کراچی چیمبر نے بھارت سے مقامی کرنسیوں میں تجارت کی تجویز پیش کر دی
دونوں ملکوں کے درمیان کرنسی سواپ معاہدہ ہونا چاہیے،نائب صدر کا بھارتی تجارتی وفدکے دورہ چیمبرپراجلاس سے خطاب
تجارت میں حائل رکاوٹیں دوراوربارڈرپرکسٹم کلیئرنس ڈیجیٹلائز کرنے پر زور، بھارت میں نمائشوں کے ارادے سے بھی آگاہ کیا
کراچی چیمبر آف کامرس کے نائب صدر محمدادریس نے پاکستان اور بھارت تعلقات کی بہتری میں حائل رکاوٹوں کودور کرنے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہا کہ بھارتی ویزا پالیسی کے تحت پاکستانی تاجروں کو پابند کیا جاتاہے کہ وہ بھارت آمدوروانگی کے لیے صرف ایک ہی انٹری و ایگزٹ پوائنٹ استعمال کریں ۔
جس پر نظرثانی کی ضرورت ہے، پاکستانی تاجر وںکو بھارت کے دورے پر یہ آزادی ہونی چاہیے کہ وہ اپنی سہولت کے مطابق کوئی بھی انڑی و ایگزٹ پوائنٹ کاانتخاب کریں۔ یہ بات انہوںنے بھارتی تاجروں کے 57رکنی وفد کے کراچی چیمبر آف کامرس کے دورے کے موقع پر منعقدہ اجلاس سے خطاب میں کہی، اس موقع پربھارتی وفد کے سربراہ اور فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آگنائزیشنز(فیو) کے رکن عبدالعزیز حاجی، جوائنٹ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل فیو چندراناتھ سوم، بزنس مین گروپ کے وائس چیئرمین انجم نثار، کے سی سی آئی کی خصوصی کمیٹی برائے بین الاقوامی امور جنید اسماعیل ماکڈا کے علاوہ بھارتی وفد میں شامل دیگربھی موجود تھے۔ بھارتی وفد کی پاکستان آمد کا مقصد ایکسپو سینٹر میں جاری دوسری '' انڈیا ایکسپو'' نمائش 2014 میں شرکت کرنا ہے، فیڈریشن آف انڈیشن ایکسپورٹ آرگنائزیشنز کے زیر اہتمام کراچی چیمبر آف کامرس کے تعاون سے منعقد ہونے والی یہ 3روزہ نمائش اتوار15دسمبر2013کو اختتام پذیر ہو گی۔
محمدادریس نے اس موقع پر پاک بھارت سرحدوں پر پاکستانی تاجروں کو درپیش مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتی کسٹمز کو مشورہ دیا کہ وہ روایتی کاغذی کارروائی کے ساتھ تمام ضروری دستاویزات کی فہرست کی دستیابی بھی یقینی بنائیں۔ انھوں نے مصنوعات کی کلیئرنس کے عمل کوتیز تر بنانے کیلیے اس پورے طریقہ کار کو ڈیجیٹلائزکرنے پر بھی زور دیا جس سے برآمدی کنسائنمنٹس خاص طور پر جلد خراب ہونیوالی اشیا کی بروقت ترسیل ممکن ہو سکے گی۔
انہوں نے پاک بھارت تجارت کے فروغ کے لیے دونوںممالک کے درمیان مقامی کرنسی میں تجارت پر زور دیا اور کہاکہ اس سلسلے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کرنسی سواپ ایگریمنٹ وقت کی ضرورت ہے جس سے دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ممکن بنایاجاسکتا ہے۔محمد ادریس نے جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز(فیو) چندراناتھ سوم کے ایک اعلان کا ذکر کرتے ہوئے یہ امید ظاہرکی کہ فیو اس طرح کی نمائشیں کراچی میں ہر سال باقاعدگی سے منعقد کرے گا۔
انھوں نے ''مائی کراچی''نمائش کے بارے میں بھارتی وفد کوآگاہ کیا اور نمائش میں شرکت کی دعوت دی جسے بھارتی وفد نے قبول کرتے ہوئے بھرپور شرکت کی یقین دہانی کرائی۔ محمد ادریس نے بتایا کہ کراچی چیمبرآف کامرس بھارت میںپاکستانی مصنوعات کی برآمدات کے فروغ کیلیے 2 نمائشوں کے انعقاد پر غور کررہاہے جس میں ایک نمائش چنائی جبکہ دوسری نمائش بھارت کے کسی ایسے شہر میں منعقد کی جائے گی جہاں پاکستانی مصنوعات کوزیادہ سے زیادہ پذیرائی حاصل ہو۔ اس ضمن میں بھارتی تاجروں نے کراچی چیمبر آف کامرس کو ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے گزشتہ برس دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے باہمی تجارتی معاہدوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ ان کے نتیجے میں دوطرفہ تجارتی تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ کراچی چیمبرکی خصوصی کمیٹی برائے بین الاقوامی امور جنید اسماعیل ماکڈانے کہاکہ کراچی چیمبر'ممبئی چیمبر کی طرح دیگر بھارتی چیمبرز کے ساتھ بھی ایم او یوزسائن کرنے کاخواہش مند ہے۔
