مقبرہ میر بزرگ
بلوچستان میں مغلیہ عہد کا زبوں حال تاریخی ورثہ
بلوچستان میں مغلیہ عہد کا زبوں حال تاریخی ورثہ۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
مقبرہ میر بزرگ بارکھان شہر سے تقریباً 20 کلومیٹر جنوب مغرب میں ناہڑ کوٹ قصبے میں واقع ہے۔ بارکھان سے ناہڑ کوٹ جاتے ہوئے ناہڑ کوٹ بستی سے چند کلومیٹر پہلے ہی سڑک کے دائیں جانب ایک تنہا چوٹی پر یہ مقبرہ دور سے دکھائی دینے لگتا ہے۔
یہ سترہویں صدی کے آغاز میں تعمیر ہونے والا مغلیہ عہد کا شاہ کار مقبرہ ہے جسے مغل حکم راں جہانگیر نے اپنے ایک بہادر جرنیل میر بزرگ کی یاد میں تعمیر کرایا، جو شہزادہ امیر خسرو کے ہمراہ قندھار جاتے ہوئے بیمار ہو کر ناہڑ کوٹ کے قریب وٹاکری کے مقام پر انتقال کر گئے تھے۔
مقبرہ شاہ رکن عالم ملتان، لال مہڑہ مقابر ڈیرہ اسماعیل خان، مقابر اچ شریف اور دیگر ہشت پہلو مقبروں سے مماثلت رکھنے والا فن تعمیر کا شاہ کار مقبرہ میر بزرگ شکست وریخت کا شکار ہے۔ عوام الناس میں یہ مقبرہ قلعہ سوران کے نام سے مشہور ہے۔ اسے ملکہ نورجہاں کی جائے پیدائش بھی کہا جاتا ہے۔
تاریخی حقائق:
ہندو مؤرخ رائے بہادر لالہ ہتو رام نے اپنی کتاب تاریخ بلوچستان مطبوعہ 1903ء میں اس مقبرے کا ذکر کیا ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کے شہزادہ امیر خسرو نے سن 1010 ہجری بمطابق 1601 عیسوی میں قندھار جانے کے لیے بارکھان کا راستہ منتخب کیا۔ اس سفر میں مغلیہ فوج کے ایک بہادر اور قابل جرنیل، جنہیں میر بزرگ کہا جاتا تھا، بارکھان کے ایک قصبے وٹاکری میں انتقال کر گئے۔ ناہڑکوٹ بستی کے مغرب میں ایک وسیع میدان کے درمیان ایک ٹیلے پر آپ کی تدفین کی گئی۔ بعدازاں مغل بادشاہ نورالدین محمد جہانگیر کی ہدایت پر مقبرہ تعمیر کیا گیا۔
لالہ ہتو رام کی تحقیق کے مطابق مقبرہ پر نصب فارسی زبان میں لکھے کتبے پر تاریخِ تعمیر 17 رمضان 1010 ہجری بمطابق 11 فروری 1602 درج ہے، اب یہ کتبہ مٹ چکا ہے۔ مقبرہ میر بزرگ ناہڑ کوٹ بستی کے مغرب میں چند کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک وسیع میدان کے درمیان ایک ٹیلے پر واقع ہے۔ یہ ٹیلہ میدان کی سطح زمین سے تقریباً 300 فٹ اونچا ہے اور شرقاً غرباً تقریباً 500 فٹ چوڑا ہے۔
اونچائی پر قائم ہونے کہ وجہ سے یہ مقبرہ چاروں اطراف سے میلوں دور سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ہشت پہلو مقبرے کا گنبد، شمال مشرقی دیوار اور محرابیں گر چکی ہیں۔ ملتانی کاشی ٹائلز کا خوب صورت کام تقریباً مٹ چکا ہے۔ قبر ملبے تلے دب چکی ہے۔ دیواروں سے تحاریر، عبارات، شاعری وغیرہ کا مکمل طور پر صفایا ہوچکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کاشی ٹائلز اور بیرونی دیواروں پر نصب شیشے کے کام سے اتنی تیز روشنی منعکس ہوتی تھی کہ اگر حاملہ چوپائے دیکھتے تو ان کے حمل ضائع ہوجایا کرتے تھے۔ لہٰذا گڈریوں، گلہ بانوں نے اس لاوارث ورثے کو کلہاڑیوں سے وار کر کر کے گرا دیا۔ واللہ اعلم۔
