بھارتی جنگ پرستی کا مستقبل
بھارت کو عصر حاضر کے سیاسی حقائق سے چشم پوشی مہنگی پڑے گی۔
بھارت کو عصر حاضر کے سیاسی حقائق سے چشم پوشی مہنگی پڑے گی۔ فوٹو:فائل
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ قوم اور دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے لیکن اگر ہم پر جنگ تھوپی گئی تو ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینگے، جس کا مظاہرہ ہم نے بالاکوٹ کے ناکام حملے کے جواب میں کیا اس لیے دشمن کو کوئی شک نہ ہو۔
جی ایچ کیو میں یوم دفاع کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا گزشتہ بیس سالوں میں ہم بڑی آزمائش سے گزرے ہیں۔ مشرقی و مغربی سرحدوں پر حالتِ جنگ کا سامنا رہا، زلزلے، سیلاب جیسی آزمائشیں بھی درپیش رہیں، دہشتگردی اور شدت پسندی کے خلاف ہم نے اعصاب شکن جنگ لڑی، ہزاروں افراد کی قربانی دی اور لاکھوں دربدر ہوئے۔ حال ہی میں کورونا جیسی وبا اور ٹڈی دل جیسی آفات کا بھی سامنا رہا جس کا ہم نے کامیابی سے مقابلہ کیا۔
بادی النظر میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے امن پسندی پاکستان پر جنگ مسلط کرنے اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے جس عزم کا اظہار کرتے ہوئے دشمن کو للکارا ہے اسے دنیا بھی جانتی ہے اور خطے کا ہر ملک اس کے امن دشمن اور جنگجویانہ پالیسیوں سے واقف ہے اور جس نے ہمیشہ ہمسایوں کو دھونس، دھمکی، اپنی مخاصمانہ چانکیائی سیاست، سفارت اور گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی سیاست سے دبانے کی روش جاری رکھی ہے لیکن مسلسل جنگوں میں شکست نے دشمن کو کہیں کا نہیں رکھا، پاکستان کی بہادر اور اولوالعزم مسلح افواج نے قومی سالمیت، خود مختاری، اپنی آزادی اور قوم وقار پر کوئی حرف نہیں آنے دیا، پاکستان کے خلاف کیا کیا سازشیں ہوئیں۔
مذاکرات، سیاسی پیش رفت، کشمیری عوام کے حق خودارادیت سے انکار اور مقبوضہ جموں وکشمیر کو جہنم بنانے کا جنون، اس نے اپنی ہی قراردادوں کو بے توقیر کیا، تزویراتی قلابازیاں کھائیں، اپنی جمہوریت اور سیکولرزم کا ڈھونگ رچایا، پاکستان پر جنگ مسلط کر کے کروڑوں انسانوں کو غربت، افلاس، بیروزگاری، بے خانمائی کے عذاب میں مبتلا کیا، اسلحہ کے ڈھیر لگائے، خطے میں جارحیت کے غیر اخلاقی جواز تلاش کیے، پاکستان کی امن پسندی کو اس کی کمزوری سمجھا لیکن وقت نے بالآخر ثابت کیا کہ مملکت خداداد قائم رہنے کے لیے وجود میں ہے اور دشمن کی رعونت یہ کہہ کر خاک میں ملا دی کہ
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا
عسکری سپہ سالار نے وہ ساری تاریخی مسافت بیان کی ہے جو 6 ستمبر کا استعارہ تھی، دشمن کو یہ حقیقت سمجھانی ناگزیر ہے کہ ہر عہد کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں، ارض پاکستان بلاشبہ ہمہ جہت آزمائشوں سے گزری ہے، قیام پاکستان اسلامیان ہند کی عظیم ترین سیاسی، فکری اور اصولی جدوجہد تھی، دو قومی نظریہ کی حقیقت تحریک پاکستان کے دوران روز روشن کی طرح نمایاں ہوگئی تھی، خطے میں پاکستان کا قیام بیسویں صدی کا ایک عہد ساز واقعہ تھا جب ایک نو آزاد مملکت نے اپنے سے کہیں بڑے دشمن کی عفریت نما ریشہ دوانیوں، نفرت اور سیاسی کینہ روی سے نمٹتے ہوئے آزادی، وقار، قومی حرمت، ملی جذبہ، مسلم قومیت اور عہد جدید کے تقاضوں کے دوش بدوش اپنے الگ تشخص کو دنیا سے منوایا۔
