جمہوریت کی ضرورت

ملک اب کسی سیاسی جنگل کی طویل مسافت کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ آج کی سیاسی فضا لمحہ فکریہ ہے۔

ملک اب کسی سیاسی جنگل کی طویل مسافت کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ آج کی سیاسی فضا لمحہ فکریہ ہے۔ فوٹو: فائل

چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب جسٹس گلزار احمد خان نے کہا ہے کہ امن و امان حکومت کی ذمے داری ہے، لیکن یہاں پولیس میں سیاسی مداخلت عام ہوچکی ہے جس کے نتیجہ میں عوام کی جان ومال محفوظ نہیں۔ انھوں نے سماجی اور سیاسی سسٹم کا بنیادی سوال اٹھایا کہ جب افسر کو تحفظ حاصل نہیں ہوگا تو وہ عوام کی جان ومال اور عزت کی حفاظت بھی نہیں کرے گا۔

حقیقت میں چیف جسٹس نے ملک کے سیاسی، سماجی اور انتظامی دروبست اور وسیع تر تناظر میں پاور اسٹرکچر پر بحث کے امکانات پر صائب روڈ میپ کا عندیہ دیا ہے، سیاست دان بخوبی جانتے ہیں کہ ریاستی اداروں کو قانونی اور آئینی دائرہ میں رہتے ہوئے کام کرنے کی آزادی ہوگی تو کبھی بھی سیاسی افراتفری، مداخلت اور اختیارات کے بے جا استعمال اور بدانتظامی کا کوئی راستہ کسی کو کھلا ہوا نہیں ملے گا، سیاسی مداخلت اسی وقت سر اٹھاتی ہے جب جمہوری عمل کی شفافیت متاثر ہوتی ہے۔

مفاد پرست عناصر سیاسی آزادی، پارلیمانی استحقاق، اختیارات، فنڈز کے حصول اور انفرااسٹرکچر کے تکنیکی اور بلدیاتی معاملات کو قانون سازی کے حساس، سیاسی، پارلیمانی، آٓئینی اور فکری معاملات کو گڈ مڈ کر دیتے ہیں، سیاسی مداخلت کے انتظامی رینج کی تحلیل نفسی کی جائے تو اس کے ڈانڈے ایک طلسم ہوشربا سے جا ملتے ہیں، قیام پاکستان کی ابتدائی تاریخ کے حوالے سے جو تحقیقی مواد دستیاب ہے اس سے ملکی سیاسی سسٹم کے ارتقا کے مختلف ادوار کا منظر نامہ جستہ جستہ سامنے آتا ہے۔

تاریخی حوالے ایک ایسے سسٹم کے اوراق کھولتے ہیں جس پر بڑے سوچ و بچار کی ضرورت ہے، عدالت عظمیٰ نے صرف ''ٹپ آف این آئس برگ'' کی بات کی ہے، ملک کو آج جن سیاسی، اقتصادی، سماجی، تاریخی اور تزویراتی مسائل نے اپنے شکنجے میں کس لیا ہے وہ راتوں رات پیدا نہیں ہوئے، ہمارے حکمرانوں کی ابتدائی نسل نے بلاشبہ کرپشن کے بطن سے جنم نہیں لیا، انھیں برٹش راج کی طرف سے تقسیم ہند کی صورت ایک نوآبادیاتی نظام ملا، گورے جب تک تھے ان کے نظام کا تسلسل چلتا رہا، بلدیاتی نظام بھی مربوط تھا، لارڈ میکالے کا تعلیمی نظام کالے گورے کا تصور بھی اپنے ساتھ لایا۔

سیاست کے مفکرین کا کہنا تھا کہ آزادی اور غلامی کی فکری حد وہیں ختم ہوگئی تھی جب مملکت خداداد کو آزادی، خودمختاری اور سیاسی اداروں کی بنیاد رکھنے کا چیلنجنگ لمحہ قوم کے سامنے ایک سوالیہ نشان کی طرح موجود تھا، یہی وہ ٹرننگ پوائنٹ تھا جب پاکستان کے حکمرانوں کے سامنے دو راستے تھے کہ وہ جمہوریت، پارلیمانیت، اقتصادی خودکفالت، غیر جانب داری اور خطے میں اپنی کس قسم کی شناخت اور سیاسی نظام چاہتے ہیں، ایک آزاد مملکت کو فیصلے کی مکمل آزادی تھی۔

