حکومت کو مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے حکمت عملی اپنانا ہو گی
پچھلی حکومتوں نے تو مہنگائی کو ایسے بے لگام نہیں چھوڑا تھا، جیسے اس دور میں نظر آ رہی ہے۔
پچھلی حکومتوں نے تو مہنگائی کو ایسے بے لگام نہیں چھوڑا تھا، جیسے اس دور میں نظر آ رہی ہے۔فوٹو : فائل
ملکی معیشت ابھی کورونا کی تباہ کاریوں کے اثرات سے نکلنے نہیں پائی ہے کہ سیلاب اور بارشوں سے پیدا ہونیوالی صورتحال نے گھیر لیا ہے جس کے ابتدائی اثرات اشیائے ضروریہ کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ کی صورت میں ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں اور تین ستمبر کو جاری ہونیوالے سرکاری اعدادوشمار میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کی نوید سنادی گئی ہے۔
آنے والے دنوں میں مہنگائی کا یہ سیلاب مزید آنے کو ہے کیونکہ ملک میں آنے والے حالیہ سیلاب اور بارشوںسے زرعی و صنعتی اور کاروباری شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اس سے سبزیوں، پھلوں سمیت دیگر زرعی اشیاء کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ کا رجحان شروع ہوگیا ہے۔
اس کے یقینی طور پر ملکی معیشت کے دوسرے شعبوں پر بھی اثرات مرتب ہوں گے اور شائد یہی وجہ ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے ماہ کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے کی جانیوالی ٹیکس وصولیاں بھی مقررہ ہدف سے چالیس ارب روپے سے زائد رہی تھیں لیکن دوسرے ماہ (اگست) میں یہ رجحان برقرار نہیں رہ سکا ہے اگرچہ پہلے دو ماہ کا ریونیو ہدف حاصل تو کر لیا گیا ہے لیکن جو پہلے مہینے سرپلس دیکھنے میں آیا تھا وہ دوسرے مہینے دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔
ابھی رواں ماہ (ستمبر) میں بھی معاملات اس طرح کے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ اب تو سیاسی میدان بھی سجنے کو ہے اور اگر سیاسی درجہ حرارت بڑھتا ہے اور احتجاج کی سیاست زور پکڑتی ہے تو اس کے بھی اقتصادی سرگرمیوں پر اثرات پڑیں گے جس کو مزید بڑھنے سے روکنے کیلئے حکومتی ٹیم نے کوششیں تو شروع کر دی ہیں جس کیلئے پیر کو ہونے والی نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس میں ناجائز منافع خوروں و ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے سمیت دیگر اہم فیصلے کئے گئے ہیں لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ وفاق اور صوبے مل کر کام کریں اور اس اہم معاملے پر سیاست سے گریز کریں ورنہ جو حالات بنیں گے۔
اس سے کوئی سیاسی جماعت محفوظ نہیں رہے گی کیونکہ آج بڑھتی مہنگائی سے معاشرے کا ہر طبقہ پریشان ہے اور عوام میں یہ سوچ زور پکڑ رہی ہے کہ حکومت ملک میں جاری کساد بازاری، مہنگائی اور بے روزگاری سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے حکومت نئے نئے منصوبے لا رہی ہے اور حالیہ سیاسی سرگرمیوں و احتساب کی لہر کو بھی اسی پالیسی کا شاخسانہ قراردیا جا رہا ہے۔
جب پی ٹی آئی اپوزیشن میں تھی تو مہنگائی کے حوالے سے بہت تنقید کرتی تھی اور اس کا دعویٰ تھا کہ جب ہماری حکومت قائم ہو گی تو اس منہ زور مہنگائی پر قابو پا لیا جائے گا لیکن پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے سے اس کے برعکس ہو رہا ہے، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے جس سے تمام طبقات پریشان ہیں۔ ایک ایسا ملک جس کی مجموعی آبادی کا 40 فیصد خطِ غربت کے نیچے زندگی گزار رہا ہے، دوسری جانب بیروزگاری بھی برق رفتاری سے بڑھتی چلی جا رہی ہے جو معاشرے میں بے یقینی اور اضطراب کو جنم دے رہی ہے۔
