حکومت نے ای سی سی کے 89 فیصد فیصلوںپرعمل کیا
4 سال 6 ماہ کے دوران 81 اجلاسوں میں 744 فیصلے کیے، 665 پرعملدرآمد کیا گیا، وزارت خزانہ
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ای سی سی نے عوام کو ریلیف دینے کیلیے متعدد فیصلے کیے۔ فوٹو فائل
موجودہ حکومت کے گزشتہ ساڑھے4 سالہ دور کے دوران کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے مجموعی طور پر ہونے والے81 اجلاس میں 744 فیصلے کیے گئے ہیں۔
وزارت خزانہ کی طرف سے گزشتہ روزجاری ہونیوالے اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ساڑھے 4سال کے دوران ای سی سی کے 744 فیصلوں میں سے 665 فیصلوں پر عملدرآمد کیا گیااور اس لحاظ سے موجودہ حکومت کے دور میں ای سی سی کے فیصلوں پر عملدرآمد کی شرح 89 فیصد رہی۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ای سی سی نے عوام کو ریلیف دینے کیلیے متعدد فیصلے کیے، گھریلو صارفین کو بلا تعطل گیس کی فراہمی کیلیے سی این جی پر پابندی عائد کرنے کی بھی منظوری دی، اس کے علاوہ ای سی سی نے رمضان پیکیج، واپڈا کے منصوبوں کو فنڈز کی فراہمی، پاکستان اسٹیل ملز کیلیے مالی پیکیج، تاجکستان کو چینی کی برآمد سمیت دیگر اہم فیصلے کیے گئے۔
وزارت خزانہ کی طرف سے گزشتہ روزجاری ہونیوالے اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ساڑھے 4سال کے دوران ای سی سی کے 744 فیصلوں میں سے 665 فیصلوں پر عملدرآمد کیا گیااور اس لحاظ سے موجودہ حکومت کے دور میں ای سی سی کے فیصلوں پر عملدرآمد کی شرح 89 فیصد رہی۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ای سی سی نے عوام کو ریلیف دینے کیلیے متعدد فیصلے کیے، گھریلو صارفین کو بلا تعطل گیس کی فراہمی کیلیے سی این جی پر پابندی عائد کرنے کی بھی منظوری دی، اس کے علاوہ ای سی سی نے رمضان پیکیج، واپڈا کے منصوبوں کو فنڈز کی فراہمی، پاکستان اسٹیل ملز کیلیے مالی پیکیج، تاجکستان کو چینی کی برآمد سمیت دیگر اہم فیصلے کیے گئے۔