مگر بدقسمتی یہ رہی کہ سیاست سیاسی اخلاقیات کے مقابل، سمجھوتوں، غیر جمہوری رویوں، مفاد پرستانہ سیاسی تنگ نظری اور کرپشن کی گہری کھائی میں گرتی چلی گئی، ملکی جمہوری سفر کو آمرانہ دھچکوں نے سنبھلنے نہیں دیا، جمہوریت خود بھی عوام دوستی کی مسلمہ منزلوں سے دور ہوتی چلی گئی، اور آج اس نازک موڑ پر کھڑی ہے کہ عدلیہ حکمرانوں کو خبردار کر رہی ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں، پولیس کی سا کھ بحال کریں۔

سوال یہ ہے کہ جمہوریت تتر بتر کیوں ہوئی ہے، اراکین قومی وصوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کی فوج ظفر موج مسائل کے حل کے لیے پارلیمنٹ کی مسلمہ بالادستی کے ایشو پر ایک آواز کیوں نہیں، یہ انتشار کیسا ہے؟ جمہوریت تو قوم کو جوڑ ے رکھتی ہے، یہ کیسی طرز حکمرانی ہے جس میں بظاہر سارے سیاستدان، سیاسی جماعتیں کبھی ایک بل کی منظوری میں قوالی کے انداز میں واہ واہ کا شور ڈالتی ہیں پھر اچانک اپوزیشن پر الزام لگتا ہے کہ بھارت اور وہ ایک پیج پر ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ انگریز نے جو ریلوے لائن تقسیم ہند سے پہلے بچھا کر دی، اس کا قدیم دخانی انجن آج بھی کراچی کینٹ اسٹیشن کے مین گیٹ پر موجود ہے۔ مگر ریلوے سسٹم کا وہی حال ہے، البتہ باتیں بلٹ ٹرین سے بھی آگے کی ہیں،73سال سے ایک ہی مائنڈ سیٹ چل رہا ہے، جمہوری رویے کتنے تبدیل ہوئے، وہ سب کے سامنے ہے، پاکستانی عورت کی تقدیس و حرمت میں کتنی پیش رفت ہوئی، ریاست مدینہ کی سمت جو بامقصد روحانی جست قوم اور حکمرانوں کے قافلے نے لگائی، اسے لاہور موٹر وے پر پیش آنے والے حالیہ سانحہ نے آنسوؤں میں غرق کر دیا۔

عمران خان نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ سب کچھ بدل دیں گے، وہ ماضی کی حکومتوں کو ماضی کا قصہ قرار دیکر ایک نئے پاکستان کی جمہوری بساط بچھانے کی بات کرتے تھے، انھیں اب تک تو کنٹینر سے اتر جانا چاہیے تھا، وقت بدل چکا ہے، وقت کے جمہوری تقاضے بدل چکے ہیں، لیکن حیرت ہے کہ ان کے ممبران قومی و صوبائی اسمبلیز اور سینیٹرز کو ترقیاتی فنڈز چاہئیں، عوام مہنگائی اور بیروزگاری کے جہنم میں جل رہے ہیں۔


ہمارے قانون سازوں کی دلچسپی فنڈز سے ہے، جنھیں ملک کے لیے اس کی نئی نسل کے لیے ایک سو سال کے لیے بے مثال قانون سازی اور ایثار و اولوالعزمی اور خدا ترسی، عوام دوستی کی فقیدالمثال روایات قائم کرنی چاہئیں، وہ ٹی وی ٹاک شوز میں باہم دست وگریباں ہیں، فیٹف بلوں کی منظوری کے لیے لڑ رہے ہیں، ملک کا سب سے بڑا شہر قائد بارش کے پانی میں ڈوب چکا، تاجر اور مزدور برباد ہوچکے، مگر 11سو ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج پر سندھ حکومت اور وفاق میں روایتی سندھی کشتی '' ملاکھڑا'' کے داؤ پیچ جاری ہیں۔

جن غریب الوطنوں کے محلے، قصبے، شہر، گھر، کھیت ڈوبے ہوئے ہیں، جن کو کورونا نے کنگال کر دیا ہے وہ کس ایم این اے، صوبائی اسمبلی کے رکن اور سینیٹر سے فریاد کریں، کوئی سننے والا نہیں، سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹیرینز کا ذہن سرکا ری اراضی اور پلاٹ پرمٹوں میں الجھا ہو ہے، آغا حشر کاشمیری نے اپنے کسی ڈرامہ میں ایسوں کو ''صید ہوس'' کا شکار بتایا ہے۔

