وزیر خزانہ کی ڈالر سستا کرنے کی نوید

ڈالرکی قیمت نیچے آنا ممکن نہیں،حالیہ دنوں میں جو اضافہ ہوا ہے وہ غیرحقیقی ہے اور اس میں سٹے کا امکان زیادہ ہے

ڈالر کی قیمتوں میں جو غیر معمولی اضافہ ہوا ہے وہ افواہوں اور قیاس آرائیوں کے باعث ہوا ہے. فوٹو:فائل

ISLAMABAD:
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے کہا ہے کہ جن شہریوں کے پاس ڈالر ہیں' وہ انھیں کیش کرا لیں کیونکہ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کو جلد1998ء اور 1999ء کی طرح نیچے لے آئیں گے۔لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت اقتصادی سرگرمیوں میں بہتری کے لیے کوشاں ہے اور جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد پاکستانی مصنوعات بغیر کسی پابندی کے یورپی منڈیوں میں پہنچ سکیں گی۔ وفاقی وزیر خزانہ نے جو بات کہی ہے' اگر پاکستان کی روایت کو دیکھا جائے تو ڈالر کی قیمت نیچے آنا ممکن نہیں ہے لیکن اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ڈالر کی قیمت میں حالیہ دنوں میں جو اضافہ ہوا ہے' وہ غیر حقیقی ہے اور اس میں سٹے کا امکان زیادہ ہے۔

پاکستان میں کچھ عرصے سے سونے' پراپرٹی اور کرنسی کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھائو دیکھنے میں آیا ہے' ان معاملات سے جہاں چند افراد نے راتوں رات بھاری منافع کمائے ہیں' وہاں پاکستان کی معیشت پر بھی اثرات پڑے ہیں' ڈالر میں غیر حقیقی اضافہ ہونے سے معاشی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں' وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایک اچھا پیغام دیا ہے ' اس سے ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھائو کے نام پر جو سٹہ ہو رہا ہے' وہ ختم ہو جائے گا' ڈالر کی قیمتوں میں جو غیر معمولی اضافہ ہوا ہے' وہ افواہوں اور قیاس آرائیوں کے باعث ہوا ہے' اب وفاقی وزیر خزانہ صورتحال کو واضح کر دیا ہے' ایسا کام بہت پہلے ہونا چاہیے تھا۔حالیہ دنوں میں جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کی وجہ سے بھی ملک میں معاشی حوالے سے جو منفی نوعیت کی قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں وہ بھی کم ہوئیں۔پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر مستحکم ہونے کی اطلاعات بھی بڑی مثبت اثرات کی حامل ہیں۔حکومت کی معاشی پالیسی جیسے جیسے واضح ہوتی جائے گی اسی طرح ڈالر کے مقابلے میں روپیہ بھی مستحکم ہو گا۔ اب حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج انرجی کے معاملات کو بہتر بنانا ہے۔


پاکستانی صنعت کاروں اور برآمد کنندگان کا کہنا ہے گیس اور بجلی کی کمیابی کے باعث وہ بیرونی آرڈرز کی کماحقہ تکمیل کے قابل نہیں ہو سکتے۔ یہ واقعی بڑی تشویش ناک بات ہے۔ اگر ہمارے برآمد کنندگان بیرونی آرڈر ہی تکمیل نہ کر سکیں گے تو اس سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔ وفاقی وزیر خزانہ نے بھی تسلیم کیاہے کہ مہنگی بجلی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ سستی بجلی کے لیے بڑے ڈیم بنائیں گے۔جہاں تک ڈیم بنانے کا معاملہ ہے اس حوالے سے بھی حکومتوں کی کارکردگی اچھی نہیں رہی ہے۔ بجلی کا بحران نیا نہیں ہے۔ بہر حال یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ موجودہ حکومت نے اپنے مختصر دور میں بجلی کے بحران پر کسی حد تک قابو پایا ہے۔ گردشی قرضوں کے معاملے کو بھی بہتر بنایا ہے۔

جی ایس پی پلس اسٹیٹس کا حصول بھی موجودہ حکومت کا ایک کارنامہ ہے۔ اگر پاکستان اس سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھاتا ہے تو اس کے معیشت پر بڑے مثبت اثرات پڑیں گے۔ بہر حال ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے کثیرالجہتی حکمت عملی اور منصوبوں کی ضرورت ہے۔ حکومت انرجی کے حصول کے لیے جو کوششیں کر رہی ہے 'وہ بھی اس وقت ہی کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی ہیں جب معاشی حوالے سے قیاس آرائیوں اور افواہوں کا خاتمہ ہو جائے۔وفاقی وزیر خزانہ نے ڈالر کو اوپر نیچے کرنے والوں کو واضح پیغام دے دیا ہے۔ اگر ڈالر کی قیمتیں مستحکم ہو جاتی ہیں تو حکومت کے لیے دیگر مالیاتی نوعیت کے فیصلے کرنا خاصا آسان ہو جائے گااور ملک میں کاروباری سرگرمیوں میں بھی استحکام آئے گا۔
Load Next Story