لاک اپ میں تشدد سے نوجوان ہلاک مشتعل افراد کا حیدری تھانے پر حملہ
حیدری تھانے کے لاک میں قید 18سالہ طیب علی ولد طالب علی پولیس کے مبینہ تشدد سے ہلاک ہوگیا
پوليس كسٹڈي ميں ملزم كي ہلاكت پر حيدري پوليس اسٹيشن كے سامنے لوگ جمع ہيں۔ فوٹو : ایکسپریس
حیدری تھانے کے لاک اپ میں پولیس کے مبینہ تشدد سے نوجوان کی ہلاکت پر مشتعل افراد نے حیدری تھانے میں گھس کر توڑ پھوڑ کی۔
پولیس کیخلاف نعرے لگا ئے اورمبینہ قتل میںملوث اہلکاروںکی گرفتاری کا مطالبہ کیا ، پولیس نے متوفی کے زیر حراست بھائی کو بھی بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر لہولہان کر دیا ۔
ایس ایس پی سینٹرل پولیس مبینہ تشدد سے ہلاک ہونے والے نوجوان کو نشے کا عادی قرار دیتے رہے جبکہ اس کے بھائی کی گرفتاری اورتشدد سے لاعلم رہے ،تفصیلات کے مطابق حیدری تھانے کے لاک میں قید 18سالہ طیب علی ولد طالب علی پولیس کے مبینہ تشدد سے ہلاک ہوگیا جس کی لاش پولیس نے ضابطے کی کارروائی کیلیے عباسی شہید اسپتال پہنچائی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حیدری تھانے کے علاقے کوثر نیازی کالونی میں تیموریہ تھانے کے سپاہی سکندر نے تاج محمد اور طالب علی کو اپنا گھر کرایے پر دیا ہوا ہے، تاج محمدکے گھرسے طلائی زیورات اوردیگر سامان چوری ہونے کے بعد اس نے طالب علی کے بیٹوں طیب علی اورجعفرعلی پرشبہ ظاہرکیا تھا جس پر حیدری پولیس نے دونوں بھائیوںکو3ستمبر کی رات کو گھر سے حراست میں لیا تھا اور اس دوران حیدری پولیس انھیں مبینہ طور پر بدترین تشدد کا نشانہ بناتی رہی،جمعرات کو دوپہر ساڑھے تین بجے18سالہ طیب علی لاک اپ میں ہلاک ہوگیا۔
جس کی لاش پولیس نے ڈیڑھ گھنٹے تاخیر کے بعد ضابطے کی کارروائی کیلیے عباسی شہید اسپتال پہنچائی، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ متوفی طیب علی کے بھائی جعفرعلی کو بھی پولیس نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے ہاتھ اور پاؤں شدید متاثر تھے جبکہ اس کے کپڑے بھی خون میں آلودہ تھے،طیب علی کی ہلاکت پر اس کے اہلخانہ اور اہل محلہ نے حیدری تھانے پر حملہ کردیا اور پتھراؤ کرکے عمارت کے شیشے توڑ دیے جبکہ اندرکھڑی ہوئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا تاہم پولیس نے سخت جدوجہد کے بعد انھیں تھانے کی عمارت سے باہر نکالا۔
مشتعل افراد نے تھانے کے سامنے دھرنا دیا جس کے باعث لنڈی کوتل چورنگی سمیت ملحقہ علاقوں میں ٹریفک معطل ہوگیا ، مشتعل افراد کا کہنا تھا کہ طیب علی پر پولیس نے بہیمانہ تشدد کیا جس کے باعث وہ ہلاک ہوا ہے جبکہ ایس ایس پی سینٹرل عاصم قائم خانی نے پولیس کے مبینہ تشدد سے ہلاک ہونے والے نوجوان طیب علی کو نشے کا عادی قرار دیتے ہوئے اس کی موت نشہ نہ ملنے کو قرار دیا جبکہ وہ اس بات سے بھی بے خبر تھے کہ متوفی طیب کے ہمراہ اس کے بھائی جعفر کو بھی پولیس نے حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا ۔
طیب علی کی موت کے بعد پولیس نے انتہائی پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرایے دار تاج محمد کی مدعیت میں دونوں بھائیوں کے خلاف مقدمہ نمبر 80/12 دفعہ 380 کے تحت درج کرلیا ،اس سلسلے میں حیدری تھانے کے سب انسپکٹر رزاق نے بتایا کہ پولیس نے ملزمان کو جمعرات کی صبح گرفتار کیا تھا جبکہ طیب علی کی اچانک طبیعت بگڑ گئی اور وہ اسپتال پہنچنے سے قبل ہی ہلاک ہوگیا ، ڈی ایس پی نارتھ ناظم آباد رشید خان نے بتایا کہ مقدمے میں طیب علی کی والدہ کنول اور بہن کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔
تاہم پولیس نے انھیں گرفتار نہیں کیا تھا ، انھوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد ایس ایچ او حیدری فصیح الدین اور ہیڈ محرر اے ایس آئی رمضان چنا کو معطل کر دیا گیا جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہے ، ڈی ایس پی رشید خان نے متوفی کے اہلخانہ کو قانونی کارروائی کرنے کی یقین دہانی کے بعد منتشر کر کے ٹریفک بحال کرا دی۔
پولیس کیخلاف نعرے لگا ئے اورمبینہ قتل میںملوث اہلکاروںکی گرفتاری کا مطالبہ کیا ، پولیس نے متوفی کے زیر حراست بھائی کو بھی بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر لہولہان کر دیا ۔
ایس ایس پی سینٹرل پولیس مبینہ تشدد سے ہلاک ہونے والے نوجوان کو نشے کا عادی قرار دیتے رہے جبکہ اس کے بھائی کی گرفتاری اورتشدد سے لاعلم رہے ،تفصیلات کے مطابق حیدری تھانے کے لاک میں قید 18سالہ طیب علی ولد طالب علی پولیس کے مبینہ تشدد سے ہلاک ہوگیا جس کی لاش پولیس نے ضابطے کی کارروائی کیلیے عباسی شہید اسپتال پہنچائی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حیدری تھانے کے علاقے کوثر نیازی کالونی میں تیموریہ تھانے کے سپاہی سکندر نے تاج محمد اور طالب علی کو اپنا گھر کرایے پر دیا ہوا ہے، تاج محمدکے گھرسے طلائی زیورات اوردیگر سامان چوری ہونے کے بعد اس نے طالب علی کے بیٹوں طیب علی اورجعفرعلی پرشبہ ظاہرکیا تھا جس پر حیدری پولیس نے دونوں بھائیوںکو3ستمبر کی رات کو گھر سے حراست میں لیا تھا اور اس دوران حیدری پولیس انھیں مبینہ طور پر بدترین تشدد کا نشانہ بناتی رہی،جمعرات کو دوپہر ساڑھے تین بجے18سالہ طیب علی لاک اپ میں ہلاک ہوگیا۔
جس کی لاش پولیس نے ڈیڑھ گھنٹے تاخیر کے بعد ضابطے کی کارروائی کیلیے عباسی شہید اسپتال پہنچائی، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ متوفی طیب علی کے بھائی جعفرعلی کو بھی پولیس نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے ہاتھ اور پاؤں شدید متاثر تھے جبکہ اس کے کپڑے بھی خون میں آلودہ تھے،طیب علی کی ہلاکت پر اس کے اہلخانہ اور اہل محلہ نے حیدری تھانے پر حملہ کردیا اور پتھراؤ کرکے عمارت کے شیشے توڑ دیے جبکہ اندرکھڑی ہوئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا تاہم پولیس نے سخت جدوجہد کے بعد انھیں تھانے کی عمارت سے باہر نکالا۔
مشتعل افراد نے تھانے کے سامنے دھرنا دیا جس کے باعث لنڈی کوتل چورنگی سمیت ملحقہ علاقوں میں ٹریفک معطل ہوگیا ، مشتعل افراد کا کہنا تھا کہ طیب علی پر پولیس نے بہیمانہ تشدد کیا جس کے باعث وہ ہلاک ہوا ہے جبکہ ایس ایس پی سینٹرل عاصم قائم خانی نے پولیس کے مبینہ تشدد سے ہلاک ہونے والے نوجوان طیب علی کو نشے کا عادی قرار دیتے ہوئے اس کی موت نشہ نہ ملنے کو قرار دیا جبکہ وہ اس بات سے بھی بے خبر تھے کہ متوفی طیب کے ہمراہ اس کے بھائی جعفر کو بھی پولیس نے حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا ۔
طیب علی کی موت کے بعد پولیس نے انتہائی پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرایے دار تاج محمد کی مدعیت میں دونوں بھائیوں کے خلاف مقدمہ نمبر 80/12 دفعہ 380 کے تحت درج کرلیا ،اس سلسلے میں حیدری تھانے کے سب انسپکٹر رزاق نے بتایا کہ پولیس نے ملزمان کو جمعرات کی صبح گرفتار کیا تھا جبکہ طیب علی کی اچانک طبیعت بگڑ گئی اور وہ اسپتال پہنچنے سے قبل ہی ہلاک ہوگیا ، ڈی ایس پی نارتھ ناظم آباد رشید خان نے بتایا کہ مقدمے میں طیب علی کی والدہ کنول اور بہن کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔
تاہم پولیس نے انھیں گرفتار نہیں کیا تھا ، انھوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد ایس ایچ او حیدری فصیح الدین اور ہیڈ محرر اے ایس آئی رمضان چنا کو معطل کر دیا گیا جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہے ، ڈی ایس پی رشید خان نے متوفی کے اہلخانہ کو قانونی کارروائی کرنے کی یقین دہانی کے بعد منتشر کر کے ٹریفک بحال کرا دی۔