کمشنری نظام ہرصورت رائج رہنا چاہیے فنکشنل اور ق لیگ
آرڈیننس نافذ ہوا توسیاسی محاذ آرائی شروع ہوجائیگی،جام مدد،شہریار مہرکی پریس کانفرنس
آرڈیننس نافذ ہوا توسیاسی محاذ آرائی شروع ہوجائیگی،جام مدد،شہریار مہرکی پریس کانفرنس، فوٹو : فائل
مسلم لیگ فنکشنل اور مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزرا اور ارکان سندھ اسمبلی نے کہا ہے کہ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2012ء کو سندھ اسمبلی میں بل کی صورت میں پیش کیا جائے ۔
اگر بلدیاتی نظام کو آرڈیننس کے ذریعے نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سے سندھ میں سیاسی محاذ آرائی شروع ہوجائے گی ۔ جمعرات کو سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ فنکشنل کے پارلیمانی رہنما جام مدد علی اور مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر شہریار مہر نے کہا کہ ہم تمام اتحادیوں سے گزارش کرتے ہیں کہ نیا نظام اسمبلی سے منظور کرایا جائے ۔
جام مدد علی نے کہا کہ فنکشنل لیگ نے اپنی تجاویز حکومت کو پیش کردی ہیں جس میں واضح کیا ہے کہ کراچی کے پانچ اضلاع ہونے چاہئیں،بلدیاتی نظام کے مسئلے پر سندھ اسمبلی کا اجلاس بلانے کی درخواست بھی کر سکتے ہیں،بلدیاتی نظام کا آرڈیننس کے ذریعے نفاذ مسترد کرتے ہیں۔ اگر بلدیاتی نظام کو آرڈننس کے ذریعے نافذ کیا گیا تو یہ جمہوریت کے منافی ہوگا،جمہوری حکومت کو آرڈیننس کے ذریعے قوانین کا نفاذ زیب نہیں دیتا اگر بلدیاتی نظام لانا ہے تو اسے سندھ اسمبلی میں قانون سازی کرکے لایا جائے ۔
اس موقع پر دونوں رہنمائوں نے کہا کہ موجودہ کمشنری نظام ہر صورت رائج رہنا چاہیے جبکہ پولیس اور ریونیو کے اختیارات ضلعی انتظامیہ کے بجائے صوبائی حکومت کے پاس ہونے چاہئیں۔ پریس کانفرنس میں رفیق بانبھن ، نصرت سحر عباسی ، رانا عبدالستار ، ماروی راشدی بھی شریک تھے۔
اگر بلدیاتی نظام کو آرڈیننس کے ذریعے نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سے سندھ میں سیاسی محاذ آرائی شروع ہوجائے گی ۔ جمعرات کو سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ فنکشنل کے پارلیمانی رہنما جام مدد علی اور مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر شہریار مہر نے کہا کہ ہم تمام اتحادیوں سے گزارش کرتے ہیں کہ نیا نظام اسمبلی سے منظور کرایا جائے ۔
جام مدد علی نے کہا کہ فنکشنل لیگ نے اپنی تجاویز حکومت کو پیش کردی ہیں جس میں واضح کیا ہے کہ کراچی کے پانچ اضلاع ہونے چاہئیں،بلدیاتی نظام کے مسئلے پر سندھ اسمبلی کا اجلاس بلانے کی درخواست بھی کر سکتے ہیں،بلدیاتی نظام کا آرڈیننس کے ذریعے نفاذ مسترد کرتے ہیں۔ اگر بلدیاتی نظام کو آرڈننس کے ذریعے نافذ کیا گیا تو یہ جمہوریت کے منافی ہوگا،جمہوری حکومت کو آرڈیننس کے ذریعے قوانین کا نفاذ زیب نہیں دیتا اگر بلدیاتی نظام لانا ہے تو اسے سندھ اسمبلی میں قانون سازی کرکے لایا جائے ۔
اس موقع پر دونوں رہنمائوں نے کہا کہ موجودہ کمشنری نظام ہر صورت رائج رہنا چاہیے جبکہ پولیس اور ریونیو کے اختیارات ضلعی انتظامیہ کے بجائے صوبائی حکومت کے پاس ہونے چاہئیں۔ پریس کانفرنس میں رفیق بانبھن ، نصرت سحر عباسی ، رانا عبدالستار ، ماروی راشدی بھی شریک تھے۔