مقبرہ میر بزرگ کے شمالی جانب واقع ایک قدیم مسجد اپنی نشانیاں مکمل طور پر کھو چکی ہے۔ یہ مسجد اس مقبرہ سے تقریباً سوا دو سو سال قبل فیروز شاہ تغلق کے دور میں تعمیر ہوئی تھی۔ 1903ء میں ملنے والے فارسی کتبے پر مسجد کی تاریخِ تعمیر 20 ذوالحج 770 ہجری بمطابق 26 جولائی 1369 عیسوی درج تھی۔ صد افسوس کہ اب اس کے کھنڈرات بھی ندارد ہیں۔
تعارف میر بزرگ ولد میر معصوم باکھری:
میر بزرگ مغلیہ عہد کی ایک نام ور شخصیت میر معصوم باکھری کے صاحب زادے ہیں جو مغلیہ دور میں سندھ کے گورنر رہے۔ میر معصوم اپنے دور کے ایک معروف شاعر، تاریخ داں، آرٹسٹ، طبیب اور بہت اچھے خطاط بھی تھے۔ سندھ کی تاریخ پر مبنی فارسی میں لکھی گئی آپ کی تصنیف تاریخ معصومی ایک مستند حوالے کا درجہ رکھتی ہے۔ آپ اپنی قابلیت کے سبب شہنشاہ اکبر اور پھر جہانگیر کے معتمد اور منظورِنظر جرنیل رہے اور مغل دور کی اہم فتوحات میں شامل رہے۔ آپ کو ایران میں سفیر بنا کر بھیجا گیا۔ مغلیہ عہد کی اکثر عمارات میں آپ کے لکھے ہوئے کتبے موجود ہیں۔
سکھر میں آپ کا مقبرہ اور معصوم مینارہ سندھ میں ایک اہم تاریخی و سیاحتی مقام ہے۔ قابل باپ کے فرزند ہونے کے ناتے میر بزرگ نے اپنے والد سے فنونِ لطیفہ سیکھے اور باپ کی طرح خود بھی مغلیہ دربار میں اہم منصب پایا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے انتقال کے بعد ناہڑ کوٹ میں آپ کے شایان شان مغلیہ روایات کے مطابق عظیم الشان مقبرہ تعمیر کیا گیا لیکن صدافسوس آج یہ مقبرہ نشانِ عبرت بنا ہوا ہے اور عوام و خاص اس مقبرہ میں مدفون صاحبِ مزار کی تاریخ، سوانح حیات اور قدر و منزلت سے بے خبر ہیں۔
اربابِ اختیار سے التماس:
ہم وسیب ایکسپلورر کے سیاحتی پلیٹ فارم کے ذریعہ حکومتِ بلوچستان اور حکومتِ پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ بلوچستان میں واقع اس نادر تاریخی ورثے کو محفوظ کیا جائے، اس کی مرمت و بحالی کی جائے ورنہ جس تیزرفتاری سے یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے خدشہ ہے کہ چند سالوں میں یہ صفحہِ ہستی سے مٹ جائے گا اور تب سوائے کفِ افسوس ملنے کے کچھ نہ کیا جاسکے گا۔ خدارا تاریخ کے اس شاہ کار کو محفوظ کیا جائے۔ اس مقام کو ایک شان دار ٹورسٹ اسپاٹ کی شکل دی جاسکتی ہے جو تاریخ و ورثے سے لگاؤ رکھنے والے احباب کے لیے بلوچستان میں ایک اہم سیاحتی مقام ثابت ہوگی۔
حوالہ جات:
1۔ تاریخ بلوچستان از لالہ ہتو رام
2 ۔تحقیقاتی مقالہ: مقبرہ میر بزرگ بارکھان، تاریخ و تعمیر
از شاکر نصیر، وحید رزاق، غلام فاروق بلوچ
3 ۔قدیم پاکستان، جلد 27، سال 2016
Ancient Pakistan, Vol. XXVII (2016)
مختلف شہروں سے فاصلے:
سیاحوں کی معلومات کے لیے مختلف شہروں سے اس مقبرے کے فاصلے درج ذیل ہیں:
بارکھان: 20 کلومیٹر
رکنی: 70 کلومیٹر
کوئٹہ: 375 کلومیٹر
فورٹ منرو: 90 کلومیٹر
ڈیرہ غازی خان: 160 کلومیٹر
