نجی جامعات کی شکایات ویب سائٹ پر درج کرائی جاسکیں گی
طالبعلم، والدین اور یونیورسٹی کے اساتذہ متعلقہ ادارے کی شکایت سے چارٹر ایویلیوایشن کمیٹی کوآگاہ کرسکیں گے
ملک کے فنانشل اور دیگرمتعلقہ اداروں میں بی بی اے اورایم بی اے کرنے والوں کی جگہ ختم ہوچکی، مشہورعالم شاہ کا انکشاف۔ فوٹو: فائل
سندھ میں نجی تعلیمی اداروں کو یونیورسٹی کاچارٹردینے والے ادارے ''چارٹرانسپکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی نے کراچی سمیت سندھ بھرمیںنجی جامعات اور انسٹی ٹیوٹس کی بڑھتی ہوئی شکایات کانوٹس لیتے ہوئے طلبا، والدین اوریونیورسٹی اساتذہ کوان اداروں کے خلاف باقاعدہ شکایات درج کرانے کی سہولت فراہم کردی۔
کمیٹی نے اپنی 10 سالہ تاریخ میں پہلی بارسندھ کی نجی جامعات کے خلاف کسی بھی قسم کی شکایات درج کرانے کے لیے اپنی ویب سائٹ پرباقاعدہ ''ونڈو''قائم کی ہے جس پرجاکرکسی بھی نجی یونیورسٹی کاطالب علم ،ان کے والدین اوریونیورسٹی کے اساتذہ اپنے متعلقہ ادارے سے متعلق شکایت سے چارٹرایویلیوایشن کمیٹی کوآگاہ کرسکیں گے، یہ بات چارٹرانسپکشن اینڈایویلیوایشن کمیٹی کے سربراہ پروفیسر مشہور عالم شاہ نے اپنے دفترمیں اخبارنویسوں کوبتائی، مشہورعالم شاہ نے اس امرکابھی انکشاف کیاکہ ملک کے فنانشل اور دیگر متعلقہ اداروں میں بی بی اے اورایم بی اے کرنیوالوں کی جگہ ختم ہوچکی ہے تاہم نجی جامعات سیکڑوں طلبا کوہرسال بی بی اے اورایم بی اے کرارہی ہیں جن کی کھپت مشکل ہوتی جارہی ہے لہٰذا ایسامنصوبہ تیار کیا جارہا ہے جس کی بدولت مارکیٹ کو مطلوبہ لوگ مل سکیں۔
ان کا کہنا تھاکہ نجی جامعات سے ملنے والی شکایات کے سبب کمیٹی نے اپنی ویب سائٹ پرایک ''کمپلین ونڈو'' قائم کردی ہے ، اگر اساتذہ ،طلبا اور والدین اپنی جائز شکایت سے چارٹرانسپکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی کوآگاہ کریں گے تونجی جامعات اورانسٹی ٹیوٹس کے حوالے سے ان کی شکایات کاازالہ کیاجائے گا، انھوں نے مزیدکہاکہ چارٹرانسپکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی نے سندھ کی نجی جامعات اورانسٹی ٹیوٹس میں زیرتعلیم طلبا اوران کے تعلیمی ضابطوں کامکمل ''ڈیٹا بینک ''قائم کرنے کافیصلہ کیاہے اوراس سلسلے میں کمیٹی کی جانب سے سندھ بھرکی نجی جامعات اوراسناد تفویض کرنے والے اداروں کواس بات کاپابندکیاگیاہے کہ وہ نئے تعلیمی سال 2014کے لیے اپنے اداروں میں ہونے والے داخلوں سے متعلق مکمل ریکارڈ چارٹرانسپکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی کوفراہم کریں۔
کمیٹی نے اپنی 10 سالہ تاریخ میں پہلی بارسندھ کی نجی جامعات کے خلاف کسی بھی قسم کی شکایات درج کرانے کے لیے اپنی ویب سائٹ پرباقاعدہ ''ونڈو''قائم کی ہے جس پرجاکرکسی بھی نجی یونیورسٹی کاطالب علم ،ان کے والدین اوریونیورسٹی کے اساتذہ اپنے متعلقہ ادارے سے متعلق شکایت سے چارٹرایویلیوایشن کمیٹی کوآگاہ کرسکیں گے، یہ بات چارٹرانسپکشن اینڈایویلیوایشن کمیٹی کے سربراہ پروفیسر مشہور عالم شاہ نے اپنے دفترمیں اخبارنویسوں کوبتائی، مشہورعالم شاہ نے اس امرکابھی انکشاف کیاکہ ملک کے فنانشل اور دیگر متعلقہ اداروں میں بی بی اے اورایم بی اے کرنیوالوں کی جگہ ختم ہوچکی ہے تاہم نجی جامعات سیکڑوں طلبا کوہرسال بی بی اے اورایم بی اے کرارہی ہیں جن کی کھپت مشکل ہوتی جارہی ہے لہٰذا ایسامنصوبہ تیار کیا جارہا ہے جس کی بدولت مارکیٹ کو مطلوبہ لوگ مل سکیں۔
ان کا کہنا تھاکہ نجی جامعات سے ملنے والی شکایات کے سبب کمیٹی نے اپنی ویب سائٹ پرایک ''کمپلین ونڈو'' قائم کردی ہے ، اگر اساتذہ ،طلبا اور والدین اپنی جائز شکایت سے چارٹرانسپکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی کوآگاہ کریں گے تونجی جامعات اورانسٹی ٹیوٹس کے حوالے سے ان کی شکایات کاازالہ کیاجائے گا، انھوں نے مزیدکہاکہ چارٹرانسپکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی نے سندھ کی نجی جامعات اورانسٹی ٹیوٹس میں زیرتعلیم طلبا اوران کے تعلیمی ضابطوں کامکمل ''ڈیٹا بینک ''قائم کرنے کافیصلہ کیاہے اوراس سلسلے میں کمیٹی کی جانب سے سندھ بھرکی نجی جامعات اوراسناد تفویض کرنے والے اداروں کواس بات کاپابندکیاگیاہے کہ وہ نئے تعلیمی سال 2014کے لیے اپنے اداروں میں ہونے والے داخلوں سے متعلق مکمل ریکارڈ چارٹرانسپکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی کوفراہم کریں۔