انگلینڈ کے سینئر پلیئرز کا مستقبل خطرے میں پڑگیا
سب سے پہلے نزلہ میٹ پرائر پر گرنے کا امکان ،کوچ کو اپنی سیٹ کی فکرہوگئی
کوچ اینڈی فلاور بھی اس سیریز کے بعد اپنے مستقبل پرکچھ کہنے کو تیار نہیں ہیں۔ فوٹو:فائل
آسٹریلیا کے ہاتھوں ایشز سیریز میں شکست پر ٹاپ انگلش پلیئرز کا مستقبل خطرے میں پڑگیا۔
ناکامی کا خراج سائیڈ سے اخراج کی صورت میں ادا کرنا پڑسکتا ہے، سب سے پہلے نزلہ میٹ پرائر پر گرنے کا امکان روشن ہوگیا، کیون پیٹرسن، گریم سوان اور جیمز اینڈرسن کا بھی نمبر آسکتا ہے، کوچ اینڈی فلاور کو اپنی سیٹ کی فکر پڑگئی، کپتان الیسٹرکک نے خبردار کیاکہ دوران سیریز کسی بھی فیصلے کے منفی اثرات برآمد ہوسکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا سے مسلسل تین ٹیسٹ ہار کر انگلش ٹیم ایشزٹرافی گنوا چکی مگر ابھی اس کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں کیونکہ میلبورن اور سڈنی میں 2 ٹیسٹ مزید کھیلے جانے ہیں، ناقص کھیل کی وجہ سے سینئر پلیئرز کا مستقبل خطرے میں پڑچکا، ان میں میٹ پرائر، کیون پیٹرسن، گریم سوان اور جیمز اینڈرسن شامل ہیں،کوچ اینڈی فلاور بھی اس سیریز کے بعد اپنے مستقبل پرکچھ کہنے کو تیار نہیں ہیں۔
الیسٹرکک نے کہا کہ ابھی سیریز جاری ہے اس لیے جلد بازی میں کوئی بھی فیصلہ مناسب نہیں ہوگا، درست وقت پر موزوں فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلا شکار وکٹ کیپر میٹ پرائر کے بننے کا امکان ہے جنھوں نے اب تک 17.83 کی معمولی اوسط سے 107 رنز بنائے،تیسرے ٹیسٹ میں انھوں نے2 اسٹمپنگ اور ایک کیچ کا موقع بھی ضائع کیا۔ جب اینڈی فلاور سے پوچھا گیا کہ کیا چوتھے ٹیسٹ میں میٹ پرائر کو باہر بٹھا کر جونی بیئر اسٹو کو آزمایا جاسکتا ہے تو انھوں نے کہاکہ یہ ممکن ہے، میٹ پرائر اپنے کیریئر کے دوسرے حصے میں انگلینڈ کیلیے کافی کارآمد ثابت ہوئے مگر ہمیں تمام تر صورتحال کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرنا ہوگا، ہم ایک آنکھ مستقبل پر بھی رکھتے ہیں، کھلاڑیوںکے کیریئر میں بعض اوقات مشکل وقت آتے رہتے ہیں لیکن کسی بھی میچ یا سیریز سے ڈراپ کرنے کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ اس کا کیریئر ختم ہوگیا بلکہ وہ محنت سے دوبارہ کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتے ہیں۔
ناکامی کا خراج سائیڈ سے اخراج کی صورت میں ادا کرنا پڑسکتا ہے، سب سے پہلے نزلہ میٹ پرائر پر گرنے کا امکان روشن ہوگیا، کیون پیٹرسن، گریم سوان اور جیمز اینڈرسن کا بھی نمبر آسکتا ہے، کوچ اینڈی فلاور کو اپنی سیٹ کی فکر پڑگئی، کپتان الیسٹرکک نے خبردار کیاکہ دوران سیریز کسی بھی فیصلے کے منفی اثرات برآمد ہوسکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا سے مسلسل تین ٹیسٹ ہار کر انگلش ٹیم ایشزٹرافی گنوا چکی مگر ابھی اس کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں کیونکہ میلبورن اور سڈنی میں 2 ٹیسٹ مزید کھیلے جانے ہیں، ناقص کھیل کی وجہ سے سینئر پلیئرز کا مستقبل خطرے میں پڑچکا، ان میں میٹ پرائر، کیون پیٹرسن، گریم سوان اور جیمز اینڈرسن شامل ہیں،کوچ اینڈی فلاور بھی اس سیریز کے بعد اپنے مستقبل پرکچھ کہنے کو تیار نہیں ہیں۔
الیسٹرکک نے کہا کہ ابھی سیریز جاری ہے اس لیے جلد بازی میں کوئی بھی فیصلہ مناسب نہیں ہوگا، درست وقت پر موزوں فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلا شکار وکٹ کیپر میٹ پرائر کے بننے کا امکان ہے جنھوں نے اب تک 17.83 کی معمولی اوسط سے 107 رنز بنائے،تیسرے ٹیسٹ میں انھوں نے2 اسٹمپنگ اور ایک کیچ کا موقع بھی ضائع کیا۔ جب اینڈی فلاور سے پوچھا گیا کہ کیا چوتھے ٹیسٹ میں میٹ پرائر کو باہر بٹھا کر جونی بیئر اسٹو کو آزمایا جاسکتا ہے تو انھوں نے کہاکہ یہ ممکن ہے، میٹ پرائر اپنے کیریئر کے دوسرے حصے میں انگلینڈ کیلیے کافی کارآمد ثابت ہوئے مگر ہمیں تمام تر صورتحال کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرنا ہوگا، ہم ایک آنکھ مستقبل پر بھی رکھتے ہیں، کھلاڑیوںکے کیریئر میں بعض اوقات مشکل وقت آتے رہتے ہیں لیکن کسی بھی میچ یا سیریز سے ڈراپ کرنے کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ اس کا کیریئر ختم ہوگیا بلکہ وہ محنت سے دوبارہ کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتے ہیں۔