بحمدللہ آج اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے پاکستان عالمی برادری میں سرخرو ہے اور بھارت اپنی پالیسیوں، تنگ نظری، سیاسی کورچشمی، سفارتی کم مائیگی، سیاسی و جمہوری بے سروسامانی کے ساتھ ساتھ اپنی جنگ پرستانہ ذہنیت کا شکار ہے۔ وہ اپنے پیدا کردہ دلدل میں پھنس چکا ہے جب کہ زمانے کا سرد وگرم چشیدہ پاکستان ترقی و استحکام کی منزلیں طے کر رہا ہے، اس کی مسلح افواج سرحدوں کی نگہبانی پر مامور ہیں اور دشمن کے ہر حملے کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
جنرل باجوہ نے کہا کہ ففتھ جنریشن یا ہائبرڈ وار ہم پر مسلط کی گئی ہے، اس کا مقصد ملک اور افواجِ پاکستان کو بد نام کر کے انتشار پھیلانا ہے، ہم اس خطرے سے بخوبی آگاہ ہیں۔ قوم کے تعاون سے اس جنگ کو جیتنے میں بھی ہم انشا اللہ ضرور کامیاب رہیں گے۔ اس ہائبرڈ وار کی نازک فکری بنیادوں پر اہل دانش کے لیے سوچ بچار کرنا فرض ہے۔
یہ زمانہ میڈیا، انٹرنیٹ، ٹیکنالوجی، پروپیگنڈہ، مصنوعی ذہانت اور برین واشنگ کا ہے آج ''ماتھا ہری'' جیسی خوبرو جاسوس رقاصہ کا دور نہیں کیونکہ دشمن کسی بھی روپ میں آسکتا ہے۔ جنرل باجوہ کے مطابق آزمائش کی ان تمام گھڑیوں میں ہم حوصلہ نہیں ہارے بلکہ سینہ تان کر ڈٹ گئے۔ جس کی بدولت اللہ نے ہمیں فتح دی۔ بے شک اس محنت اور بے شمار قربانیوں کی بدولت، الحمدللہ آج کا پاکستان ایک پرامن پاکستان ہے اب ہم نے اس امن کو خوشحالی اور ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔
بحیثیت قوم ہمیں اس کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔ اتحاد، ایمان اور تنظیم کے اصولوں کو اپنانا ہوگا اور اپنے قائد کے فرمان کام، کام اور بس کام کو اپنانا ہوگا۔ آرمی چیف نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کا کلیدی کردار اس کا منہ بولتا ثبوت ہے، تاہم ہمارے ہمسایہ بھارت نے ہمیشہ کی طرح ایک غیر ذمے دارانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے۔
خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے غیرقانونی اقدام کے بعد خطے کے امن کو ایک مرتبہ پھر شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے، اس حوالے سے ہم کسی بھی یکطرفہ فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے۔ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ان کے اس قول کا ہر لفظ ہمارے لیے اہم اور ایمان کا حصہ ہے۔ اس حوالے سے ہم کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔
ہمیں نہ تو نئے حاصل شدہ اسلحے کے انبار سے مرعوب کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ہم پر کوئی دھمکی اثرانداز ہو سکتی ہے۔ افواج پاکستان پوری قوت سے لیس، چوکنا اور باخبر ہیں۔ اور انشاء اللہ دشمن کی کسی بھی حرکت کا فوری اور پوری قوت سے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ پاکستان ایک زندہ حقیقت ہے۔ ہمارا خون، ہمارا جذبہ، ہمارا عمل ہر محاذ پر اس کی گواہی دیگا۔ ہم نے کل بھی اپنے سے کئی گنا بڑے دُشمن کو شکست دی تھی اور آج بھی دُشمن کے ناپاک عزائم کو شکست دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
ہم اپنی آزادی کی حفاظت اپنے خون سے کر رہے ہیں، شہداء کے اہلخانہ کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کے پیاروں کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ مملکتِ پاکستان اور عظیم پاکستانی قوم ایک علیحدہ اسلامی تشخص کے نظریے کی علمبردار ہے۔ اسی بنیاد پے ہم نے آزادی حاصل کی اور یہی ہمارے آج اور کل کی پہچان ہے۔
لیکن ہمارا ازلی دشمن اپنے ماضی سے پیچھا نہیں چھڑا سکا، مودی کی جمہوریت غربت، بیماری اور عدم مساوات کے محاصرہ میں ہے، بھارت کورونا متاثرین میں برازیل کو پیچھے چھوڑ کر دوسرا بڑا ملک بن گیا، بھارت میں 90 ہزار632 نئے کیسز سامنے آئے جو نیا عالمی ریکارڈ ہے، متاثرین کی مجموعی تعداد 41لاکھ 60 ہزار 493 ہوگئی،71 ہزار 120 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، ادھر بھارتی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اور بھارت میں غیر ارادی جنگ چھڑ سکتی ہے، ان کا کہنا ہے اگر بیجنگ سے کوئی فوجی محاذ آرائی ہوئی تو پاکستان چین کا ساتھ دیگا۔
حقیقت یہ کہ پاکستان اور بھارت کے پاس امن ہی واحد چوائس ہے، بھارت جنگجوئی اور مہم جوئی سے خود اپنا نقصان کریگا، پاکستان دفاعی اعتبار سے مستحکم ہی نہیں اسے خطے میں ایک فیصلہ کن دفاعی طاقت اور پاکستان کی سلامتی، اور کروڑوں عوام کی حمایت حاصل ہے جو فوج کے شانہ بشانہ لڑیں گے، فکر بھارت کو کرنی ہے کہ اس کے افلاس ز دہ نوجوان جوق در جوق داعش میں شامل ہورہے ہیں، بھارتی میڈیا اور سیکیورٹی حکام کے مطابق داعش میں شمولیت بھارتی حکمرانوں کے لیے ویک اپ کال ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کو پاک فوج کے بیانیہ کی صداقت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی سیاسی دیوانگی سے جان چھڑانا ہوگی، بھارتی جمہوریت کو سب سے بڑا خطرہ جمہوریت کے کٹاؤ سے ہے، جس کا عمل مقبوضہ جموں وکشمیر میں شروع کیا گیا، نریندر مودی نے کشمیریوں پر زمین تنگ کر دی ہے، وہ محصور ہیں ان کے بنیادی انسانی حقوق پامال ہوچکے ہیں، 5لاکھ سے زائد ہندوؤں کو کشمیر کا ڈومیسائل دیا گیا ہے، بھارت کے فہمیدہ طبقوں کی تشویش بڑھتی جارہی ہے کہ مودی کی وجہ سے جمہوریت کا چراغ ٹمٹما رہا ہے۔
بھارت کو عصر حاضر کے سیاسی حقائق سے چشم پوشی مہنگی پڑے گی، اسے جلد یا بدیر مقبوضہ جموں وکشمیر کے محصور ومظلوم عوام کو آزادی دینا ہوگی۔ اب کوئی طاقت کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے میں لیت ولعل سے کام نہیں لے سکتی۔ بھارت کی معیشت اور گورننس کے مسائل پیچیدہ ہوگئے ہیں، کورونا کی صورتحال نے بھارت کے صحت سسٹم کو تباہی سے دوچار کر دیا ہے، مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ جب کہ دیگر اقلیتوں پر بھی ہندوتوا کے سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں۔ خطے میں امن واستحکام ناگزیر ہے۔ امن کے دشمنوں کو اس حقیقت کا ادراک کرنے میں دیر نہیں لگانی چاہیے۔
