طورخم افغان طالبان کا امریکی فوجی اڈے پر میزائلوں سے حملہ درجنوں گاڑیاں تباہ
سیکیورٹی معاہدے پردستخط نہ ہوئےتواپریل تک انخلاشروع کردینگے، نیٹو کمانڈر، استحکام کے انتظامات کیے جانے چاہئیں، پاکستان
طورخم: پاک افغان بارڈر کے قریب امریکی فوجی اڈے پر طالبان کے حملے کا نشانہ بننے والی نیٹو سامان لانے والی گاڑیوں میں آگ لگی ہوئی ہے۔ فوٹو: رائٹرز
پاک افغان سرحد طور خم کے قریب افغان طالبان نے امریکی فوجی اڈے پر میزائل فائر کیے جس کے نتیجے میں امریکی فوج کی درجنوں گاڑیاں تباہ ہوگئیں بعد ازاں طالبان کے خود کش بمباروں پر مشتمل ایک گروپ نے امریکی بیس کے قریب ہی نیٹو کے ایک کانوائے پر دھاوا بو دیا اور دستی بم پھینکے، راکٹ لانچر اور دیگر بھاری ہتھیار بھی استعمال کیے۔
ننگرہار صوبے کے ترجمان احمد ضیا عبدالزئی نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ 3 گھنٹوں کی لڑائی کے دوران ایک پولیس اہلکار ہلاک اور 5 زخمی ہوگئے، متعد گاڑیاں نذرآتش کردی گئیں، تمام حملہ آور جو فوجی وردیوں میں ملبوث تھے ہلاک کردیے گئے۔ افغان طالبان ذبیح اﷲ مجاہد کے مطابق جنگجوئوں کے حملے میں فوجی کیمپ پر 15میزائل فائر کیے جس سے کیمپ میں کھڑی 30 سے زائد فوجی گاڑیاں تباہ ہوگئیں، یہ جنگجو فوجی وردیوں میں ملبوس تھے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ حملہ نیٹوکے لیے جانے والے کانوائے پرکیا گیا، طورخم جلال آباد ہائی وے پرکافی دیر تک دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں گونجتی رہیں۔
پاکستان کی جانب سے امریکی ڈرون حملوں کے مخالف کارکنوں کی طرف سے زبردستی ٹرکوں کی تلاشی اور ڈرائیوروں کو دھمکیاں دینے کے بعد طورخم کے راستے اس وقت نیٹو سپلائی بند ہے۔ جرمنی کے شہر برلن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیٹو کمانڈر جنرل فلپ بریڈ لوو نے کہا ہے کہ اگر افغان صدر حامد کرزئی نے امریکا کیساتھ 2014ء کے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں کے حوالے سے سیکیورٹی معاہدے پردستخط نہ کیے توآئندہ سال اپریل تک فوجوں کا انخلا شروع کردیں گے۔ دریں اثنا نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بات کرتے ہوئے پاکستانی سفیر مسعود خان نے کہا 2014ء کے بعد افغانستان اور پڑوسی ممالک میں استحکام کے لیے انتظامات کیے جانے چاہئیں ۔
ننگرہار صوبے کے ترجمان احمد ضیا عبدالزئی نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ 3 گھنٹوں کی لڑائی کے دوران ایک پولیس اہلکار ہلاک اور 5 زخمی ہوگئے، متعد گاڑیاں نذرآتش کردی گئیں، تمام حملہ آور جو فوجی وردیوں میں ملبوث تھے ہلاک کردیے گئے۔ افغان طالبان ذبیح اﷲ مجاہد کے مطابق جنگجوئوں کے حملے میں فوجی کیمپ پر 15میزائل فائر کیے جس سے کیمپ میں کھڑی 30 سے زائد فوجی گاڑیاں تباہ ہوگئیں، یہ جنگجو فوجی وردیوں میں ملبوس تھے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ حملہ نیٹوکے لیے جانے والے کانوائے پرکیا گیا، طورخم جلال آباد ہائی وے پرکافی دیر تک دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں گونجتی رہیں۔
پاکستان کی جانب سے امریکی ڈرون حملوں کے مخالف کارکنوں کی طرف سے زبردستی ٹرکوں کی تلاشی اور ڈرائیوروں کو دھمکیاں دینے کے بعد طورخم کے راستے اس وقت نیٹو سپلائی بند ہے۔ جرمنی کے شہر برلن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیٹو کمانڈر جنرل فلپ بریڈ لوو نے کہا ہے کہ اگر افغان صدر حامد کرزئی نے امریکا کیساتھ 2014ء کے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں کے حوالے سے سیکیورٹی معاہدے پردستخط نہ کیے توآئندہ سال اپریل تک فوجوں کا انخلا شروع کردیں گے۔ دریں اثنا نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بات کرتے ہوئے پاکستانی سفیر مسعود خان نے کہا 2014ء کے بعد افغانستان اور پڑوسی ممالک میں استحکام کے لیے انتظامات کیے جانے چاہئیں ۔