ملتان: 260 کلومیٹر
فورٹ منرو سے مقبرہ میر بزرگ تک تقریباً دو گھنٹے کا سفر ہے۔
مقبرہ میر بزرگ بارکھان شہر سے تقریباً 20 کلومیٹر جنوب مغرب میں ناہڑ کوٹ قصبے میں واقع ہے۔ بارکھان سے ناہڑ کوٹ جاتے ہوئے ناہڑ کوٹ بستی سے چند کلومیٹر پہلے ہی سڑک کے دائیں جانب ایک تنہا چوٹی پر یہ مقبرہ دور سے دکھائی دینے لگتا ہے۔
یہ سترہویں صدی کے آغاز میں تعمیر ہونے والا مغلیہ عہد کا شاہ کار مقبرہ ہے جسے مغل حکم راں جہانگیر نے اپنے ایک بہادر جرنیل میر بزرگ کی یاد میں تعمیر کرایا، جو شہزادہ امیر خسرو کے ہمراہ قندھار جاتے ہوئے بیمار ہو کر ناہڑ کوٹ کے قریب وٹاکری کے مقام پر انتقال کر گئے تھے۔
مقبرہ شاہ رکن عالم ملتان، لال مہڑہ مقابر ڈیرہ اسماعیل خان، مقابر اچ شریف اور دیگر ہشت پہلو مقبروں سے مماثلت رکھنے والا فن تعمیر کا شاہ کار مقبرہ میر بزرگ شکست وریخت کا شکار ہے۔ عوام الناس میں یہ مقبرہ قلعہ سوران کے نام سے مشہور ہے۔ اسے ملکہ نورجہاں کی جائے پیدائش بھی کہا جاتا ہے۔
تاریخی حقائق:
ہندو مؤرخ رائے بہادر لالہ ہتو رام نے اپنی کتاب تاریخ بلوچستان مطبوعہ 1903ء میں اس مقبرے کا ذکر کیا ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کے شہزادہ امیر خسرو نے سن 1010 ہجری بمطابق 1601 عیسوی میں قندھار جانے کے لیے بارکھان کا راستہ منتخب کیا۔ اس سفر میں مغلیہ فوج کے ایک بہادر اور قابل جرنیل، جنہیں میر بزرگ کہا جاتا تھا، بارکھان کے ایک قصبے وٹاکری میں انتقال کر گئے۔ ناہڑکوٹ بستی کے مغرب میں ایک وسیع میدان کے درمیان ایک ٹیلے پر آپ کی تدفین کی گئی۔ بعدازاں مغل بادشاہ نورالدین محمد جہانگیر کی ہدایت پر مقبرہ تعمیر کیا گیا۔
لالہ ہتو رام کی تحقیق کے مطابق مقبرہ پر نصب فارسی زبان میں لکھے کتبے پر تاریخِ تعمیر 17 رمضان 1010 ہجری بمطابق 11 فروری 1602 درج ہے، اب یہ کتبہ مٹ چکا ہے۔ مقبرہ میر بزرگ ناہڑ کوٹ بستی کے مغرب میں چند کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک وسیع میدان کے درمیان ایک ٹیلے پر واقع ہے۔ یہ ٹیلہ میدان کی سطح زمین سے تقریباً 300 فٹ اونچا ہے اور شرقاً غرباً تقریباً 500 فٹ چوڑا ہے۔
اونچائی پر قائم ہونے کہ وجہ سے یہ مقبرہ چاروں اطراف سے میلوں دور سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ہشت پہلو مقبرے کا گنبد، شمال مشرقی دیوار اور محرابیں گر چکی ہیں۔ ملتانی کاشی ٹائلز کا خوب صورت کام تقریباً مٹ چکا ہے۔ قبر ملبے تلے دب چکی ہے۔ دیواروں سے تحاریر، عبارات، شاعری وغیرہ کا مکمل طور پر صفایا ہوچکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کاشی ٹائلز اور بیرونی دیواروں پر نصب شیشے کے کام سے اتنی تیز روشنی منعکس ہوتی تھی کہ اگر حاملہ چوپائے دیکھتے تو ان کے حمل ضائع ہوجایا کرتے تھے۔ لہٰذا گڈریوں، گلہ بانوں نے اس لاوارث ورثے کو کلہاڑیوں سے وار کر کر کے گرا دیا۔ واللہ اعلم۔
