سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم اصغرخان بیان کیلیے طلب
اصغرخان نے ہی سپریم کورٹ سے رجوع کیاتھا،ایف آئی اے ٹیم تحقیقات کررہی ہے
تحقیقاتی ٹیم نے پیمرا، میڈیادفاتر اورعدالت سے ریکارڈ جمع کرنا شروع کردیا ہے۔فوٹو:فائل
ایف آئی اے کے ڈائریکٹرجنرل سعود مرزانے کہاہے کہ مہران بینک اسکینڈل کی تحقیقات کے سلسلے میںریکارڈ جمع کیا جا رہاہے۔
جس کے بعد کیس میں حلفیہ بیان ریکارڈکرانے کیلیے متعلقہ افرادکونوٹس جاری کیے جائیں گے۔ ایکسپریس سے گفتگوکرتے ہوئے ایف آئی اے کے سربراہ سعودمرزا نے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم نے پیمرا، میڈیادفاتر اورعدالت سے ریکارڈ جمع کرنا شروع کردیا ہے، تمام ریکارڈ جمع ہونے کے بعد تحقیقات کے سلسلے میں مہران بینک اسکینڈل کیس کے درخواست گزاراصغرخان، جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی، مہران بینک کے چیف ایگزیکٹو یونس حبیب کو حلفیہ بیانات کیلیے نوٹس جاری کیے جائیں گے۔
ایف آئی اے کی ٹیم کی جانب سے اصغرخان کوبیان ریکارڈکرانے کیلیے طلب کرنے کے سوال پرانھوں نے کہاکہ اس حوالے سے معلومات نہیں ہیں لیکن ابھی ہم کیس کا ریکارڈ اکٹھا کر رہے ہیں۔ دریں اثنا یہ بھی معلوم ہوا کہ مہران بینک کیس میں ایف آئی اے کی ٹیم نے کیس کے درخواست گزار اصغر خان کواپنا حلفیہ بیان ریکارڈکرانے کیلیے طلب کرلیا ہے۔ یاد رہے کہ 1990کی دہائی میں آئی ایس آئی کی طرف سے سیاستدانوں میں 14 کروڑ روپے تقسیم کرنے کے مبینہ الزام کے حوالے سے اصغرخان نے 1996میں سپریم کورٹ سے رجوع کیاتھا۔ ایف آئی اے کی ٹیم سپریم کورٹ کے حکم پر اصغر خان کیس کی تحقیقات کر رہی ہے۔
جس کے بعد کیس میں حلفیہ بیان ریکارڈکرانے کیلیے متعلقہ افرادکونوٹس جاری کیے جائیں گے۔ ایکسپریس سے گفتگوکرتے ہوئے ایف آئی اے کے سربراہ سعودمرزا نے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم نے پیمرا، میڈیادفاتر اورعدالت سے ریکارڈ جمع کرنا شروع کردیا ہے، تمام ریکارڈ جمع ہونے کے بعد تحقیقات کے سلسلے میں مہران بینک اسکینڈل کیس کے درخواست گزاراصغرخان، جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی، مہران بینک کے چیف ایگزیکٹو یونس حبیب کو حلفیہ بیانات کیلیے نوٹس جاری کیے جائیں گے۔
ایف آئی اے کی ٹیم کی جانب سے اصغرخان کوبیان ریکارڈکرانے کیلیے طلب کرنے کے سوال پرانھوں نے کہاکہ اس حوالے سے معلومات نہیں ہیں لیکن ابھی ہم کیس کا ریکارڈ اکٹھا کر رہے ہیں۔ دریں اثنا یہ بھی معلوم ہوا کہ مہران بینک کیس میں ایف آئی اے کی ٹیم نے کیس کے درخواست گزار اصغر خان کواپنا حلفیہ بیان ریکارڈکرانے کیلیے طلب کرلیا ہے۔ یاد رہے کہ 1990کی دہائی میں آئی ایس آئی کی طرف سے سیاستدانوں میں 14 کروڑ روپے تقسیم کرنے کے مبینہ الزام کے حوالے سے اصغرخان نے 1996میں سپریم کورٹ سے رجوع کیاتھا۔ ایف آئی اے کی ٹیم سپریم کورٹ کے حکم پر اصغر خان کیس کی تحقیقات کر رہی ہے۔