پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کی ملاقات

ایک اچھی خبر سننے کو کان ترس گئے تھے، سو بالآخر وہ آ ہی گئی، پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کی ملاقات چودہ۔۔۔

پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کی ملاقات 24 دسمبر کو ہوگی۔ فوٹو: فائل

ایک اچھی خبر سننے کو کان ترس گئے تھے، سو بالآخر وہ آ ہی گئی، پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کی ملاقات چودہ برس کے بعد ہو گی۔ ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ کر کنٹرول لائن پر پائی جانے والی کشیدگی کے خاتمے کے لیے باہم گفتگو کریں تو بھلا اس سے بڑی اور اچھی خبر کیا ہو سکتی ہے، فضا میں بارود کی بو کے بجائے امن کی خوشبو پھیل جائے تو کیا ہی بات ہے۔ ایک دن کے فرق سے برطانوی سلطنت سے آزادی حاصل کرنے والے پاکستان اور بھارت عالمی سازشوں کا شکار اور مقامی شدت پسند عناصر کی سوچ کے اسیر اس حد تک ہوئے کہ بات ایک نہیں تین جنگوں تک جا پہنچی۔ حالانکہ ڈیڑھ ارب انسانوں کی معاشی و اقتصادی ترقی کا راز 'امن' میں پوشیدہ ہے۔


وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف کی پاک بھارت تعلقات میں بہتری اور باہمی تجارت کے فروغ کی خواہش اور روشن مستقبل کا ویژن خطے میں امن و آشتی کی راہ ہموار کر رہا ہے، دونوں ممالک کے شدت پسند عناصر تو اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقعے پر دونوں وزرائے اعظم کی ہونے والی ملاقات کے نہ صرف خلاف تھے بلکہ کنٹرول لائن پر کشیدگی پر اضافہ کر کے امن کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی بھرپور ''کوششیں'' کی گئیں جو کہ دونوں ممالک کے سربراہان اور سفارتی حکام کی مثبت کوششوں سے ناکامی سے دوچار ہوئیں۔ تلخ ماضی کو دفن کر کے آگے بڑھنے کا عمل جب تک دونوں ممالک اختیار نہیں کریں گے تو عوام کی حالتِ زار کبھی بہتر نہیں ہو سکتی۔ کنٹرول لائن پر گولہ باری، فائرنگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والا جانی و مالی نقصان دراصل کشیدگی کو ہوا دیتا ہے۔ یہ ایسی چنگاریاں ہیں جو بھڑک کر آگ کو ہوا دیتی ہے۔ آگ جو سب کچھ جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ دونوں ممالک کی فوج پر بجٹ کا کثیر سرمایہ خرچ ہونا عوام کی غربت کا اصل سبب ہے۔ اگر دشمنی کی سوچ ترک کر کے امن کی راہ پر چلنے کی خو اپنا لی جائے تو اس عمل سے باہمی نفرت کے خاتمے میں مدد ملے گی، بلاشبہ آنے والے دنوں میں فوجی حکام کی ملاقات امن کے عمل کو مہمیز دے گی۔
Load Next Story