کراچی کے لیے تاریخی پیکیج کا اعلان
کراچی کے مصائب وآلام اور سیلاب زدہ عوام شدت سے وزیر اعظم کی آمدکے منتظر تھے
کراچی کے مصائب وآلام اور سیلاب زدہ عوام شدت سے وزیر اعظم کی آمدکے منتظر تھے
کراچی کے مصائب وآلام اور سیلاب زدہ عوام شدت سے وزیر اعظم کی آمدکے منتظر تھے،کیونکہ شہر میں سیلابی صورتحال کی وجہ سے شہری اپنی کل جمع پونجی سے محروم ہوچکے ہیں،آخر وہ انتظارایک مسرت انگیز لمحے میں تبدیل ہوا اور اگلے روزوزیراعظم عمران خان نے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت مسائل کے مستقل حل کے لیے 1113ارب روپے کے تاریخی پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے سیوریج،سالڈ ویسٹ،پانی کی فراہمی، سرکلر ریلوے،گرین لائن سمیت ٹرانسپورٹ کے منصوبے بتدریج مکمل کرنے کی یقین دہانی کروائی اور اس پر عملدرآمد کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میں صوبائی کوآرڈینیشن کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
کراچی کے عوام جس کرب سے گزر رہے ہیں، مسائل کی ایک طویل فہرست ہے جو حل طلب ہیں، پہلے کیا روزمرہ کے مسائل اور دکھ کم تھے کہ مسلسل طوفانی بارشوں نے اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا کردی، دس روز گزرنے کے باوجود تاحال کراچی میں معمولات زندگی بحال نہیں ہوسکے ہیں۔
نصف کراچی پانی میں ڈوبا رہا اور باقی نصف تاریکی میں۔ تمام ترسرکاری شہری انتظامی اداروں کی کارکردگی صفر رہی، شہر ناپرساں کے لیے وزیراعظم نے میگا پیکیج میں واٹر سپلائی منصوبوں کے لیے 92 ارب، سیوریج ٹریٹمنٹ کے لیے141 ارب، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سمیت ندی نالوں کی صفائی اور بحالی کے لیے267 ارب روپے، سڑکوں کی تعمیر ومرمت، ماس ٹرانزٹ ریل اور روڈ ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کے لیے 572 ارب روپے رکھے گئے ہیں اور یہ پیکیج وفاقی اورصوبائی حکومت نے مل کر مرتب کیا ہے۔
پاکستان کا پہلا دارالحکومت کراچی کیسے برباد ہوا،عروس البلاد کی یہ ایک طویل داستان الم ہے، اب تو اس شہرکا نام کچراچی ہی درست لگتا ہے کیونکہ ہر طرف کوڑے کے ڈھیر، سیوریج لائنیں بند ہونے کے ساتھ ساتھ پورا شہر ہی ڈوبا ہوا ہے۔ پوری دنیا میں کراچی سیلاب زدہ شہرکے طور پر نمایاں ہوا ہے۔
اسی تناظر میں وزیراعظم کی ہدایت پر نالوں کی صفائی کا کام این ڈی ایم اے کے سپردکیا گیا ہے جس نے اس پر کام بھی شروع کردیا ہے۔ نالوں پر تجاوزات میں کراچی کا اگر پہلا نمبر ہے تو لاہوربھی کسی طور پر پیچھے نہیں ہے، وہاں بھی نالوںکے ساتھ دو رویہ درختوں کی بے رحمانہ طریقے سے کٹائی کرکے شہر کو آلودگی کے حوالے کردیا گیا ہے۔ لاہور جوکبھی باغوں کا شہرکہلاتا تھا اب شدید ترین ماحولیاتی آلودگی کی زد میں ہے، نالوں کے ساتھ سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کے بعد کٹنگ کرکے زمینیں الاٹ کرائی گئی ہیں،کچھ زمینیں تو ہاؤسنگ اسکیموں کی نذر ہو گئی ہیں۔ لہذا وزیراعظم صاحب کوکراچی کے ساتھ ساتھ لاہور اور دیگر شہروں پر بھی اپنی توجہ مرکوزکرنی پڑے گی،کیونکہ اگر آج کراچی ڈوبا ہے توکل لاہورکی باری بھی آسکتی ہے۔