مہنگائی، بے روزگاری سے غریب اور نوجوانوں کے چہرے مرجھائے ہوئے ہیں۔ اعلی تعلیم یافتہ نوجوان ملازمت کے لئے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے تمام کاروبار بند ہو رہے ہیں،عوام کی قوت خرید دم توڑ چکی ہے جسکی وجہ سے بازاروں میں خریدار نہیں ہیں۔ کاروباری افراد کی زبان سے مندا کی آ وازیں آ رہی ہیں۔ موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اور خصوصی طور پر عمران خان کو وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد عوام خوش تھے کہ پہلی مرتبہ اس ملک کو ایسا وزیرِ اعظم ملا ہے جس کے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ دھبہ نہیں ہے۔
اس لئے یہ اس ملک کو لوٹ کھسوٹ کر دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہونے والے اس ملک کے لٹیروں کو شکنجے میں لا کر اس ملک کے وسائل کو لوٹنے والوں اور عوام کا خون نچوڑنے والے سیاست دانوں کو نشانِ عبرت بنا کر رکھ دے گا اور عوام کے لئے خوشحالی کے دروازے کھول دے گا عوام گزشتہ ادوار حکومت اور اس حکومت کے طرزِ حکمرانی میں واضح فرق محسوس کریں گے لیکن اب تک کے حکومتی اقدامات سے تو ایسا لگتا ہے کہ عوام کے لئے تاریکی کی رات اور گہری اور لمبی ہوتی جا رہی ہے جو کہ عوام کو مایوسی کی گہری اور تاریک کھائی میں لے جا رہی ہے۔
عوام نے اس امید پر پی ٹی آئی کو ووٹ دیئے تھے وہ اقتدار میں آ کر ان کے مسائل حل کریں گے انہیں مہنگائی، غربت اور بے روزگاری سے نجات دلائیں گے لیکن یہ ان کی خام خیالی ثابت ہوئی۔ عوام کی توقعات کے برعکس پچھلے ڈیڑھ سال میں ان کے مصائب شدید ہو گئے ہیں۔ بالخصوص آسمان کو چھوتی گرانی نے ان کے اوسان خطا کر دیئے ہیں۔ اشیائے صرف کی بڑھتی ہوئی قیمتیں غریب کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جو موجودہ دورِ حکومت میں سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال میں مہنگائی تین سو فیصد تک بڑھ گئی ہے حد تو یہ ہے کہ دال جسے غریب کی خوراک کہا جاتا تھا اب وہ بھی اس کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہے۔ صرف گزشتہ 6 ماہ میں تمام قسم کی دالوں کے نرخ دو سو فیصد تک بڑھ گئے ہیں۔
موجودہ دورِ حکومت میں مہنگائی کے عفریت نے جس تیزی سے عوام کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اس کے پیشِ نظر یوں لگتا ہے کہ اس ملک میں نہ تو کوئی ایسا قانون ہے اور نہ کوئی ادارہ جو حسبِ منشا مصنوعات کے نرخ بڑھانے والے صنعت کاروں، مل مالکان، تاجروں اور ذخیرہ اندوزوں کی پکڑ کر سکے۔
حکومت نے خود بھی گرانی کو مہمیز دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ڈیڑھ سال میں پیٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کے نرخ کئی بار بڑھائے گئے اور یہ سلسلہ ہنوذ جاری ہے حکومت اگر واقعتا یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ معاشی صورت حال بہتر ہوئی ہے تو بجلی اور پیٹرول کی مدوں میں عوام کو رعائتیں دینے کا آغاز کرے۔ بجلی کی قیمت اتنی نہیں ہوتی جتنے اس پر مختلف ٹیکس وصول کئے جاتے ہیںان ٹیکسوں کو کم کیا جائے، اسی طرح پیٹرولیم مصنوعات پر بے تحاشا منافع کمانے کی پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسے نیچے لا کر عوام کو ریلیف دیا جائے۔ ان مدات میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آئے گا تو مارکیٹ میں دیگر اشیاء بھی سستی ہو جائیں گی۔ اب اس بیانیے سے عوام کو کب تک بہلایا جائے گا کہ یہ سب پچھلی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔
