بارڈر مارکیٹس کے قیام کا فیصلہ

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بارڈر مارکیٹس کے قیام کی ضرورت ملکی معیشت کے لیے بے حد ضروری ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بارڈر مارکیٹس کے قیام کی ضرورت ملکی معیشت کے لیے بے حد ضروری ہے۔ فوٹو: فائل

حکومت نے افغانستان اورایران کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر18بارڈر مارکیٹس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملکی اقتصادی ضرورتوں کے مطابق اور عوام کو روزگار کی فراہمی کی پالیسی کے تحت حکومت کا یہ فیصلہ صائب ہی نہیں، معاشی تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہے اور اسے ماہرانہ منصوبہ کی شکل میں ہمہ جہت نتائج کے ساتھ بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔

دنیا کے بیشتر سرحدی بارڈرز پر ایسی ٹریڈ روٹ اور مارکیٹس قائم ہیں جہاں عوام کو ہنر اورروزگار بھی ملتا ہے، بزنس بھی ساتھ ساتھ جاری رہتا ہے اور تجارتی سرگرمیوں کے رشتے ملکی کاروبارکے مین اسٹریم تجارتی اورکاروباری مراکز سے جڑے رہتے ہیں،کئی ایسے فری یا ڈرائی پورٹ سٹی بھی ہیں جہاں محفوظ طریقہ سے کاروبار ہوتا ہے لیکن ان ملکوں میں قانون نافذ کرنے والے فعال اداروں، موثرتجارتی قوانین اور فالٹ فری سیکیورٹی کے حساس معاملات کی مانیٹرنگ بارڈرفورس ، ساحلی پولیس اور دیگر ایجنسیوں کی ذمے داری ہوتی ہے، تاہم پاک افغان سرحد اور پاک ایران بارڈرکی نوعیت بالکل الگ ہے۔

خطے کے ان علاقوں میں دہشتگردی، انتہا پسندی، شورش پسندی اور جنگ کی صورتحال سے امن و امان کے ہولناک حالات پیدا ہوئے اور پاکستان کی معیشت کوطالبان اور افغانستان کی داخلی صورتحال سے جتنا نقصان ہوا، اس کے نتائج آج تک پاکستان بھگت رہا ہے، نائن الیون کے بعد سے پاکستان کی معیشت پر بیرونی اورداخلی دباؤ اعصاب شکن تھا، پاکستان کی جمہوریت اور سیاسی استحکام کو خطرات سے نمٹنے کی فرصت کم ہی ملی۔ اب حالات قدرے بدلے ہیں ، خطے میں امن کے امکانات روشن ہو رہے ہیں، امریکا، افغان حکومت اور طالبان قیادت میں مذاکرات ، جنگ بندی اور اہم معاہدہ کے لیے پاکستان کی کوششوں اور خدمات کی زلمے خلیل سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز بھی ستائش کررہے ہیں۔

ادھر وزیر اعظم نے پائیلٹ پراجیکٹ کے طور پر صوبہ بلوچستان میں دو اور صوبہ خیبرپختونخوا میں ایک بارڈر مارکیٹ کے قیام کی منظوری دی ،جنھیں فروری تک فعال کر دیا جائے گا۔ بارڈر مارکیٹس کے قیام کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ منظور شدہ راہداریوں اور بارڈر مارکیٹس میں متعلقہ اسٹاف کی تعیناتی کا کام ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔

اس سیاق وسباق میں بارڈر مارکیٹوں کا تصور صائب ہے ، اس سے عوام کو روزگار اور علاقے کے کاروباری عوامل کو اقتصادی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے پروگرام کو معیشت کے استحکام سے مربوط کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے بھی اس خیال کی حمایت کی ہے اورکہا ہے کہ ان مارکیٹس کے قیام سے جہاں سرحدی علاقوں میں مقیم آبادی خصوصاً نوجوانوں کوکاروبار اور تجارت کے بہتر مواقعے میسر آئیں گے وہاں سرحدوں پر فینسنگ (باڑکی تنصیب) کے بعد آمدورفت اور تجارت کو منظم کرنے اور اسمگلنگ کی روک تھام میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔

وزیر اعظم جمعرات کو اعلیٰ سطح اجلاس کی سربراہی کر رہے تھے جس میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، مشیران ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، عبدالرزاق داؤد، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان، وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، معاون خصوصی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ و دیگر سینئر سول اور ملٹری افسران شریک ہوئے۔ اجلاس میں سرحدوں کے ذریعے ہونے والی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مزید موثر اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔پاک افغان بارڈر پر 12جب کہ پاک ایران سرحد پر6 بارڈر مارکیٹس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بارڈر مارکیٹس کے قیام کی ضرورت ملکی معیشت کے لیے بے حد ضروری ہے مگر ساتھ ہی ملکی سالمیت کو محفوظ ، سیکیورٹی چیک کو یقینی اور اسمگلنگ کی مکمل روک تھام کے لیے حکام کو بنیادی حقائق کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا، پہلی بات جو پاک افغان بارڈرکو اہمیت دلاتی ہے وہ اس کا محل وقوع اور ہمہ جہت کاروباری وسعت اور بے ہنگم تجارتی ریل پیل ہے ، یہ حقیقت ہے کہ چمن بارڈرکو غیرملکی لگژری گاڑیوں کی جنت قرار دیا گیا ہے، جہاں دبئی، سمیت عرب دنیا کی تجارت اور آٹوموبائلز کی چہل پہل کے اثرات پاکستان میں بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔

ایک طرف پاک افغان اور پاک ایران کی سرحدی پٹی واخان سے شروع ہوکر بلوچستان کے جیونی کے طویل ساحلی علاقے سے ملتی ہے، یہ علاقہ افغان ٹریڈ کی وجہ سے بھارت،افغانستان،ایران، پاکستان اور وسط ایشیا کی مارکیٹس سے مربوط ہے، اس لیے مجوزہ ٹریڈ مارکیٹس کے قیام سے سرحدی علاقوں میں عوام اورکاروباری لوگوں کی نقل وحمل کو کنٹرول کرنا آسان نہیں ہوگا، اس وقت بھی گاڑیوں کی خرید وفروخت کی موجودہ مارکیٹ ایک سدا بہار کاروبار ہے جس میں روزانہ کروڑوں کا کاروبار ہوتا ہے، بعض افراد چمن بارڈر اور دبئی سے اپنے کاروباری لنک کے ذریعے ہر قسم کی نان کسٹم پیڈ NCPگاڑیاں منگاتے ہیں۔


ان میں لینڈ کروزر، ڈبل ڈور، اور درجنوں غیرملکی ساختہ گاڑیوں کا لین دین ہوتاہے،ذرایع کے مطابق ایسی گاڑیاں جو بظاہر ایکسیڈنٹ والی اور ڈینٹ زدہ ہوتی ہیں،وہ اگر 2018کی ہوں تو بھی پاکستان میں ایکسائز ڈیوٹی ، ٹیکسیشن، چیسز اوردیگر تکنیکی سہولت اور رنگ وروغن سمیت تین سے چارکروڑ میں فروخت ہوتی ہے، ایسی نان کسٹم پیڈ درجنوں گاڑیاں ہیں، ان افراد نے اس وسیع کاروبار کے لیے دہرے شناختی کارڈ بنا رکھے ہیں ، ان کے پاس افغانستان اور پاکستان کے شناختی کارڈ بھی ہیں، اس پورے دھندے میں کہیں بھی کسٹم ڈیوٹی ،لینڈ کسٹم، ایکسائز اور دیگر ٹیکسز کی ادائیگی افغانستان اور دبئی وغیرہ میں نہیں ہوتی، اس لیے چمن اورافغان پٹی پر ٹریڈ اور مارکیٹس کے قیام سے خطے کی تجارتی ڈائنامکس میں تبدیلیوں کا ایک بڑا در کھل جائے گا۔

کاروباری تیزی کے باعث ملک بھر سے ان گاڑیوں کی خرید وفروخت زور پکڑے گی ، مزدور ، میکانکس ، رنگ ساز ، مستری اور الیکٹریشنز کی کھپت ہوگی، لیکن اتنے بڑے کاروبار سے وابستہ افرادی طاقت کے روزمرہ کے نقل وحمل کو مانیٹر کرنا بارڈر سیکیورٹی فورسز کے لیے غیر معمولی ٹاسک ہوگا، دوسری جانب پاک ایران بارڈرکی حساسیت بھی کم اہمیت کی نہیں، کئی سرحدی شہر سیاسی، سماجی،مذہبی حوالے سے حساس کہے جاتے ہیں، شورش زدگی ، باہمی تنازعات اور سیاسی گروپوں کی آویزش اور چپقلش کی خبریں بھی آتی ہیں۔