جی ایچ کیو میں یوم دفاع کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا گزشتہ بیس سالوں میں ہم بڑی آزمائش سے گزرے ہیں۔ مشرقی و مغربی سرحدوں پر حالتِ جنگ کا سامنا رہا، زلزلے، سیلاب جیسی آزمائشیں بھی درپیش رہیں، دہشتگردی اور شدت پسندی کے خلاف ہم نے اعصاب شکن جنگ لڑی، ہزاروں افراد کی قربانی دی اور لاکھوں دربدر ہوئے۔ حال ہی میں کورونا جیسی وبا اور ٹڈی دل جیسی آفات کا بھی سامنا رہا جس کا ہم نے کامیابی سے مقابلہ کیا۔
بادی النظر میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے امن پسندی پاکستان پر جنگ مسلط کرنے اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے جس عزم کا اظہار کرتے ہوئے دشمن کو للکارا ہے اسے دنیا بھی جانتی ہے اور خطے کا ہر ملک اس کے امن دشمن اور جنگجویانہ پالیسیوں سے واقف ہے اور جس نے ہمیشہ ہمسایوں کو دھونس، دھمکی، اپنی مخاصمانہ چانکیائی سیاست، سفارت اور گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی سیاست سے دبانے کی روش جاری رکھی ہے لیکن مسلسل جنگوں میں شکست نے دشمن کو کہیں کا نہیں رکھا، پاکستان کی بہادر اور اولوالعزم مسلح افواج نے قومی سالمیت، خود مختاری، اپنی آزادی اور قوم وقار پر کوئی حرف نہیں آنے دیا، پاکستان کے خلاف کیا کیا سازشیں ہوئیں۔
مذاکرات، سیاسی پیش رفت، کشمیری عوام کے حق خودارادیت سے انکار اور مقبوضہ جموں وکشمیر کو جہنم بنانے کا جنون، اس نے اپنی ہی قراردادوں کو بے توقیر کیا، تزویراتی قلابازیاں کھائیں، اپنی جمہوریت اور سیکولرزم کا ڈھونگ رچایا، پاکستان پر جنگ مسلط کر کے کروڑوں انسانوں کو غربت، افلاس، بیروزگاری، بے خانمائی کے عذاب میں مبتلا کیا، اسلحہ کے ڈھیر لگائے، خطے میں جارحیت کے غیر اخلاقی جواز تلاش کیے، پاکستان کی امن پسندی کو اس کی کمزوری سمجھا لیکن وقت نے بالآخر ثابت کیا کہ مملکت خداداد قائم رہنے کے لیے وجود میں ہے اور دشمن کی رعونت یہ کہہ کر خاک میں ملا دی کہ
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا
عسکری سپہ سالار نے وہ ساری تاریخی مسافت بیان کی ہے جو 6 ستمبر کا استعارہ تھی، دشمن کو یہ حقیقت سمجھانی ناگزیر ہے کہ ہر عہد کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں، ارض پاکستان بلاشبہ ہمہ جہت آزمائشوں سے گزری ہے، قیام پاکستان اسلامیان ہند کی عظیم ترین سیاسی، فکری اور اصولی جدوجہد تھی، دو قومی نظریہ کی حقیقت تحریک پاکستان کے دوران روز روشن کی طرح نمایاں ہوگئی تھی، خطے میں پاکستان کا قیام بیسویں صدی کا ایک عہد ساز واقعہ تھا جب ایک نو آزاد مملکت نے اپنے سے کہیں بڑے دشمن کی عفریت نما ریشہ دوانیوں، نفرت اور سیاسی کینہ روی سے نمٹتے ہوئے آزادی، وقار، قومی حرمت، ملی جذبہ، مسلم قومیت اور عہد جدید کے تقاضوں کے دوش بدوش اپنے الگ تشخص کو دنیا سے منوایا۔