ملکی سیاسی نظام کی شفافیت، خطے کی دہکتی ہوئی صورتحال، مشرق وسطی میں بھڑکتی ہوئے آگ سے سب لاتعلق ہیں، کرمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات ناگزیر، سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے، فرنگیوں نے جو عوام دوست خود اختیاری مقامی حکومت دی تھی ہزار گالیاں کھا کر بھی گورا بے مزہ نہ ہوا، مگر ہمارے حکمرانوں نے مقامی حکومت کو حقارت سے ٹھوکر ماری، عوام تک گراس روٹ لیول کے سیاسی و جمہوری ثمرات تک آنے نہیں دیے، اختیارات نچلی سطح تک آئیں گے تب ہی عوام کو کچھ ریلیف ملے گا، تاہم عوام کو کورونا وائرس کے عفریت کے ساتھ ہی مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں نے نیم جان کر دیا۔

صحت و تعلیم کا نظام زمین بوس ہوکر رہ گیا، ہم واقعی قرون وسطیٰ کے دور میں چلے گئے، عجیب سیاست ہے کہ حکمراں صرف اپنی تعریف سننے کے خبط میں مبتلا ہیں، حکمرانوں کے بلیم گیم سیاسی طنطنے او رعونت میں کوئی فرق نہیں آیا، ہم اکیسویں صدی کی جدید سائنس وٹیکنالوجی کے عہد سیاست میں کاسہ گدائی تھامے ہوئے ہیں، بظاہر ایک بے نام سا سسٹم موجود تو ہے، مگر :

ہر چند کہیں ہے کہ نہیں ہے

سیاسی نظام قانون و روایات کی باقیات سمیت چل تو رہا ہے، لیکن عوام اس کے فیض اور سیاستدانوں کی اسپورٹس مین شپ سے محروم ہیں، کہتے ہیں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، سب ایک ہی شاخ پر ہیں مگر اندر سے ملکی جمہوری باغ میں کہرام برپا ہے، ہر جمہوری روایت بے سمت ہوگئی ہے، عوام سے وہ معاہدہ عمرانی جو بانیان قوم نے اس قوم سے کیا اس میں طے پایا تھا کہ عوامی حاکمیت، سفارت، تجارت، ثقافت اور تعلیم کے اہم اداروں کی بنیاد ایک منصفانہ اقتصادی اور سماجی نظام پر ہوگی، میرٹ عام ہوگا، ملک کی خدمت اور اس کے سیاستدانوں، بیوروکریسی اور ماہرین تعلیم کی منزل قوم کی خدمت ہوگی، لیکن اس کے بعد سالہا سال تک قوانین تک کی پرورش افسر شاہی نے من پسند طریقہ سے کی۔

بابائے قوم کی اعلیٰ بصیرت اور جمہوری قیادت میں ہمیں وہ وطن نصیب ہوا جو ابتدا میں آئین بے سر زمیں تھا، کسی نے کہا تھا کہ سسٹم خود خراب نہیں ہوتا اسے چلانے والے اس کی میکانیت سے لاعلم رہتے ہیں، بابائے قوم نے ایک جمہوری نظام دیا تھا جو کثیر المقاصد تھا، وقت کے ساتھ ساتھ اس کی شکل سیاسی نظام نے تباہ کر دی۔ اب وقت آگیا ہے کہ سیاستدان ادراک کریں کہ وہ کس سمت کی طرف نکل گئے ہیں، کیا یہ درست سیاسی اور جمہوری راستہ ہے یا وہ کہیں بھٹک گئے ہیں۔ بہرحال ملک اب کسی سیاسی جنگل کی طویل مسافت کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ آج کی سیاسی فضا لمحہ فکریہ ہے۔

سیاست کے ایک امریکی مدبر جان ایڈمز نے کہا تھا جمہوریت قائم بالذات نہیں ہوتی، تھک جاتی ہے اور اپنی جان لیتی ہے، انھوں نے کہا تھا کہ ایسی کوئی جمہوریت نہیں دیکھی گئی جس نے خود کشی نہ کی ہو۔

کتنا معنی خیز فقرہ ہے۔ سیاستدان اس پر غور و فکر کریں۔
Load Next Story