بلاشبہ کراچی پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن ہمیشہ جمہوری ادوار میں اختیارات و وسائل کی نچلی سطح پر تقسیم میں رکاوٹیں ڈالی جاتی رہی ہیں اورایسا بلدیاتی نظام چاروں صوبوں میں لایا گیا ہے کہ اختیارات ووسائل صوبائی حکومتوں کے پاس رہیں تاکہ وہ اپنے منتخب اراکین کے ذریعے لوگوں کے کام کرکے اپنی جماعت کے لیے مستقبل میں ووٹ لے سکیں اور عوام کے غیظ وغضب کے سامنے یہی موقف اپنایا جاتا ہے کہ یہ تمام مسائل بلدیاتی میئرزکی ذمے داری ہیں کہ وہ حل کریں۔ شکوہ ،جواب شکوہ کی صورتحال کراچی میں دیکھنے میں آئی، جب چار برس تک سابق میئرکراچی وسیم اختراختیارات نہ ہونے کا رونا روتے رہے،کراچی شہرکا بے ہنگم پھیلاؤ اگر مسئلہ ہے تو اب بھی اس کا حل نکالا جا سکتا ہے، جتنا شہر پھیل چکا اب اسے مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے منصوبہ بندی کے تحت نئے علاقوں کو ترقی دی جائے۔
کراچی ملک کی تجارتی اور معاشی سرگرمی کا مرکزومحور ہے ، روزگارکے ذرائع پاکستان کے کسی بھی شہرسے بہت زیادہ ہیں جس کی وجہ سے دوسرے شہروں سے نقل مکانی روزبروزبڑھ رہی ہے، لیکن دْنیا میں اس سے بڑے شہر بھی موجود ہیں اور ان شہروں کی انتظامیہ نے پوری منصوبہ بندی کے تحت شہریوں کو سہولتیں فراہم کی ہیں، بارشیں وہاں بھی ہوتی ہیں اورکہیںکہیں تو کراچی سے زیادہ ہی ہوتی ہوں گی، لیکن بارشوں کے پانی کے نکاس کا ایسا انتظام کیا گیا ہے کہ جونہی بارش رْکتی ہے، بارش کا پانی مخصوص نالوں کے ذریعے نکل جاتا ہے اور شہر دھل کر صاف ہو جاتا ہے،کہیں کچرے کا نام و نشان نہیں رہتا، سیوریج کے نالے بھی کچرے سے بند نہیں ہوتے، ہمارے سامنے ترکی کے شہر استنبول اور ایران کے دارالحکومت تہران کی مثالیں ہیں، جن کے میئروں نے نہ صرف ان شہروں کو ہر لحاظ سے مثالی شہر بنا دیا، بلکہ اْن کے اس کام کو یوں بھی سراہا گیا کہ کسی نئے نظام کا تجربہ کرنے کی بجائے لوکل گورنمنٹ نظام کو مضبوط اورمستحکم کیا جائے۔
ان حالات میں ضرورت اِس بات کی ہے کہ جو بھی وسائل دستیاب ہیں اْن کا بہترین استعمال کیا جائے اس کے لیے نئے سرے سے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے،اگر پہلے کی طرح ترقیاتی رقوم ضایع ہوتی رہیں یا کاغذی منصوبے ہی بنتے رہے تو مسائل حل ہونے کی بجائے بڑھتے رہیں گے۔ کراچی میں صرف 8 ہزار ٹن کچرا ٹھکانے لگایا جاتا جب کہ باقی 4 ہزار ٹن سڑکوں پر پڑا رہتا ہے، جس کی وجہ سے شہرکچرے کا ڈھیر بن چکا ہے، شہری جب دیکھتے ہیں کہ کچرا اٹھانے والا کوئی نہیں تو وہ کچرے کو آگ لگا دیتے ہیں تاکہ کچرے کا ڈھیرکم ہوسکے، مگر سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد سندھ حکومت نے کچرا جلانے پر بھی پابندی لگا دی ہے کیونکہ اس سے مختلف بیماریاں پیدا ہورہی ہیں۔
سندھ حکومت نے ایک طرف عدالتی حکم پر کچرا پھینکنے اورکچرا جلانے پر پابندی تو لگادی ہے مگر شہر کوکچرے سے صاف کرنے کے عدالتی احکامات کو ہوا میں اڑا دیا ہے۔ سندھ حکومت سارا ملبہ شہری حکومت پر اور شہری حکومت سارا ملبہ سندھ حکومت پر ڈال دیتی رہی ہے، مگر عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے اورکچرا اٹھانے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں۔کراچی کی کچی آبادیوں، مضافاتی اور دیہی علاقوں کی حالت دیکھ کر ایسا لگے گا جیسے کوئی کسی انتہائی پسماندہ گاؤں میں آگیا ہے۔ سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کی حالت زار دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، جن میں صفائی ستھرائی کا کوئی نظام سرے سے موجود نہیں۔ بہت سے مقامات پر گٹر ابلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ شہر میں سیوریج کا نظام مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے، سندھ حکومت اگرکراچی کے مسائل کا حل چاہتی ہے تو الیکشن کے بعد نئے بلدیاتی اداروں کو اختیارات اور فنڈز فراہم کرے ۔ کیونکہ حال ہی میں بلدیاتی ادارے اپنی مدت ختم ہونے کے بعد تحلیل ہوچکے ہیں۔
دورہ کراچی کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کراچی پاکستان کا اہم ترین شہر اور معاشی حب ہے۔ اس کے مسائل کا حل باہمی اشتراک سے ممکن ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ تمام شراکت دار بشمول وفاقی حکومت، پاک فوج اورسندھ کی صوبائی حکومت آج کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے یہاں موجود ہیں، ان کی باتیں صائب ہیں۔ ہم قوی امید رکھتے ہیں کہ وفاقی اور سندھ حکومت تمام سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے مربوط کوششیں کریں گی۔ سیاستدانوں کی جانب سے الزامات لگائے جاتے رہے کہ کراچی کے عوام جس کرب سے گزر رہے ہیں، اس سے وفاقی حکومت لا علم ہے، بہرحال وزیر اعظم کے دورے سے یہ تاثر زائل ہونے میں مدد ملے گی اور عمران خان واقعی کراچی کی رونقیں اور بطورصنعتی شہر حقیقی شناخت بحال کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ وقتی طور پر ہم ضرور اس خوش گمانی میں مبتلا ہوئے ہیں کہ کراچی کے مسئلے پر وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک پیج پر آگئی ہیں۔
کراچی کے لیے پانی کے منصوبے ''کے فور''کا ایک حصہ وفاقی حکومت اور ایک سندھ حکومت لے گی۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کراچی میں پانی کا مسئلہ تین سال میں مستقل حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ عوام کے دیرینہ مسائل حل کرنے کی طرف درست سمت میں قدم اٹھایا گیا ہے اس کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے البتہ اس اہم کام میں سب سے زیادہ ضروری منصوبوں کی کڑی نگرانی ہے۔ یقین رکھیں انصاف، امانت، دیانت اور صداقت کے ساتھ کام کیا جائے تو تقدیر بدلی جاسکتی ہے۔
جب تک انصاف کا بول بالا نہیں ہو گا،کام میرٹ پر نہیں ہو گا، ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ نہیں ہو گا اور جب تک شہرکو تنظیم، اتحاد، ایمان کی عملی تصویر نہیں بنایا جائے گا کچھ نہیں بدل سکتا۔ اس لیے پیکیج کا اعلان کرنے کے بعد اس پر پہرہ دینے کے لیے ایماندار افسران اور افراد کوآگے لائیں وہ جو ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہوں۔ وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نالوں کی صفائی کرے گی اور سندھ حکومت نالوں کے اطراف تجاوزات کے خلاف آپریشن سے بے گھر افراد کی آبادکاری کی ذمے داری نبھائے گی۔