بحمدللہ آج اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے پاکستان عالمی برادری میں سرخرو ہے اور بھارت اپنی پالیسیوں، تنگ نظری، سیاسی کورچشمی، سفارتی کم مائیگی، سیاسی و جمہوری بے سروسامانی کے ساتھ ساتھ اپنی جنگ پرستانہ ذہنیت کا شکار ہے۔ وہ اپنے پیدا کردہ دلدل میں پھنس چکا ہے جب کہ زمانے کا سرد وگرم چشیدہ پاکستان ترقی و استحکام کی منزلیں طے کر رہا ہے، اس کی مسلح افواج سرحدوں کی نگہبانی پر مامور ہیں اور دشمن کے ہر حملے کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
جنرل باجوہ نے کہا کہ ففتھ جنریشن یا ہائبرڈ وار ہم پر مسلط کی گئی ہے، اس کا مقصد ملک اور افواجِ پاکستان کو بد نام کر کے انتشار پھیلانا ہے، ہم اس خطرے سے بخوبی آگاہ ہیں۔ قوم کے تعاون سے اس جنگ کو جیتنے میں بھی ہم انشا اللہ ضرور کامیاب رہیں گے۔ اس ہائبرڈ وار کی نازک فکری بنیادوں پر اہل دانش کے لیے سوچ بچار کرنا فرض ہے۔
یہ زمانہ میڈیا، انٹرنیٹ، ٹیکنالوجی، پروپیگنڈہ، مصنوعی ذہانت اور برین واشنگ کا ہے آج ''ماتھا ہری'' جیسی خوبرو جاسوس رقاصہ کا دور نہیں کیونکہ دشمن کسی بھی روپ میں آسکتا ہے۔ جنرل باجوہ کے مطابق آزمائش کی ان تمام گھڑیوں میں ہم حوصلہ نہیں ہارے بلکہ سینہ تان کر ڈٹ گئے۔ جس کی بدولت اللہ نے ہمیں فتح دی۔ بے شک اس محنت اور بے شمار قربانیوں کی بدولت، الحمدللہ آج کا پاکستان ایک پرامن پاکستان ہے اب ہم نے اس امن کو خوشحالی اور ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔
بحیثیت قوم ہمیں اس کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔ اتحاد، ایمان اور تنظیم کے اصولوں کو اپنانا ہوگا اور اپنے قائد کے فرمان کام، کام اور بس کام کو اپنانا ہوگا۔ آرمی چیف نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کا کلیدی کردار اس کا منہ بولتا ثبوت ہے، تاہم ہمارے ہمسایہ بھارت نے ہمیشہ کی طرح ایک غیر ذمے دارانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے۔
خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے غیرقانونی اقدام کے بعد خطے کے امن کو ایک مرتبہ پھر شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے، اس حوالے سے ہم کسی بھی یکطرفہ فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے۔ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ان کے اس قول کا ہر لفظ ہمارے لیے اہم اور ایمان کا حصہ ہے۔ اس حوالے سے ہم کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔
ہمیں نہ تو نئے حاصل شدہ اسلحے کے انبار سے مرعوب کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ہم پر کوئی دھمکی اثرانداز ہو سکتی ہے۔ افواج پاکستان پوری قوت سے لیس، چوکنا اور باخبر ہیں۔ اور انشاء اللہ دشمن کی کسی بھی حرکت کا فوری اور پوری قوت سے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ پاکستان ایک زندہ حقیقت ہے۔ ہمارا خون، ہمارا جذبہ، ہمارا عمل ہر محاذ پر اس کی گواہی دیگا۔ ہم نے کل بھی اپنے سے کئی گنا بڑے دُشمن کو شکست دی تھی اور آج بھی دُشمن کے ناپاک عزائم کو شکست دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
