ایف بی آر نئی اسکیم سے متعلق 3 ایس آر اوز آئندہ ہفتے جاری کریگا
انویسٹرز سے آمدن ذرائع نہیں پوچھے جائینگے،ذرائع چھپانے کی صورت میں 35 فیصدٹیکس دینا ہوگا
28 فروری تک ٹیکس گوشوارے جمع کرانیوالے آڈٹ سے مستثنیٰ،صنعتی ترقی کو فروغ ملے گا، ترجمان۔ فوٹو: فائل
ایف بی آر نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے تین ایس آر اوز جاری کیے جائیں گے۔
ترجمان ایف بی آر شاہد حسین اسد نے بتایا کہ نئی اسکیم سے سرمایہ کاروں سے آمدنی کے ذرائع نہیں پوچھے جائیں گے، ایس آر اوز کا مسودہ منظوری کیلیے وزارت خزانہ کو بھجوا دیا گیا۔ اسکیم سے لاکھوں افراد کو روزگار ملے گا اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوگا۔
سہولت کا اطلاق یکم جنوری 2014تا 30 جون 2016 ہوگا، سرمایہ کاری کے ذریعے 30 جون 2016 تک پیداوار شروع کرنا ہوگی، سرمایہ کاری کی کوئی حد مقرر نہیں، آمدنی کا ذریعہ چھپانے کی صورت میں 35 فیصد ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے آمدنی کا ذریعہ خفیہ رکھ سکیں گے، ملک میں صنعتی ترقی کو فروغ ملے گا، 28 فروری تک انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرانیوالے آڈٹ سے متسثنٰی ہونگے، ایسے افراد سے جرمانہ، سرچارج یا پینلٹی بھی وصول نہیں کی جائیگی۔
ترجمان ایف بی آر شاہد حسین اسد نے بتایا کہ نئی اسکیم سے سرمایہ کاروں سے آمدنی کے ذرائع نہیں پوچھے جائیں گے، ایس آر اوز کا مسودہ منظوری کیلیے وزارت خزانہ کو بھجوا دیا گیا۔ اسکیم سے لاکھوں افراد کو روزگار ملے گا اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوگا۔
سہولت کا اطلاق یکم جنوری 2014تا 30 جون 2016 ہوگا، سرمایہ کاری کے ذریعے 30 جون 2016 تک پیداوار شروع کرنا ہوگی، سرمایہ کاری کی کوئی حد مقرر نہیں، آمدنی کا ذریعہ چھپانے کی صورت میں 35 فیصد ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے آمدنی کا ذریعہ خفیہ رکھ سکیں گے، ملک میں صنعتی ترقی کو فروغ ملے گا، 28 فروری تک انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرانیوالے آڈٹ سے متسثنٰی ہونگے، ایسے افراد سے جرمانہ، سرچارج یا پینلٹی بھی وصول نہیں کی جائیگی۔