پاک ایران سرحد سے ڈیزل اور پٹرول کی اسمگلنگ کی اطلاعات ہیں، دوطرفہ سخت کارروائیوں کے باوجود یہ سلسلہ تاحال جاری ہے، ڈیزل اور پٹرول کی غیرقانونی اسمگلنگ کے نتیجے میں کئی روڈ ایکسیڈنٹ ہوچکے ہیں، مسافر جل کر ہلاک ہوئے ہیں، بلوچستان کے سیاسی معاملات کو بھی دیکھنا اور ان بارڈر مارکیٹس میں سبک رفتاری سے کاروبار کو جاری رکھنا ایک اہم تجارتی پیش رفت کہی جا سکتی ہے،پاک ایران حکام کے دوطرفہ معاملات میں بارڈر مارکیٹس کا رول انتہائی اہم ہوگا، کاروباری ٹیمیں ان مارکیٹوں میں سامان کی رسد اور اسمگلنگ کی روک تھام کے اقدامات میں بھی معاونت کرسکتی ہیں۔

ارباب اختیار کے لیے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ان مارکیٹس میں قانونی اور شفاف طریقے سے سامان تجارت، گاڑیوں، اشیائے تعیش ، ملبوسات ، الیکٹرونک سامان کی سپلائی میں ٹرانسپیرنسی کا خیال رکھا جائے، منشیات کی تجارت نہیں ہونی چاہیے،حکام اس بات کا اہتمام کریں کہ ان مارکیٹس میں وہ عناصر کاروبار کررہے ہیں جو بااثر ہیں، ایک عام بزنس مین ایک پرچی پرکروڑوں کے کاروباری معاملات نمٹاتا ہے، وہ کباڑکو دبئی سے اٹھاتا ہے مگر اس کی قیمت کراچی میں کسٹم پیڈ ہونے کی شکل میں کروڑوں کی ڈیل بنتی ہے، لہذا ٹریڈ ضرور ہو، مارکیٹس رات دن کام کریں مگر ہماری سرحدیں محفوظ ہوں، کاروباری اور تجارتی معاہدات جو افغانستان اور پاکستان اور ایران کے مابین ہیں ان پرکوئی آنچ نہیں آنی چاہیے۔

ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ چین اور انڈیا کے سرحدی علاقوں میں ایسی مارکیٹس موجود ہیں، اگر پاک بھارت تعلقات آگے جاکر معمول پر آتے ہیں تو کاروبار میں راجستھان اور دیگر سرحدی ملکوں کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے، چین ہمارا بہت بڑا پارٹنر ہے ، وزیراعظم اس سے بہت کچھ سیکھنا چاہتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی کہ اس سارے میکنزم میں پاکستان کسٹم ڈائریکٹوریٹ کو مکمل اختیارات ملنے چاہئیں۔

اس کے اپنے چیک پوسٹ ہوں، جہاں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن، کلئیرنس اور ادائیگی کے معاملات ون ونڈو کے تحت انجام پائیں، کاروبار اس طرح جاری رہے کہ اس میں اسمگلروں کو کھل کھیلنے کا موقع نہ ملے، پاکستان کے محنت کشوں اور علاقے کے نوجوانوں کو روزگار ملے، جس سے وہ اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پال سکیں۔

خیال رہے افغانستان سے جو مال آتا ہے اسے افغانی خریدتے ہیں، اور جو مال دبئی سے کراچی پورٹ پر آتا ہے، وہ افغان ٹریڈ کے نام پر آتا ہے، اسے کراچی سے اسی افغان ٹریڈ کے ذریعے افغاستان لے جایا جاتا ہے، یہ طورخم اور چمن بارڈر اہم ترین کاروباری مقام ہیں جہاں ایک ہجوم صبح شام ادھر سے ادھر جاتا ہے، کئی بار یہ تجارت بند بھی ہوتی رہی ہے، اسمگلرز اسٹرائیک بیک کرتے ہیں، وہ خطے کی سب سے بڑی مافیاز ہیں۔

ان سے سیکیورٹی کے حوالے سے ہمہ وقت محتاط رہنے کی ضرورت ہے، کراچی میں بعض افراد قانونی طور پر ایسی گاڑیوں کو لارہے ہوتے ہیں جن پر افغانستان اور دبئی میں کوئی ٹیکس، ڈیوٹی اور دیگرواجبات کی ادائیگی کا دھڑکا نہیں، اس سارے معاملے کو کاروباری ذہن ہی مکمل کرتا ہے ۔ اس میں پاکستان کی سالمیت،کاروبارکی شفافیت لازمی جب کہ عام پاکستان مزدور کو کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے، روزگار کے ان سرحدی افق کی حیثیت نئے ابھرتے تجارتی مراکز اور بہترین مواقعے کی ہے جسے ہمارے معاشی ماہرین اور سیکیورٹی حکام اور حکمران اپنی دوراندیشی سے مفید بناسکتے ہیں۔
Load Next Story