بلدیاتی قانوناپوزیشن سے مذاکرات کیلیے تیار ہیںقائم علی شاہ
ترمیمی بل پراعتراضات ہیں توپیش کیے جائیں،کیڈٹ کالج پٹارو کی تقریب سے خطاب
پٹارو:وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کیڈٹ کالج پٹارومیں اسپورٹس کمپلیکس کا افتتاح کررہے ہیں۔فوٹو:اے پی پی
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات پر حزب اختلاف میں شامل جماعتوں سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، بہتر ہے کہ معاملات مذاکرت کے ذریعے ہی حل کیے جائیں۔
ہم نے ماضی میں بھی ایک دوسرے کی بات مانی ہے، اگر بلدیاتی ترمیمی بل میں کسی کو اعتراض ہے تو ڈائیلاگ کا راستہ موجود ہے، وہ اعتراضات پیش کریں، اگر صحیح ہوں گے تو تسلیم کریں گے۔ وہ کیڈٹ کالج پٹارو میں 52ویں یوم والدین کی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کررہے تھے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ بلدیاتی الیکشن کا قانون انسانوں کا بنایا ہوا ہے جس میں نقص ہو سکتے ہیں جن کو مذاکرت کے ذریعے ہی دور کیا جا سکتا ہے، جنھوں نے اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کرائی ہے، ماضی میں وہی دوست بلدیاتی الیکشن کرانے کے حوالے سے شور مچاتے تھے اور بار بار آئین کا آرٹیکل 140 اے یاد دلاتے رہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس وقت اس قانون پر کیوں اعتراض نہیں کیا جب یہ قانون پاس ہو رہا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ہم بلدیاتی الیکشن کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی پہلی ترجیح تعلیم ہے اور آئندہ تعلیم کے بجٹ میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے گا، کہیں کہیں کسی اسکول میں اساتذہ ڈیوٹی سے غیر حاضر ہوتے ہوں گے تاہم ماضی کے مقابلے میں صورت حال بہتر ہے، سندھ کے عوام نے انھیں 5 سال کا مینڈیٹ دیا ہے اور ان 5 سال میں ہر شخص کو تعلیم کی سہولت فراہم کریں گے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ نے کیڈٹ کالج پٹارو کے لیے2کروڑ روپے اورایک ایمبولینس دینے کا اعلان کیا۔ تقریب سے خطاب کے دوران کالج کے پرنسپل کموڈر محمد افضل ملک نے کالج کی سالانہ رپورٹ پیش کی اور حاضرین کو آگاہ کیا کالج کے طلبہ نے او لیول میں پہلے سال میں100 فیصد کامیابی حاصل کی ہے۔ تقریب میں طلبہ نے پاسنگ آئوٹ پریڈ کی، رنگا رنگ پی ٹی شو، کراٹے اور نیزے بازی کا مظاہرہ بھی کیا گیا جبکہ جمناسٹک کے کرتب دکھا کر حاضرین سے بھرپور داد وصول کی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے طلبہ میں ٹرافیاں اور انعامات تقسیم کیے۔
ہم نے ماضی میں بھی ایک دوسرے کی بات مانی ہے، اگر بلدیاتی ترمیمی بل میں کسی کو اعتراض ہے تو ڈائیلاگ کا راستہ موجود ہے، وہ اعتراضات پیش کریں، اگر صحیح ہوں گے تو تسلیم کریں گے۔ وہ کیڈٹ کالج پٹارو میں 52ویں یوم والدین کی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کررہے تھے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ بلدیاتی الیکشن کا قانون انسانوں کا بنایا ہوا ہے جس میں نقص ہو سکتے ہیں جن کو مذاکرت کے ذریعے ہی دور کیا جا سکتا ہے، جنھوں نے اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کرائی ہے، ماضی میں وہی دوست بلدیاتی الیکشن کرانے کے حوالے سے شور مچاتے تھے اور بار بار آئین کا آرٹیکل 140 اے یاد دلاتے رہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس وقت اس قانون پر کیوں اعتراض نہیں کیا جب یہ قانون پاس ہو رہا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ہم بلدیاتی الیکشن کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی پہلی ترجیح تعلیم ہے اور آئندہ تعلیم کے بجٹ میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے گا، کہیں کہیں کسی اسکول میں اساتذہ ڈیوٹی سے غیر حاضر ہوتے ہوں گے تاہم ماضی کے مقابلے میں صورت حال بہتر ہے، سندھ کے عوام نے انھیں 5 سال کا مینڈیٹ دیا ہے اور ان 5 سال میں ہر شخص کو تعلیم کی سہولت فراہم کریں گے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ نے کیڈٹ کالج پٹارو کے لیے2کروڑ روپے اورایک ایمبولینس دینے کا اعلان کیا۔ تقریب سے خطاب کے دوران کالج کے پرنسپل کموڈر محمد افضل ملک نے کالج کی سالانہ رپورٹ پیش کی اور حاضرین کو آگاہ کیا کالج کے طلبہ نے او لیول میں پہلے سال میں100 فیصد کامیابی حاصل کی ہے۔ تقریب میں طلبہ نے پاسنگ آئوٹ پریڈ کی، رنگا رنگ پی ٹی شو، کراٹے اور نیزے بازی کا مظاہرہ بھی کیا گیا جبکہ جمناسٹک کے کرتب دکھا کر حاضرین سے بھرپور داد وصول کی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے طلبہ میں ٹرافیاں اور انعامات تقسیم کیے۔