پچھلی حکومتوں نے تو مہنگائی کو ایسے بے لگام نہیں چھوڑا تھا، جیسے اس دور میں نظر آ رہی ہے۔ کچھ چیک اینڈ بیلنس بھی تھا اور کچھ سبسڈی دینے کی روایت بھی تھی۔ موجودہ حکومت پر ناکامی کا جو الزام لگ رہا ہے اس کی بڑی وجہ بھی بے تحاشا مہنگائی ہی ہے۔ اس مہنگائی کو عوام کب تک برداشت کریں گے جب کہ ان کی قوتِ خرید ہی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اس پہلو کی طرف آئے بغیر عمران خان عوام کو مطمئن نہیں کر سکتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عوام کے مصائب بالخصوص مہنگائی کا حقیقی معنوں میں ادراک کرتے ہوئے اس کی کمی کے لئے اقدامات کرے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر عائد ٹیکس میں کمی کی جائے، بجلی کے نرخ نیچے لائے جائیں اور اشیائے صرف پر ناجائز منافع کمانے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔
ان اقدامات سے گرانی کی شرح نیچے آئے گی اور حکومت کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا جو اس وقت پستیوں کو چھو رہی ہے۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے بعد ایکسپورٹس بڑھنا شروع ہوئی اور ایف بی آر کے ٹیکس محاصل بہتر ہوئے ہیں۔ دوسری جانب بین الاقوامی سطع پر خطے کے لحاظ سے بھی اہم سفارتی ڈویلپمنٹس ہو رہی ہیں سی پیک کے حوالے سے بڑی پیشرفت متوقع تھی لیکن چائنیز صدر کے دورہ پاکستان کے موخر کرنے کے باعث اس حوالے سے بھی دھچکا پہنچا ہے جو حکومت کیلئے نہ تو اقتصادی طور پر اچھا ہے اور نہ ہی سیاسی طور پر موافق ہے اور سیاسی مخالفین کے ساتھ اقتصادی و سفارتی تجزیہ کاروں کی جانب سے اس حوالے سے بہت کچھ لکھا جا رہا ہے اور اس پر بہت سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
آنے والے دنوں میں مہنگائی کا یہ سیلاب مزید آنے کو ہے کیونکہ ملک میں آنے والے حالیہ سیلاب اور بارشوںسے زرعی و صنعتی اور کاروباری شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اس سے سبزیوں، پھلوں سمیت دیگر زرعی اشیاء کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ کا رجحان شروع ہوگیا ہے۔
اس کے یقینی طور پر ملکی معیشت کے دوسرے شعبوں پر بھی اثرات مرتب ہوں گے اور شائد یہی وجہ ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے ماہ کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے کی جانیوالی ٹیکس وصولیاں بھی مقررہ ہدف سے چالیس ارب روپے سے زائد رہی تھیں لیکن دوسرے ماہ (اگست) میں یہ رجحان برقرار نہیں رہ سکا ہے اگرچہ پہلے دو ماہ کا ریونیو ہدف حاصل تو کر لیا گیا ہے لیکن جو پہلے مہینے سرپلس دیکھنے میں آیا تھا وہ دوسرے مہینے دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔
ابھی رواں ماہ (ستمبر) میں بھی معاملات اس طرح کے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ اب تو سیاسی میدان بھی سجنے کو ہے اور اگر سیاسی درجہ حرارت بڑھتا ہے اور احتجاج کی سیاست زور پکڑتی ہے تو اس کے بھی اقتصادی سرگرمیوں پر اثرات پڑیں گے جس کو مزید بڑھنے سے روکنے کیلئے حکومتی ٹیم نے کوششیں تو شروع کر دی ہیں جس کیلئے پیر کو ہونے والی نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس میں ناجائز منافع خوروں و ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے سمیت دیگر اہم فیصلے کئے گئے ہیں لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ وفاق اور صوبے مل کر کام کریں اور اس اہم معاملے پر سیاست سے گریز کریں ورنہ جو حالات بنیں گے۔
اس سے کوئی سیاسی جماعت محفوظ نہیں رہے گی کیونکہ آج بڑھتی مہنگائی سے معاشرے کا ہر طبقہ پریشان ہے اور عوام میں یہ سوچ زور پکڑ رہی ہے کہ حکومت ملک میں جاری کساد بازاری، مہنگائی اور بے روزگاری سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے حکومت نئے نئے منصوبے لا رہی ہے اور حالیہ سیاسی سرگرمیوں و احتساب کی لہر کو بھی اسی پالیسی کا شاخسانہ قراردیا جا رہا ہے۔
جب پی ٹی آئی اپوزیشن میں تھی تو مہنگائی کے حوالے سے بہت تنقید کرتی تھی اور اس کا دعویٰ تھا کہ جب ہماری حکومت قائم ہو گی تو اس منہ زور مہنگائی پر قابو پا لیا جائے گا لیکن پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے سے اس کے برعکس ہو رہا ہے، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے جس سے تمام طبقات پریشان ہیں۔ ایک ایسا ملک جس کی مجموعی آبادی کا 40 فیصد خطِ غربت کے نیچے زندگی گزار رہا ہے، دوسری جانب بیروزگاری بھی برق رفتاری سے بڑھتی چلی جا رہی ہے جو معاشرے میں بے یقینی اور اضطراب کو جنم دے رہی ہے۔
مہنگائی، بے روزگاری سے غریب اور نوجوانوں کے چہرے مرجھائے ہوئے ہیں۔ اعلی تعلیم یافتہ نوجوان ملازمت کے لئے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے تمام کاروبار بند ہو رہے ہیں،عوام کی قوت خرید دم توڑ چکی ہے جسکی وجہ سے بازاروں میں خریدار نہیں ہیں۔ کاروباری افراد کی زبان سے مندا کی آ وازیں آ رہی ہیں۔ موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اور خصوصی طور پر عمران خان کو وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد عوام خوش تھے کہ پہلی مرتبہ اس ملک کو ایسا وزیرِ اعظم ملا ہے جس کے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ دھبہ نہیں ہے۔
اس لئے یہ اس ملک کو لوٹ کھسوٹ کر دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہونے والے اس ملک کے لٹیروں کو شکنجے میں لا کر اس ملک کے وسائل کو لوٹنے والوں اور عوام کا خون نچوڑنے والے سیاست دانوں کو نشانِ عبرت بنا کر رکھ دے گا اور عوام کے لئے خوشحالی کے دروازے کھول دے گا عوام گزشتہ ادوار حکومت اور اس حکومت کے طرزِ حکمرانی میں واضح فرق محسوس کریں گے لیکن اب تک کے حکومتی اقدامات سے تو ایسا لگتا ہے کہ عوام کے لئے تاریکی کی رات اور گہری اور لمبی ہوتی جا رہی ہے جو کہ عوام کو مایوسی کی گہری اور تاریک کھائی میں لے جا رہی ہے۔
عوام نے اس امید پر پی ٹی آئی کو ووٹ دیئے تھے وہ اقتدار میں آ کر ان کے مسائل حل کریں گے انہیں مہنگائی، غربت اور بے روزگاری سے نجات دلائیں گے لیکن یہ ان کی خام خیالی ثابت ہوئی۔ عوام کی توقعات کے برعکس پچھلے ڈیڑھ سال میں ان کے مصائب شدید ہو گئے ہیں۔ بالخصوص آسمان کو چھوتی گرانی نے ان کے اوسان خطا کر دیئے ہیں۔ اشیائے صرف کی بڑھتی ہوئی قیمتیں غریب کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جو موجودہ دورِ حکومت میں سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال میں مہنگائی تین سو فیصد تک بڑھ گئی ہے حد تو یہ ہے کہ دال جسے غریب کی خوراک کہا جاتا تھا اب وہ بھی اس کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہے۔ صرف گزشتہ 6 ماہ میں تمام قسم کی دالوں کے نرخ دو سو فیصد تک بڑھ گئے ہیں۔