ہم اپنی آزادی کی حفاظت اپنے خون سے کر رہے ہیں، شہداء کے اہلخانہ کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کے پیاروں کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ مملکتِ پاکستان اور عظیم پاکستانی قوم ایک علیحدہ اسلامی تشخص کے نظریے کی علمبردار ہے۔ اسی بنیاد پے ہم نے آزادی حاصل کی اور یہی ہمارے آج اور کل کی پہچان ہے۔
لیکن ہمارا ازلی دشمن اپنے ماضی سے پیچھا نہیں چھڑا سکا، مودی کی جمہوریت غربت، بیماری اور عدم مساوات کے محاصرہ میں ہے، بھارت کورونا متاثرین میں برازیل کو پیچھے چھوڑ کر دوسرا بڑا ملک بن گیا، بھارت میں 90 ہزار632 نئے کیسز سامنے آئے جو نیا عالمی ریکارڈ ہے، متاثرین کی مجموعی تعداد 41لاکھ 60 ہزار 493 ہوگئی،71 ہزار 120 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، ادھر بھارتی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اور بھارت میں غیر ارادی جنگ چھڑ سکتی ہے، ان کا کہنا ہے اگر بیجنگ سے کوئی فوجی محاذ آرائی ہوئی تو پاکستان چین کا ساتھ دیگا۔
حقیقت یہ کہ پاکستان اور بھارت کے پاس امن ہی واحد چوائس ہے، بھارت جنگجوئی اور مہم جوئی سے خود اپنا نقصان کریگا، پاکستان دفاعی اعتبار سے مستحکم ہی نہیں اسے خطے میں ایک فیصلہ کن دفاعی طاقت اور پاکستان کی سلامتی، اور کروڑوں عوام کی حمایت حاصل ہے جو فوج کے شانہ بشانہ لڑیں گے، فکر بھارت کو کرنی ہے کہ اس کے افلاس ز دہ نوجوان جوق در جوق داعش میں شامل ہورہے ہیں، بھارتی میڈیا اور سیکیورٹی حکام کے مطابق داعش میں شمولیت بھارتی حکمرانوں کے لیے ویک اپ کال ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کو پاک فوج کے بیانیہ کی صداقت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی سیاسی دیوانگی سے جان چھڑانا ہوگی، بھارتی جمہوریت کو سب سے بڑا خطرہ جمہوریت کے کٹاؤ سے ہے، جس کا عمل مقبوضہ جموں وکشمیر میں شروع کیا گیا، نریندر مودی نے کشمیریوں پر زمین تنگ کر دی ہے، وہ محصور ہیں ان کے بنیادی انسانی حقوق پامال ہوچکے ہیں، 5لاکھ سے زائد ہندوؤں کو کشمیر کا ڈومیسائل دیا گیا ہے، بھارت کے فہمیدہ طبقوں کی تشویش بڑھتی جارہی ہے کہ مودی کی وجہ سے جمہوریت کا چراغ ٹمٹما رہا ہے۔
بھارت کو عصر حاضر کے سیاسی حقائق سے چشم پوشی مہنگی پڑے گی، اسے جلد یا بدیر مقبوضہ جموں وکشمیر کے محصور ومظلوم عوام کو آزادی دینا ہوگی۔ اب کوئی طاقت کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے میں لیت ولعل سے کام نہیں لے سکتی۔ بھارت کی معیشت اور گورننس کے مسائل پیچیدہ ہوگئے ہیں، کورونا کی صورتحال نے بھارت کے صحت سسٹم کو تباہی سے دوچار کر دیا ہے، مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ جب کہ دیگر اقلیتوں پر بھی ہندوتوا کے سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں۔ خطے میں امن واستحکام ناگزیر ہے۔ امن کے دشمنوں کو اس حقیقت کا ادراک کرنے میں دیر نہیں لگانی چاہیے۔