افغانستان 2 بم دھماکوں میں ضلعی پولیس چیف سمیت 8 افراد ہلاک فورسز کا 23 طالبان مارنے کا دعویٰ

کنڑ میں 4 شہری مارے گئے،غزنی میں عالم دین قتل، طالبان نے ذمے داری قبول کرلی

کنڑ میں 4 شہری مارے گئے،غزنی میں عالم دین قتل، طالبان نے ذمے داری قبول کرلی. فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
افغانستان میں 2 بم دھماکوں میں ضلعی پولیس چیف سمیت 8 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے جبکہ افغان فورسز نے آپریشن کے دوران 23 طالبان کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے، صوبہ غزنی میں عالم دین کو قتل کردیا گیا۔

صوبہ ننگرہار کے ضلع پچیرو آگام کے پولیس چیف گاڑی میں اپنے دفتر جارہے تھے کہ پہلے نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی جس میں وہ محفوظ رہے تاہم آگے جاکر ان کی گاڑی سڑک کنارے نصب بم سے ٹکرا کر تباہ ہوگئی جس میں وہ 3 پولیس اہلکاروں سمیت ہلاک ہوگئے ، دھماکے میں 7 اہلکار زخمی بھی ہوئے، صوبائی حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کردی ہے، صوبائی حکام کے مطابق دھماکے میں طالبان کا ہاتھ ہے۔ صوبہ کنڑ میںسڑک کنارے ایک اور بم دھماکے میں مسافر گاڑی تباہ ہوگئی جس میں 4 شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔ اے پی پی کے مطابق افغانستان کی وزارت داخلہ نے ملک میں مختلف کارروائیوں کے دوران 23 طالبان جنگجوئوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ وزارت داخلہ کے اتوار کو جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز نے صوبہ کنڑ، ننگرہار، لغمان، غزنی، خوست اور ہلمند میں آپریشن کیے جس میں 23 مسلح طالبان جنگجو ہلاک، 5 زخمی اور 21کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ بھاری مقدار میں اسلحہ بھی قبضہ میں لیا گیا ہے۔ طالبان کا اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ صوبہ غزنی میں نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے ایک عالم دین کو قتل کردیا۔




غزنی کے گورنر کے ترجمان نے بتایا کہ مولوی عبدالظاہر پر ان کے گھر کے سامنے نامعلوم مسلح افراد نیفائرنگ کی، طالبان نے قتل کی ذمے داری قبول کرلی۔ نیٹو نے اعلان کیا کہ افغانستان میں 2014 کے بعد بھی نیٹو کے فوجی باقی رہیں گے۔ افغانستان میں نیٹو کے ترجمان ہینس فیلڈمین نے ایک بیان میںکہاکہ صدر کرزئی سے درخواست کی ہے کہ وہ آئندہ 3 ماہ میں کابل واشنگٹن معاہدے پر دستخط کردیں۔ علاوہ ازیں صدر حامد کرزئی نے اسلحہ اور افغان افواج کی تربیت کے لیے بھارت سے درخواست کردی، افغان صدر نے کہا کہ غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ایجنٹ طالبان سے امن مذاکرات نہیں کریں گے۔ ایک بھارتی اخبار کو انٹرویو میں کرزئی نے کہا کہ افغانستان میں امن چاہنے والے طالبان سے ہی امن مذاکرات کیے جائیں گے، بھارت کے تعاون سے سرحد پار سے آنے والے دہشت گردوں کا خاتمہ کردیاجائے گا۔ کرزئی نے مزید کہا کہ اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسلام آباد تعاون کرے تو کابل اور نئی دہلی کو زیادہ فائدہ ہوگا۔ کرزئی نے اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ امریکا سے سلامتی کے معاہدے پر اس وقت تک دستخط نہیں کریں گے جب تک کہ واشنگٹن افغانستان میں گھروں پر چھاپوں کے خاتمے اور طالبان سے امن مذاکرات شروع کرنے پر راضی نہیں ہوجاتا۔
Load Next Story