یہ اچھی سوچ ہے کیونکہ تجاوزات کے خاتمے سے بے گھر ہونے والوں کو لاوارث نہیں چھوڑا جا سکتا۔ وزیر اعظم کا ان کی آباد کاری کی ذمے داری سندھ حکومت کو دینا بھی خوش آئند ہے۔ گیارہ سو ارب کے پیکیج میں سیوریج اور سالڈ ویسٹ کا مسئلہ بھی حل کیا جائے گا۔ اب فیصلے ہوئے ہیں تو ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ کراچی میں حقیقی تبدیلی نظر آئے گی وفاق کی ذمے داری ہے کہ وہ فنڈز جاری کرتا رہے، اگر اعلان کردہ منصوبوں پر ان کی روح کے مطابق عمل ہوتا ہے تو یقینا کراچی کو ایک جدید شہر بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ان منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کے لیے سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فیصلے کرنا ہوں گے ۔
کراچی کے عوام جس کرب سے گزر رہے ہیں، مسائل کی ایک طویل فہرست ہے جو حل طلب ہیں، پہلے کیا روزمرہ کے مسائل اور دکھ کم تھے کہ مسلسل طوفانی بارشوں نے اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا کردی، دس روز گزرنے کے باوجود تاحال کراچی میں معمولات زندگی بحال نہیں ہوسکے ہیں۔
نصف کراچی پانی میں ڈوبا رہا اور باقی نصف تاریکی میں۔ تمام ترسرکاری شہری انتظامی اداروں کی کارکردگی صفر رہی، شہر ناپرساں کے لیے وزیراعظم نے میگا پیکیج میں واٹر سپلائی منصوبوں کے لیے 92 ارب، سیوریج ٹریٹمنٹ کے لیے141 ارب، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سمیت ندی نالوں کی صفائی اور بحالی کے لیے267 ارب روپے، سڑکوں کی تعمیر ومرمت، ماس ٹرانزٹ ریل اور روڈ ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کے لیے 572 ارب روپے رکھے گئے ہیں اور یہ پیکیج وفاقی اورصوبائی حکومت نے مل کر مرتب کیا ہے۔
پاکستان کا پہلا دارالحکومت کراچی کیسے برباد ہوا،عروس البلاد کی یہ ایک طویل داستان الم ہے، اب تو اس شہرکا نام کچراچی ہی درست لگتا ہے کیونکہ ہر طرف کوڑے کے ڈھیر، سیوریج لائنیں بند ہونے کے ساتھ ساتھ پورا شہر ہی ڈوبا ہوا ہے۔ پوری دنیا میں کراچی سیلاب زدہ شہرکے طور پر نمایاں ہوا ہے۔
اسی تناظر میں وزیراعظم کی ہدایت پر نالوں کی صفائی کا کام این ڈی ایم اے کے سپردکیا گیا ہے جس نے اس پر کام بھی شروع کردیا ہے۔ نالوں پر تجاوزات میں کراچی کا اگر پہلا نمبر ہے تو لاہوربھی کسی طور پر پیچھے نہیں ہے، وہاں بھی نالوںکے ساتھ دو رویہ درختوں کی بے رحمانہ طریقے سے کٹائی کرکے شہر کو آلودگی کے حوالے کردیا گیا ہے۔ لاہور جوکبھی باغوں کا شہرکہلاتا تھا اب شدید ترین ماحولیاتی آلودگی کی زد میں ہے، نالوں کے ساتھ سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کے بعد کٹنگ کرکے زمینیں الاٹ کرائی گئی ہیں،کچھ زمینیں تو ہاؤسنگ اسکیموں کی نذر ہو گئی ہیں۔ لہذا وزیراعظم صاحب کوکراچی کے ساتھ ساتھ لاہور اور دیگر شہروں پر بھی اپنی توجہ مرکوزکرنی پڑے گی،کیونکہ اگر آج کراچی ڈوبا ہے توکل لاہورکی باری بھی آسکتی ہے۔
بلاشبہ کراچی پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن ہمیشہ جمہوری ادوار میں اختیارات و وسائل کی نچلی سطح پر تقسیم میں رکاوٹیں ڈالی جاتی رہی ہیں اورایسا بلدیاتی نظام چاروں صوبوں میں لایا گیا ہے کہ اختیارات ووسائل صوبائی حکومتوں کے پاس رہیں تاکہ وہ اپنے منتخب اراکین کے ذریعے لوگوں کے کام کرکے اپنی جماعت کے لیے مستقبل میں ووٹ لے سکیں اور عوام کے غیظ وغضب کے سامنے یہی موقف اپنایا جاتا ہے کہ یہ تمام مسائل بلدیاتی میئرزکی ذمے داری ہیں کہ وہ حل کریں۔ شکوہ ،جواب شکوہ کی صورتحال کراچی میں دیکھنے میں آئی، جب چار برس تک سابق میئرکراچی وسیم اختراختیارات نہ ہونے کا رونا روتے رہے،کراچی شہرکا بے ہنگم پھیلاؤ اگر مسئلہ ہے تو اب بھی اس کا حل نکالا جا سکتا ہے، جتنا شہر پھیل چکا اب اسے مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے منصوبہ بندی کے تحت نئے علاقوں کو ترقی دی جائے۔
