کے ای ایس سی معاہدے کی مکمل تعمیل کررہی ہے وائس چیئرمین

ادارہ بجلی کی فراہمی اکنامک ڈسپیچ میرٹ آرڈر کے مطابق کرتا ہے،نیپرا سے حکم نہیں ملا

نیپرا کے غیر قانونی فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتے ہیں،خواجہ محمد نعیم۔ فوٹو : فائل

KARACHI:
کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی نے نیپرا کے وائس چیئر مین خواجہ محمد نعیم کے ان دعوئوں کی سختی سے تردید کی ہے کہ کے ای ایس سی مکمل استعداد پر بجلی کی پیداوار نہ کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کررہی ہے اور این ٹی ڈی سی سے کم قیمت پر بجلی خریدرہی ہے۔

کے ای ایس سی نے وضاحت کی ہے کہ کے ای ایس سی بجلی کی فراہمی اکنامک ڈسپیچ میرٹ آرڈر کے مطابق کرتی ہے،کے ای ایس سی نے واضح کیا ہے کہ ادارے کو تا حال نیپرا سے کوئی تحریری حکم موصول نہیں ہوا، کے ای ایس سی نے نیپرا کو یاددہانی کرائی ہے کہ ادارے نے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔




علاوہ ازیں این ٹی ڈی سی سے650 میگا واٹ بجلی کی خریداری کا معاملہ عدالت عالیہ میں ہے جس پر عدالت نے حکم امتناع جاری کیا ہے، جس سے نیپرا آگاہ ہے، کے ای ایس سی نے وضاحت کی کہ اس معاملے کو معزز سپریم کورٹ تک بھی لے جایا گیا تھا اور ادارے کے قانونی مشیر نے اس کی صفائی پیش کی تھی، عدالت عظمٰی نے10دسمبر 2013 کے اپنے فیصلے میں این ٹی ڈی سی کی جانب سے کے ای ایس سی کو650 میگا واٹ بجلی کی فراہمی کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی ہے بیان میں مزید کہا گیا کہ ادارہ نیپرا کی جانب سے کسی بھی غیر قانونی فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا حق رکھتا ہے۔
Load Next Story