سی پی این ای اسلام آباد چیپٹر کو فعال بنانے کیلیے خصوصی اجلاس
درپیش مسائل وچیلنجزپرگفتگو،مثبت کوششوں سے تنظیم جلدفعال بن کرابھرے گی، جبارخٹک
آئندہ بھی ایسی کوششیں جاری رکھنی ہوں گی، ایاز خان، اجلاس کے شرکاکا شکریہ اداکیا۔ فوٹو: ایکسپریس
ISLAMABAD:
کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے اسلام آباد چیپٹر کو فعال اور متحرک بنانے کیلیے اتوار کے روزسی پی این ای اسلام آباد چیپٹر کے عہدیداروں اور ممبران کاایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔
سی پی این ای اسلام آباد چیپٹر کے نائب صدر اور 'روزنامہ ایکسپریس' کے سینئر ایڈیٹر ایازخان کی دعوت پرمنعقدہ اجلاس میںسی پی این ای کودرپیش مسائل اور چیلنجز کا موثر انداز میںمقابلہ کرنے کیلیے تمام ضروری امورپرتفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،شرکا میں اس بات پر اتفاق پایاگیاکہ سی پی این ای اور اے پی این ایس کو ایک دوسرے کے زیر اثرکام کرنے کے بجائے اپنی آزادانہ حیثیت برقرار رکھتے ہوئے مینڈیٹ کے مطابق اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کردار ادا کرنا چاہیے۔
سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل جبار خٹک نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ سی پی این ای 2 حصوں میں بٹی ہوئی تھی جسے اب ایک کردیاگیا ہے، کچھ لوگوں نے بوجوہ اسے ایک بریف کیس میں بند کررکھا تھا لیکن اب آپ سب احباب کے تعاون سے اسے آزاد کرادیا گیا ہے،مثبت کوششیں جاری رہیں تو سی پی این ای بہت جلد ایک موثر اور فعال تنظیم بن کر ابھرے گی۔
اس سے قبل سی پی این ای اسلام آباد چیپٹر کے نائب صدراوراجلاس کے میزبان ایاز خان نے تمام شرکا کی آمد پر انکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دوستوں کی ایک مدت سے خواہش تھی کہ سی پی این ای کو موثر و فعال بنانے کیلیے ایک بامقصد مجلس مشاورت کا اہتمام کیا جائے ، آج کی ہماری یہ کوشش اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، سی پی این ای کو فعال اور موثر بنانے کیلیے ہمیں آئندہ بھی ایسی کوششیں جاری رکھنی ہوں گی۔
اجلاس کے شرکا میں محمد ضیا الدین( ایگزیکٹو ایڈیٹر ایکسپریس ٹریبیون) ،امتیاز عالم ،خوشنود علی خان (جناح وصحافت)،مسعودملک (دنیا) ، عبدالودود قریشی (خبریں) ، محسن بلال (اوصاف) ، عنایت اللہ نیازی (روزنامہ پاکستان ،اسلام آباد) ، محسن بیگ (آن لائن) ، جاوید اقبال قریشی (آئی این پی)، شکیل ترابی (ثنا نیوز) ، طاہر مغل (نوائے پاک) ، سفیر حسین شاہ (لیگل ویوز) ، ڈاکٹر فوزیہ خان ( بزنس ورلڈ وائڈ)، دردانہ شہاب (سطور انٹرنیشنل) اوررائو خالد محمود (ریذیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ ایکسپریس اسلام آبادشامل تھے جبکہ وزارت اطلاعات و نشریات کے پرنسپل انفارمیشن آفیسرعمران گردیزی نے بھی خصوصی طورپرشرکت کی۔
کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے اسلام آباد چیپٹر کو فعال اور متحرک بنانے کیلیے اتوار کے روزسی پی این ای اسلام آباد چیپٹر کے عہدیداروں اور ممبران کاایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔
سی پی این ای اسلام آباد چیپٹر کے نائب صدر اور 'روزنامہ ایکسپریس' کے سینئر ایڈیٹر ایازخان کی دعوت پرمنعقدہ اجلاس میںسی پی این ای کودرپیش مسائل اور چیلنجز کا موثر انداز میںمقابلہ کرنے کیلیے تمام ضروری امورپرتفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،شرکا میں اس بات پر اتفاق پایاگیاکہ سی پی این ای اور اے پی این ایس کو ایک دوسرے کے زیر اثرکام کرنے کے بجائے اپنی آزادانہ حیثیت برقرار رکھتے ہوئے مینڈیٹ کے مطابق اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کردار ادا کرنا چاہیے۔
سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل جبار خٹک نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ سی پی این ای 2 حصوں میں بٹی ہوئی تھی جسے اب ایک کردیاگیا ہے، کچھ لوگوں نے بوجوہ اسے ایک بریف کیس میں بند کررکھا تھا لیکن اب آپ سب احباب کے تعاون سے اسے آزاد کرادیا گیا ہے،مثبت کوششیں جاری رہیں تو سی پی این ای بہت جلد ایک موثر اور فعال تنظیم بن کر ابھرے گی۔
اس سے قبل سی پی این ای اسلام آباد چیپٹر کے نائب صدراوراجلاس کے میزبان ایاز خان نے تمام شرکا کی آمد پر انکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دوستوں کی ایک مدت سے خواہش تھی کہ سی پی این ای کو موثر و فعال بنانے کیلیے ایک بامقصد مجلس مشاورت کا اہتمام کیا جائے ، آج کی ہماری یہ کوشش اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، سی پی این ای کو فعال اور موثر بنانے کیلیے ہمیں آئندہ بھی ایسی کوششیں جاری رکھنی ہوں گی۔
اجلاس کے شرکا میں محمد ضیا الدین( ایگزیکٹو ایڈیٹر ایکسپریس ٹریبیون) ،امتیاز عالم ،خوشنود علی خان (جناح وصحافت)،مسعودملک (دنیا) ، عبدالودود قریشی (خبریں) ، محسن بلال (اوصاف) ، عنایت اللہ نیازی (روزنامہ پاکستان ،اسلام آباد) ، محسن بیگ (آن لائن) ، جاوید اقبال قریشی (آئی این پی)، شکیل ترابی (ثنا نیوز) ، طاہر مغل (نوائے پاک) ، سفیر حسین شاہ (لیگل ویوز) ، ڈاکٹر فوزیہ خان ( بزنس ورلڈ وائڈ)، دردانہ شہاب (سطور انٹرنیشنل) اوررائو خالد محمود (ریذیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ ایکسپریس اسلام آبادشامل تھے جبکہ وزارت اطلاعات و نشریات کے پرنسپل انفارمیشن آفیسرعمران گردیزی نے بھی خصوصی طورپرشرکت کی۔