ہفتہ رفتہ مقامی منڈیوں میں روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی کا رجحان

نیویارک کاٹن ایکسچینج میں نرخ 7ہفتوں کی بلند ترین سطح پر، اسپاٹ ریٹ 6500روپے من، تیزی جاری رہنے کا امکان

نیویارک کاٹن ایکسچینج میں نرخ 7ہفتوں کی بلند ترین سطح پر، اسپاٹ ریٹ 6500روپے من، تیزی جاری رہنے کا امکان۔ فوٹو: فائل

چین کی جانب سے درآمدی کاٹن کی بینچ مارک قیمت میں کمی اورڈیوٹی فری کاٹن امپورٹ جاری رکھنے کے فیصلے کے علاوہ یورپی یونین کی پاکستان کوجی ایس پی پلس کا درجہ دیے جانے کے بعد مقامی ٹیکسٹائل ملوں کو قدرتی گیس بحال کیے جانے جیسے اقدامات نے گزشتہ ہفتے کے مقامی کاٹن مارکیٹس میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں زبردست تیزی کا رجحان غالب رہا۔

اس تیزی کے باعث توقع ہے کہ رواں ہفتے بھی تیزی کا تسلسل قائم رہنے سے روئی کی قیمتیں بھی جاری سیزن کی بلندترین حد تک پہنچ سکتی ہیں۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ چین کی جانب سے مذکورہ پالیسی کے اعلان کے بعد گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکس چینج میں روئی کی قیمتیں گزشتہ 7ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جس کے اثرات بھارت، پاکستان اور دیگر ممالک کی کاٹن مارکیٹس پر بھی دیکھے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ یورپی یونین کی طرف سے پاکستان کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس ملنے کے بعد توقع ہے کہ رواں سال پاکستان میں 13 سے 15لاکھ روئی کی بیلز کی مزید کھپت متوقع ہے جس سے روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی کا رجحان بھی متوقع ہے، تاہم بجلی اور گیس کی مسلسل فراہمی سے ٹیکسٹائل ملز اگر اپنی پوری پیداواری صلاحیت کے مطابق آپریشنل رہیں تو اس سے روئی کی کھپت میں مزید اضافہ بھی متوقع ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مبینہ طور پر چند روز قبل پنجاب کی ٹیکسٹائل ملز کو گیس کی معطلی چند ایسے بڑے ٹیکسٹائل گروپس کی خواہش پر کی گئی تھی کہ جن کے پاس توانائی کے متبادل ذرائع موجود ہیں اور وہ چاہتے تھے کہ بیشتر ٹیکسٹائل ملز بند ہونے سے سوتی دھاگے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کر کے وہ زیادہ سے زیادہ نفع کما سکیں، تاہم ذرائع کے مطابق اپٹما کے ایک موثر گروپ کی جانب سے جب وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ان حالات سے آگاہ کیا گیا تو انہوں نے پنجاب کی ٹیکسٹائل ملز کو گیس کی فوری بحالی کے احکامات جاری کر دیے۔ انہوں نے بتایا کہ کاٹن کراپ اسسمنٹ کمیٹی (سی سی اے سی) نے گزشتہ ہفتے کے دوران ہونے والے ایک اجلاس میں 2013-14 کیلیے پاکستان میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار پہلے تخمینے کے مقابلے میں 3.23فیصد بڑھا کر 1کروڑ 23لاکھ 36ہزار بیلز مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔




یاد رہے کہ سی سی اے سی کی جانب سے 2013-14 کیلیے پاکستان میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار کا تخمینہ چوتھی بار تبدیل کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے سی سی اے سی نے مذکورہ تخمینہ 13.220ملین بیلز مختص کیا تھا، بعد میں اسے کم کر کے 12.655ملین بیلز، پھر مزید کم کر کے 11.950ملین بیلز اور اب اس میں دوبارہ 3.23فیصد اضافہ کر کے 12.36ملین بیلز مختص کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال چین کی کاٹن پالیسیوں کے باعث دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں تیزی یا مندی کا رجحان سامنے آ رہا ہے جس میں خاص طور پر چین کی جانب سے اپنے نیشنل کاٹن ریزروز سے روئی کی فروخت ہے۔ یاد رہے کہ نیشنل کاٹن ریزروز سے روئی کی فروخت کے باوجود چین نے 2014 کیلیے اب تک 4ملین بیلز کا ڈیوٹی فری کوٹہ جاری کر رکھا ہے، تاہم چین کی جانب سے ہی اعلان کیا گیا کہ وہ 30اپریل 2014 سے اپنے کسانوں سے روئی کے نیشنل ریزروز کیلیے روئی کی خریداری معطل کر دے گا اور اگر ٹیکسٹائل ملز نے کسانوں سے کم قیمت پر روئی کی خریداری کی تو وہ کسانوں کو سبسیڈی کی صورت میں امداد سے مدد کرے گا۔

یاد رہے کہ چین اب تک اپنے کسانوں سے1.51ڈالر (20ہزار 400یو آن فی ٹن ) کے حساب سے اب تک 1کروڑ 70لاکھ بیلز خرید چکا ہے اور توقع ہے کہ 30اپریل تک وہ مزید روئی کی خریداری کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویار کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 3.50سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 88.80سینٹ فی پائونڈ، مارچ ڈلیوری روئی کے سودے 2.81سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 83.22سینٹ فی پائونڈ، بھارت میں روئی کے سودے 175روپے فی کینڈی اضافے کے ساتھ 39ہزار 94روپے فی کینڈی، چین میں روئی کی قیمتیں معمولی کمی کے ساتھ 19ہزار 600یوآن فی ٹن جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 50روپے فی من اضافے کے ساتھ 6ہزار 500روپے فی من تک پہنچ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس ملنے کے بعد توقع ہے کہ جنوری کے دوسرے ہفتے میں جرمنی میں شروع ہونے والے ایک ٹیکسٹائل فیئر سے جس میں تقریباً200پاکستانی ٹیکسٹائل ملز شرکت کر رہی ہیں، پاکستان کو بڑے پیمانے پر ٹیکسٹائل پروڈکٹس کے برآمدی آرڈر مل سکیں گے۔
Load Next Story