امریکی عدالت نے فون کالز کی جاسوسی کوغیرآئینی اورغیر قانونی قرار دےدیا

فون کالز کی جاسوسی سب سے زیادہ متعصبانہ اور ظالمانہ عمل ہے، ڈسٹرکٹ جج رچرڈ لیون۔

ہمیں یقین ہے کہ فون کالز کی جاسوسی کا پروگرام قانونی ہے، عدالتی فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں، امریکی محکمہ انصاف۔ فوٹو؛ اے ایف پی/ گیٹی امیج۔

امریکا کی ایک عدالت نے نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کی جانب سے لاکھوں کی تعداد میں فون کالز کی جاسوسی کو عوام کی ذاتی زندگی میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اسےغیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے دیاہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق واشنگٹن کی ایک فیڈرل عدالت کے جج رچرڈ لیون کا کہنا تھا کہ امریکا کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کو لاکھوں کی تعداد میں عوام کی کالز کی جاسوسی کا کوئی حق نہیں ہے، فون کالز کی جاسوسی سب سے زیادہ معتصابہ اور ظالمانہ عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی آئین کے بانی جیمز میڈیسن بھی اوباما انتظامیہ کی جانب سے کالز کی خفیہ نگرانی کے پروگرام سے خوفزدہ ہو گئے ہوں گے کیونکہ یہ عوام کی ذاتی زندگی میں مکمل مداخلت ہے۔ رچرڈ لیون کاامریکی حکومت کی جانب سے فونر کالز کی جاسوسی کے بیان کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکی حکام نیشنیل سیکیورٹی ایجنسی کی رپورٹ اور تجزیوں کی بنیاد پر کوئی بھی پیشگی حملہ روکنے کی ایک بھی مثال پیش نہیں کر سکتی۔


دوسری جانب نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے حکام نے اس فیصلے پر تجزیہ دینے سے انکار کر دیا ہے جبکہ امریکی وزارت انصاف کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ فون کالز کی جاسوسی کا پروگرام قانونی ہے، فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں اس کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق کنٹریکٹر ایڈورڈ سنوڈن نے نیشنیل سیکیورٹی ایجنسی کی جانب سے غیر ملکی سیاستدانوں سمیت لاکھوں افراد کے فون کالز کی جاسوسی کا انکشاف کیا تھا جس کے بعد سے امریکی حکام کو سخت تنقید کا نشانا بنایا جا رہا ہے۔
Load Next Story