کراچی ملک کی تجارتی اور معاشی سرگرمی کا مرکزومحور ہے ، روزگارکے ذرائع پاکستان کے کسی بھی شہرسے بہت زیادہ ہیں جس کی وجہ سے دوسرے شہروں سے نقل مکانی روزبروزبڑھ رہی ہے، لیکن دْنیا میں اس سے بڑے شہر بھی موجود ہیں اور ان شہروں کی انتظامیہ نے پوری منصوبہ بندی کے تحت شہریوں کو سہولتیں فراہم کی ہیں، بارشیں وہاں بھی ہوتی ہیں اورکہیںکہیں تو کراچی سے زیادہ ہی ہوتی ہوں گی، لیکن بارشوں کے پانی کے نکاس کا ایسا انتظام کیا گیا ہے کہ جونہی بارش رْکتی ہے، بارش کا پانی مخصوص نالوں کے ذریعے نکل جاتا ہے اور شہر دھل کر صاف ہو جاتا ہے،کہیں کچرے کا نام و نشان نہیں رہتا، سیوریج کے نالے بھی کچرے سے بند نہیں ہوتے، ہمارے سامنے ترکی کے شہر استنبول اور ایران کے دارالحکومت تہران کی مثالیں ہیں، جن کے میئروں نے نہ صرف ان شہروں کو ہر لحاظ سے مثالی شہر بنا دیا، بلکہ اْن کے اس کام کو یوں بھی سراہا گیا کہ کسی نئے نظام کا تجربہ کرنے کی بجائے لوکل گورنمنٹ نظام کو مضبوط اورمستحکم کیا جائے۔
ان حالات میں ضرورت اِس بات کی ہے کہ جو بھی وسائل دستیاب ہیں اْن کا بہترین استعمال کیا جائے اس کے لیے نئے سرے سے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے،اگر پہلے کی طرح ترقیاتی رقوم ضایع ہوتی رہیں یا کاغذی منصوبے ہی بنتے رہے تو مسائل حل ہونے کی بجائے بڑھتے رہیں گے۔ کراچی میں صرف 8 ہزار ٹن کچرا ٹھکانے لگایا جاتا جب کہ باقی 4 ہزار ٹن سڑکوں پر پڑا رہتا ہے، جس کی وجہ سے شہرکچرے کا ڈھیر بن چکا ہے، شہری جب دیکھتے ہیں کہ کچرا اٹھانے والا کوئی نہیں تو وہ کچرے کو آگ لگا دیتے ہیں تاکہ کچرے کا ڈھیرکم ہوسکے، مگر سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد سندھ حکومت نے کچرا جلانے پر بھی پابندی لگا دی ہے کیونکہ اس سے مختلف بیماریاں پیدا ہورہی ہیں۔
سندھ حکومت نے ایک طرف عدالتی حکم پر کچرا پھینکنے اورکچرا جلانے پر پابندی تو لگادی ہے مگر شہر کوکچرے سے صاف کرنے کے عدالتی احکامات کو ہوا میں اڑا دیا ہے۔ سندھ حکومت سارا ملبہ شہری حکومت پر اور شہری حکومت سارا ملبہ سندھ حکومت پر ڈال دیتی رہی ہے، مگر عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے اورکچرا اٹھانے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں۔کراچی کی کچی آبادیوں، مضافاتی اور دیہی علاقوں کی حالت دیکھ کر ایسا لگے گا جیسے کوئی کسی انتہائی پسماندہ گاؤں میں آگیا ہے۔ سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کی حالت زار دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، جن میں صفائی ستھرائی کا کوئی نظام سرے سے موجود نہیں۔ بہت سے مقامات پر گٹر ابلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ شہر میں سیوریج کا نظام مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے، سندھ حکومت اگرکراچی کے مسائل کا حل چاہتی ہے تو الیکشن کے بعد نئے بلدیاتی اداروں کو اختیارات اور فنڈز فراہم کرے ۔ کیونکہ حال ہی میں بلدیاتی ادارے اپنی مدت ختم ہونے کے بعد تحلیل ہوچکے ہیں۔
