مون سون اور بڑھتی ہوئی مہنگائی

مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس جو اس ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے‘ اسے علاج کی کوئی سہولت حاصل نہیں ہے۔

مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس جو اس ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے‘ اسے علاج کی کوئی سہولت حاصل نہیں ہے۔ فوٹو : فائل

پاکستان میں مون سون کی بارشوںاور سیلاب نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔ کراچی میں تو کاروبار زندگی معطل ہو چکا ہے۔ ملک کے دیگر شہروں میں بھی صورت حال کوئی زیادہ اچھی نہیں ہے۔

وفاقی حکومت سے لے کر صوبائی حکومتوں کے کارپرداز بیان بازیاں کر کے خود کو پاک صاف ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ کسی نے بھی شہری اداروں سے کام لینے کی حکمت عملی اختیار نہیں کی جس کی وجہ سے شہری اداروں کے افسر اور اہلکار سستی اور کاہلی کا شکار ہو گئے۔ ان کی اس سستی اور کاہلی میں سیاستدانوں کا بھی ایک اہم کردار ہے لیکن اس کا خمیازہ کراچی اور دیگر شہروں کے عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

ایک جانب یہ صورت حال ہے تو دوسری جانب ملک کی معیشت اور کاروباری سرگرمیوں کا جائزہ لیں تو وہاں بھی حالات ابتر نظر آتے ہیں۔ مہنگائی کا گراف مسلسل اوپر جا رہا ہے۔ خصوصاً روز مرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بازار سے دودھ لینے چلے جائیں یا سبزیاں لینے چلے جائیں' ان کے نرخ بدلے ہوئے نظر آئیں گے۔ پھلوں کی بھی یہی صورت حال ہے۔ ادویات کا معاملہ تو انتہائی گمبھیر ہو چکا ہے۔

میڈیکل اسٹورز پر ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار اتنی تیز ہے کہ ہفتے ہفتے کے بعد دوائی کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ بعض اہم ادویات اچانک مارکیٹس سے غائب ہو جاتی ہیں۔ جان بلب مریضوں کے لواحقین مجبوری کے عالم میں کبھی ایک میڈیکل اسٹور پر جاتے ہیں تو کبھی دوسرے میڈیکل اسٹور پر جاتے ہیں مگر انھیں وہ دوائی نہیں ملتی۔ پھر اچانک اسپتال کا ہی کوئی ملازم انھیں کہتا ہے کہ یہ دوائی مل سکتی ہے مگر اس کے پیسے زیادہ ہوں گے۔ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق مریض کے لواحقین مہنگی دواخریدنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

موجودہ حکومت جب سے برسراقتدار آئی ہے' اس وقت سے لے کر اب تک کا جائزہ لیا جائے تو ادویات کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ ادھر اسپیشلسٹ فزیشن ڈاکٹرز اور سرجن ڈاکٹرز کی فیسوں میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔ ان پروفیسر ڈاکٹرز کی فیس دو ہزار سے شروع ہو کر تین ہزار اور بعض پروفیسرز چار سے پانچ ہزار روپے فیس بھی وصول کر رہے ہیں۔ یہ فیس صرف مریض کو ایک بار چیک کرنے کی ہے۔ ڈاکٹر جو دوائیاں لکھتا ہے' اس کا خرچہ الگ ہے۔


ایک عام اور متوسط طبقے کا ایسا فردجو سرکاری ملازم یا کسی ملٹی نیشنل کمپنی کا ریگولر ملازم نہ ہو ' وہ تو ان پروفیسر ڈاکٹرز کے پاس جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ سرکاری اور بڑے نجی اداروں میں کسی حد تک ملازمین کو میڈیکل کی سہولتیں حاصل ہوتی ہیں' مگر چھوٹے ملازمین کو بہت کم پیسوں پر مشتمل سہولت ملتی ہے۔ جس کی وجہ سے چھوٹے ملازم بھی بڑے پروفیسرز ڈاکٹرز سے اپنا یا اپنے کسی عزیز کا معائنہ نہیں کرا سکتے۔

طبقہ امرا کی بات تو الگ ہے' ان کے لیے پیسے کی کوئی وقعت نہیں' وہ جدید اسپتالوں میں علاج کراتے ہیں اور وہ علاج کا مالی بوجھ برداشت کر سکتے ہیں۔ اعلیٰ بیوروکریسی' دیگر سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران' منتخب عوامی نمایندے ' وزراء ' مشیران وغیرہ بھی سرکاری خزانے سے علاج کرا سکتے ہیں۔

لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس جو اس ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے' اسے علاج کی کوئی سہولت حاصل نہیں ہے۔ اس نے سرکاری اسپتال میں جانا ہے تب بھی اپنی جیب سے پیسے ادا کرنے ہیں' اس نے بس میں سفر کرنا ہے تو تب بھی اپنی جیب سے پیسے خرچ کرنے ہیں' کسی پارک' عجائب گھر اور چڑیا گھر وغیرہ میں جانا ہے تو وہاں بھی ٹکٹ کے پیسے اپنی جیب سے ادا کرنے ہیں اور کسی قسم کی رعایت بھی نہیں ملنی حالانکہ یہ طبقہ سرکار کے تمام ٹیکس ادا کرتا ہے۔

اگر کوئی انکم ٹیکس ادا نہیں کر رہا یا وہ فائلر نہیں ہے تب بھی وہ سب سے زیادہ ٹیکس ادا کر رہا ہے۔ وہ بازار سے کوئی بھی چیز خریدنے جاتا ہے تو اس کے مینوفیکچرز پر عائد ایکسائز ڈیوٹی اور ریٹیلرپر عائد جی ایس ٹی اسے ہی ادا کرنا پڑتا ہے۔ باقی تمام ان ڈائریکٹ ٹیکسز عام آدمی ہی ادا کرتا ہے۔

لیکن اس ٹیکس کے بدلے میں سرکار اسے کوئی سہولت فراہم نہیں کرتے جب کہ ان کے ٹیکسوں سے تنخواہیں اور مراعات وصول کرنے والے سرکاری افسران' سینیٹ 'قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان' صدر اور وزیراعظم سے لے کر وزراء اور مشیران تک ہر قسم کی سہولت حاصل کر رہے ہیں۔
Load Next Story