جس پر نظرثانی کی ضرورت ہے، پاکستانی تاجر وںکو بھارت کے دورے پر یہ آزادی ہونی چاہیے کہ وہ اپنی سہولت کے مطابق کوئی بھی انڑی و ایگزٹ پوائنٹ کاانتخاب کریں۔ یہ بات انہوںنے بھارتی تاجروں کے 57رکنی وفد کے کراچی چیمبر آف کامرس کے دورے کے موقع پر منعقدہ اجلاس سے خطاب میں کہی، اس موقع پربھارتی وفد کے سربراہ اور فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آگنائزیشنز(فیو) کے رکن عبدالعزیز حاجی، جوائنٹ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل فیو چندراناتھ سوم، بزنس مین گروپ کے وائس چیئرمین انجم نثار، کے سی سی آئی کی خصوصی کمیٹی برائے بین الاقوامی امور جنید اسماعیل ماکڈا کے علاوہ بھارتی وفد میں شامل دیگربھی موجود تھے۔ بھارتی وفد کی پاکستان آمد کا مقصد ایکسپو سینٹر میں جاری دوسری '' انڈیا ایکسپو'' نمائش 2014 میں شرکت کرنا ہے، فیڈریشن آف انڈیشن ایکسپورٹ آرگنائزیشنز کے زیر اہتمام کراچی چیمبر آف کامرس کے تعاون سے منعقد ہونے والی یہ 3روزہ نمائش اتوار15دسمبر2013کو اختتام پذیر ہو گی۔
محمدادریس نے اس موقع پر پاک بھارت سرحدوں پر پاکستانی تاجروں کو درپیش مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتی کسٹمز کو مشورہ دیا کہ وہ روایتی کاغذی کارروائی کے ساتھ تمام ضروری دستاویزات کی فہرست کی دستیابی بھی یقینی بنائیں۔ انھوں نے مصنوعات کی کلیئرنس کے عمل کوتیز تر بنانے کیلیے اس پورے طریقہ کار کو ڈیجیٹلائزکرنے پر بھی زور دیا جس سے برآمدی کنسائنمنٹس خاص طور پر جلد خراب ہونیوالی اشیا کی بروقت ترسیل ممکن ہو سکے گی۔
انہوں نے پاک بھارت تجارت کے فروغ کے لیے دونوںممالک کے درمیان مقامی کرنسی میں تجارت پر زور دیا اور کہاکہ اس سلسلے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کرنسی سواپ ایگریمنٹ وقت کی ضرورت ہے جس سے دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ممکن بنایاجاسکتا ہے۔محمد ادریس نے جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز(فیو) چندراناتھ سوم کے ایک اعلان کا ذکر کرتے ہوئے یہ امید ظاہرکی کہ فیو اس طرح کی نمائشیں کراچی میں ہر سال باقاعدگی سے منعقد کرے گا۔
انھوں نے ''مائی کراچی''نمائش کے بارے میں بھارتی وفد کوآگاہ کیا اور نمائش میں شرکت کی دعوت دی جسے بھارتی وفد نے قبول کرتے ہوئے بھرپور شرکت کی یقین دہانی کرائی۔ محمد ادریس نے بتایا کہ کراچی چیمبرآف کامرس بھارت میںپاکستانی مصنوعات کی برآمدات کے فروغ کیلیے 2 نمائشوں کے انعقاد پر غور کررہاہے جس میں ایک نمائش چنائی جبکہ دوسری نمائش بھارت کے کسی ایسے شہر میں منعقد کی جائے گی جہاں پاکستانی مصنوعات کوزیادہ سے زیادہ پذیرائی حاصل ہو۔ اس ضمن میں بھارتی تاجروں نے کراچی چیمبر آف کامرس کو ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے گزشتہ برس دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے باہمی تجارتی معاہدوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ ان کے نتیجے میں دوطرفہ تجارتی تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ کراچی چیمبرکی خصوصی کمیٹی برائے بین الاقوامی امور جنید اسماعیل ماکڈانے کہاکہ کراچی چیمبر'ممبئی چیمبر کی طرح دیگر بھارتی چیمبرز کے ساتھ بھی ایم او یوزسائن کرنے کاخواہش مند ہے۔