دورہ کراچی کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کراچی پاکستان کا اہم ترین شہر اور معاشی حب ہے۔ اس کے مسائل کا حل باہمی اشتراک سے ممکن ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ تمام شراکت دار بشمول وفاقی حکومت، پاک فوج اورسندھ کی صوبائی حکومت آج کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے یہاں موجود ہیں، ان کی باتیں صائب ہیں۔ ہم قوی امید رکھتے ہیں کہ وفاقی اور سندھ حکومت تمام سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے مربوط کوششیں کریں گی۔ سیاستدانوں کی جانب سے الزامات لگائے جاتے رہے کہ کراچی کے عوام جس کرب سے گزر رہے ہیں، اس سے وفاقی حکومت لا علم ہے، بہرحال وزیر اعظم کے دورے سے یہ تاثر زائل ہونے میں مدد ملے گی اور عمران خان واقعی کراچی کی رونقیں اور بطورصنعتی شہر حقیقی شناخت بحال کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ وقتی طور پر ہم ضرور اس خوش گمانی میں مبتلا ہوئے ہیں کہ کراچی کے مسئلے پر وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک پیج پر آگئی ہیں۔
کراچی کے لیے پانی کے منصوبے ''کے فور''کا ایک حصہ وفاقی حکومت اور ایک سندھ حکومت لے گی۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کراچی میں پانی کا مسئلہ تین سال میں مستقل حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ عوام کے دیرینہ مسائل حل کرنے کی طرف درست سمت میں قدم اٹھایا گیا ہے اس کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے البتہ اس اہم کام میں سب سے زیادہ ضروری منصوبوں کی کڑی نگرانی ہے۔ یقین رکھیں انصاف، امانت، دیانت اور صداقت کے ساتھ کام کیا جائے تو تقدیر بدلی جاسکتی ہے۔
جب تک انصاف کا بول بالا نہیں ہو گا،کام میرٹ پر نہیں ہو گا، ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ نہیں ہو گا اور جب تک شہرکو تنظیم، اتحاد، ایمان کی عملی تصویر نہیں بنایا جائے گا کچھ نہیں بدل سکتا۔ اس لیے پیکیج کا اعلان کرنے کے بعد اس پر پہرہ دینے کے لیے ایماندار افسران اور افراد کوآگے لائیں وہ جو ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہوں۔ وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نالوں کی صفائی کرے گی اور سندھ حکومت نالوں کے اطراف تجاوزات کے خلاف آپریشن سے بے گھر افراد کی آبادکاری کی ذمے داری نبھائے گی۔
یہ اچھی سوچ ہے کیونکہ تجاوزات کے خاتمے سے بے گھر ہونے والوں کو لاوارث نہیں چھوڑا جا سکتا۔ وزیر اعظم کا ان کی آباد کاری کی ذمے داری سندھ حکومت کو دینا بھی خوش آئند ہے۔ گیارہ سو ارب کے پیکیج میں سیوریج اور سالڈ ویسٹ کا مسئلہ بھی حل کیا جائے گا۔ اب فیصلے ہوئے ہیں تو ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ کراچی میں حقیقی تبدیلی نظر آئے گی وفاق کی ذمے داری ہے کہ وہ فنڈز جاری کرتا رہے، اگر اعلان کردہ منصوبوں پر ان کی روح کے مطابق عمل ہوتا ہے تو یقینا کراچی کو ایک جدید شہر بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ان منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کے لیے سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فیصلے کرنا ہوں گے ۔