موجودہ دورِ حکومت میں مہنگائی کے عفریت نے جس تیزی سے عوام کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اس کے پیشِ نظر یوں لگتا ہے کہ اس ملک میں نہ تو کوئی ایسا قانون ہے اور نہ کوئی ادارہ جو حسبِ منشا مصنوعات کے نرخ بڑھانے والے صنعت کاروں، مل مالکان، تاجروں اور ذخیرہ اندوزوں کی پکڑ کر سکے۔
حکومت نے خود بھی گرانی کو مہمیز دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ڈیڑھ سال میں پیٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کے نرخ کئی بار بڑھائے گئے اور یہ سلسلہ ہنوذ جاری ہے حکومت اگر واقعتا یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ معاشی صورت حال بہتر ہوئی ہے تو بجلی اور پیٹرول کی مدوں میں عوام کو رعائتیں دینے کا آغاز کرے۔ بجلی کی قیمت اتنی نہیں ہوتی جتنے اس پر مختلف ٹیکس وصول کئے جاتے ہیںان ٹیکسوں کو کم کیا جائے، اسی طرح پیٹرولیم مصنوعات پر بے تحاشا منافع کمانے کی پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسے نیچے لا کر عوام کو ریلیف دیا جائے۔ ان مدات میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آئے گا تو مارکیٹ میں دیگر اشیاء بھی سستی ہو جائیں گی۔ اب اس بیانیے سے عوام کو کب تک بہلایا جائے گا کہ یہ سب پچھلی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔
پچھلی حکومتوں نے تو مہنگائی کو ایسے بے لگام نہیں چھوڑا تھا، جیسے اس دور میں نظر آ رہی ہے۔ کچھ چیک اینڈ بیلنس بھی تھا اور کچھ سبسڈی دینے کی روایت بھی تھی۔ موجودہ حکومت پر ناکامی کا جو الزام لگ رہا ہے اس کی بڑی وجہ بھی بے تحاشا مہنگائی ہی ہے۔ اس مہنگائی کو عوام کب تک برداشت کریں گے جب کہ ان کی قوتِ خرید ہی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اس پہلو کی طرف آئے بغیر عمران خان عوام کو مطمئن نہیں کر سکتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عوام کے مصائب بالخصوص مہنگائی کا حقیقی معنوں میں ادراک کرتے ہوئے اس کی کمی کے لئے اقدامات کرے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر عائد ٹیکس میں کمی کی جائے، بجلی کے نرخ نیچے لائے جائیں اور اشیائے صرف پر ناجائز منافع کمانے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔
ان اقدامات سے گرانی کی شرح نیچے آئے گی اور حکومت کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا جو اس وقت پستیوں کو چھو رہی ہے۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے بعد ایکسپورٹس بڑھنا شروع ہوئی اور ایف بی آر کے ٹیکس محاصل بہتر ہوئے ہیں۔ دوسری جانب بین الاقوامی سطع پر خطے کے لحاظ سے بھی اہم سفارتی ڈویلپمنٹس ہو رہی ہیں سی پیک کے حوالے سے بڑی پیشرفت متوقع تھی لیکن چائنیز صدر کے دورہ پاکستان کے موخر کرنے کے باعث اس حوالے سے بھی دھچکا پہنچا ہے جو حکومت کیلئے نہ تو اقتصادی طور پر اچھا ہے اور نہ ہی سیاسی طور پر موافق ہے اور سیاسی مخالفین کے ساتھ اقتصادی و سفارتی تجزیہ کاروں کی جانب سے اس حوالے سے بہت کچھ لکھا جا رہا ہے اور اس پر بہت سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