مقبرہ میر بزرگ کے شمالی جانب واقع ایک قدیم مسجد اپنی نشانیاں مکمل طور پر کھو چکی ہے۔ یہ مسجد اس مقبرہ سے تقریباً سوا دو سو سال قبل فیروز شاہ تغلق کے دور میں تعمیر ہوئی تھی۔ 1903ء میں ملنے والے فارسی کتبے پر مسجد کی تاریخِ تعمیر 20 ذوالحج 770 ہجری بمطابق 26 جولائی 1369 عیسوی درج تھی۔ صد افسوس کہ اب اس کے کھنڈرات بھی ندارد ہیں۔
تعارف میر بزرگ ولد میر معصوم باکھری:
میر بزرگ مغلیہ عہد کی ایک نام ور شخصیت میر معصوم باکھری کے صاحب زادے ہیں جو مغلیہ دور میں سندھ کے گورنر رہے۔ میر معصوم اپنے دور کے ایک معروف شاعر، تاریخ داں، آرٹسٹ، طبیب اور بہت اچھے خطاط بھی تھے۔ سندھ کی تاریخ پر مبنی فارسی میں لکھی گئی آپ کی تصنیف تاریخ معصومی ایک مستند حوالے کا درجہ رکھتی ہے۔ آپ اپنی قابلیت کے سبب شہنشاہ اکبر اور پھر جہانگیر کے معتمد اور منظورِنظر جرنیل رہے اور مغل دور کی اہم فتوحات میں شامل رہے۔ آپ کو ایران میں سفیر بنا کر بھیجا گیا۔ مغلیہ عہد کی اکثر عمارات میں آپ کے لکھے ہوئے کتبے موجود ہیں۔
سکھر میں آپ کا مقبرہ اور معصوم مینارہ سندھ میں ایک اہم تاریخی و سیاحتی مقام ہے۔ قابل باپ کے فرزند ہونے کے ناتے میر بزرگ نے اپنے والد سے فنونِ لطیفہ سیکھے اور باپ کی طرح خود بھی مغلیہ دربار میں اہم منصب پایا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے انتقال کے بعد ناہڑ کوٹ میں آپ کے شایان شان مغلیہ روایات کے مطابق عظیم الشان مقبرہ تعمیر کیا گیا لیکن صدافسوس آج یہ مقبرہ نشانِ عبرت بنا ہوا ہے اور عوام و خاص اس مقبرہ میں مدفون صاحبِ مزار کی تاریخ، سوانح حیات اور قدر و منزلت سے بے خبر ہیں۔
اربابِ اختیار سے التماس:
ہم وسیب ایکسپلورر کے سیاحتی پلیٹ فارم کے ذریعہ حکومتِ بلوچستان اور حکومتِ پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ بلوچستان میں واقع اس نادر تاریخی ورثے کو محفوظ کیا جائے، اس کی مرمت و بحالی کی جائے ورنہ جس تیزرفتاری سے یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے خدشہ ہے کہ چند سالوں میں یہ صفحہِ ہستی سے مٹ جائے گا اور تب سوائے کفِ افسوس ملنے کے کچھ نہ کیا جاسکے گا۔ خدارا تاریخ کے اس شاہ کار کو محفوظ کیا جائے۔ اس مقام کو ایک شان دار ٹورسٹ اسپاٹ کی شکل دی جاسکتی ہے جو تاریخ و ورثے سے لگاؤ رکھنے والے احباب کے لیے بلوچستان میں ایک اہم سیاحتی مقام ثابت ہوگی۔
حوالہ جات:
1۔ تاریخ بلوچستان از لالہ ہتو رام
2 ۔تحقیقاتی مقالہ: مقبرہ میر بزرگ بارکھان، تاریخ و تعمیر
از شاکر نصیر، وحید رزاق، غلام فاروق بلوچ
3 ۔قدیم پاکستان، جلد 27، سال 2016
Ancient Pakistan, Vol. XXVII (2016)
مختلف شہروں سے فاصلے:
سیاحوں کی معلومات کے لیے مختلف شہروں سے اس مقبرے کے فاصلے درج ذیل ہیں:
بارکھان: 20 کلومیٹر
رکنی: 70 کلومیٹر
کوئٹہ: 375 کلومیٹر
فورٹ منرو: 90 کلومیٹر
ڈیرہ غازی خان: 160 کلومیٹر
ملتان: 260 کلومیٹر
فورٹ منرو سے مقبرہ میر بزرگ تک تقریباً دو گھنٹے کا سفر ہے۔