا جس کی مالیت بمشکل 50 کروڑ ڈالر ہوگی لیکن لیدرگارمنٹس سیکٹر کے برآمدکنندگان کو مذکورہ درجہ ملنے سے کوئی قابل قدررعایت نہیں ملی ہے۔


انہوں نے بتایا کہ مقامی لیدرگارمنٹس ایکسپورٹ انڈسٹری انفرااسٹرکچرل مسائل کے باعث پہلے ہی تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے اور حکومتی اداروں کی جانب سے ریفنڈز کی عدم ادائیگیوں کے سبب چھوٹی ودرمیانی درجے کی لیدرگارمنٹس انڈسٹری بند ہو چکی ہے۔

فواد اعجاز نے بتایا کہ صرف لیدرگارمنٹس انڈسٹری کے ریفنڈز کی مد میں مجموعی طور پر4 ارب روپے مالیت کے واجبات طویل دورانیے سے التوا کا شکار ہیں، لیدرگارمنٹس انڈسٹری کے برآمدکنندگان محکمہ کسٹمز، انکم ٹیکس اور سیلزٹیکس ڈپارٹمنٹس کی ریفنڈ پالیسیوں سے مایوس ہوچکے ہیں، محکمہ کسٹمزمیں اس شعبے کے ڈیوٹی ڈرابیک کی مد میں واجبات 6 تا8 ماہ سے زیرالتوا ہیں، اسی طرح انکم ٹیکس اور سیلزٹیکس ریفنڈکلیمز بھی گزشتہ ڈیڑھ سال سے التوا کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نہ تو انفرااسٹرکچرل مسائل حل کررہی ہے اور نہ ہی محصولات وصول کرنے والے ایف بی آر کے ماتحت محکموں کا قبلہ درست کررہی ہے، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 5 سال سے لیدرگارمنٹس سیکٹر میں کوئی نئی صنعت قائم نہیں ہوئی، ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعظم نوازشریف اور وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار لیدر گارمنٹس انڈسٹری کے مکمل بندہونے سے پہلے ایف بی آر کے ماتحت محکموں میں ڈیوٹی ڈرابیک، انکم ٹیکس اور سیلزٹیکس ریفنڈ کی تیزرفتار شفاف پالیسی متعارف کرانے کے احکام جاری کریں۔
Load Next Story