شپنگ کمپنیوں کی من مانی سے رائس ایکسپورٹرزپریشان

اچانک شپنگ چارجزبڑھادیے،ڈالر کے ریٹ بھی انٹربینک سے زائدلیے جا رہے ہیں

برآمدی لاگت میں اضافہ ہورہا ہے،حکومت شپنگ کمپنیوں کومن مانی سے روکے، چیلا رام ۔ فوٹو: فائل

شپنگ کمپنیوں کی جانب سے چارجز میں اچانک اضافے نے چاول کی برآمدات کو مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔

رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے قائم مقام چیئرمین چیلا رام کے مطابق چاول کی ایکسپورٹ کے عین عروج پر شپنگ کمپنیوں نے چارجز میں نمایاں اضافہ کردیا گیا ہے جس سے برآمدی لاگت میں غیرمعمولی اضافہ ہوگیا ہے، پاکستانی ایکسپورٹرز کے سودے سابقہ چارجز کی بنیاد پر پہلے ہی طے پاچکے ہیں اور مزید اضافہ نقصان کا سبب بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ کی ممباسا پورٹ کیلیے شپنگ چارجز 300 سے 600ڈالراور چین کیلیے شپنگ چارجز 200 سے 400 ڈالر تک کا اضافہ کردیا گیا۔




شپنگ کمپنیاں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایکسپورٹ فریٹ کی وصولی کے لیے پاکستانی ایکسپورٹرز سے ڈالر کی من مانی قیمت بھی وصول کررہی ہیں، انٹربینک کے مقابلے میں فی ڈالر ایک سے ڈیڑھ روپیہ زائد لیا جارہا ہے۔ انہوں نے حکومت اور اسٹیٹ بینک سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر شپنگ کمپنیوں کی من مانی کا نوٹس لیتے ہوئے اضافی چارجز اور انٹر بینک ریٹ کی خلاف ورزی سے روکا جائے۔
Load Next Story