ٹیسٹ سیریز بھارتی کاغذی شیروں کی حالت غیر ہونے لگی
دیار غیر میں ناکامیوں پر کوچ فلیچر کی نوکری خطرے میں دکھائی دینے لگی
دیار غیر میں ناکامیوں پر کوچ فلیچر کی نوکری خطرے میں دکھائی دینے لگی۔ فوٹو: فائل
جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے آغاز سے قبل بھارت کے کاغذی شیروں کی حالت غیر ہونے لگی۔
دیار غیر میں ناکامیوں کا کھاتہ طویل ہونے سے کوچ ڈنکن فلیچر کو اپنی نوکری خطرے میں دکھائی دینے لگی، نیٹس میں کھلاڑیوں کے شارٹ پچ بالز کا سامنا کرنے کیلیے حوصلے بلند کررہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق جنوبی افریقہ کے خلاف آخری ون ڈے میں بارش نے بھارت کو سیریز میں وائٹ واش شکست سے بچالیا تھا اب دونوں ٹیموں کے درمیان بدھ سے دو میچز کی ٹیسٹ سیریز شروع ہونے والی ہے، بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی کوچ دیار غیر میں مسلسل8 ٹیسٹ میچز ہارنے کے باوجود اپنی جاب محفوظ رکھ پاتا ہے، فلیچر یہ لائف لائن استعمال کرچکے ہیں، ملک سے باہر آخری ٹیسٹ اس نے جنوری 2012 میں سڈنی میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلا تھا، اس کے بعد دو برس بعد ملکی گرائونڈز پر کھیلتی رہی، یہاں پر بھی انگلینڈ کے ہاتھوں 1-2 سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا تاہم آسٹریلیا سے سیریز میں کلین سوئپ اور پھر نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف کامیابیاں سمیٹیں اور اب تقریبا دو برس بعد بھارتی ٹیم ٹیسٹ ٹور کیلیے گھر سے باہر نکلی ہے۔
اس بار بھارت کو اپنے سینئر کھلاڑیوں سچن ٹنڈولکر، لکشمن اور راہول ڈریوڈ کا ساتھ حاصل نہیں، گوتم گمبھیر بھی سلیکٹرز کا اعتماد کھوچکے ہیں، ہربھجن سنگھ پلیئنگ الیون سے کوسوں دور ہیں تاہم بھارتی سائیڈ کیلیے اطمینان کی ایک بات یہ ہے کہ انھیں ایک بار پھر اپنے آزمودہ ہتھیار ظہیر خان کا ساتھ حاصل ہے۔ نئے کھلاڑی البتہ فلیچر کا کافی احترام کرتے اور وہ بھی ان پر کافی محنت کررہے ہیں، اس وقت بھارتی ٹیم بینونی میں ہے جہاں پر اس کا ایک وارم اپ میچ بارش کی نذر ہوچکا ہے، اس لیے فلیچر بدھ سے شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ کے حوالے سے کھلاڑیوں کو سخت محنت کرارہے ہیں، وہ کافی کافی دیر تک پلیئرز کو خود گیندیں پھیکتے اور ان کا شارٹ پچ بالز کا سامنا کرنے کیلیے حوصلہ بلند کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
دیار غیر میں ناکامیوں کا کھاتہ طویل ہونے سے کوچ ڈنکن فلیچر کو اپنی نوکری خطرے میں دکھائی دینے لگی، نیٹس میں کھلاڑیوں کے شارٹ پچ بالز کا سامنا کرنے کیلیے حوصلے بلند کررہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق جنوبی افریقہ کے خلاف آخری ون ڈے میں بارش نے بھارت کو سیریز میں وائٹ واش شکست سے بچالیا تھا اب دونوں ٹیموں کے درمیان بدھ سے دو میچز کی ٹیسٹ سیریز شروع ہونے والی ہے، بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی کوچ دیار غیر میں مسلسل8 ٹیسٹ میچز ہارنے کے باوجود اپنی جاب محفوظ رکھ پاتا ہے، فلیچر یہ لائف لائن استعمال کرچکے ہیں، ملک سے باہر آخری ٹیسٹ اس نے جنوری 2012 میں سڈنی میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلا تھا، اس کے بعد دو برس بعد ملکی گرائونڈز پر کھیلتی رہی، یہاں پر بھی انگلینڈ کے ہاتھوں 1-2 سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا تاہم آسٹریلیا سے سیریز میں کلین سوئپ اور پھر نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف کامیابیاں سمیٹیں اور اب تقریبا دو برس بعد بھارتی ٹیم ٹیسٹ ٹور کیلیے گھر سے باہر نکلی ہے۔
اس بار بھارت کو اپنے سینئر کھلاڑیوں سچن ٹنڈولکر، لکشمن اور راہول ڈریوڈ کا ساتھ حاصل نہیں، گوتم گمبھیر بھی سلیکٹرز کا اعتماد کھوچکے ہیں، ہربھجن سنگھ پلیئنگ الیون سے کوسوں دور ہیں تاہم بھارتی سائیڈ کیلیے اطمینان کی ایک بات یہ ہے کہ انھیں ایک بار پھر اپنے آزمودہ ہتھیار ظہیر خان کا ساتھ حاصل ہے۔ نئے کھلاڑی البتہ فلیچر کا کافی احترام کرتے اور وہ بھی ان پر کافی محنت کررہے ہیں، اس وقت بھارتی ٹیم بینونی میں ہے جہاں پر اس کا ایک وارم اپ میچ بارش کی نذر ہوچکا ہے، اس لیے فلیچر بدھ سے شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ کے حوالے سے کھلاڑیوں کو سخت محنت کرارہے ہیں، وہ کافی کافی دیر تک پلیئرز کو خود گیندیں پھیکتے اور ان کا شارٹ پچ بالز کا سامنا کرنے کیلیے حوصلہ بلند کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