پنجاب کے پی کے درآمدی گندم کے اخراجات برداشت کرنے پر رضامند
دونوں صوبوں کی گندم کی امدادی قیمت خرید 1700 روپے من، بلوچستان کی 1800 کرنے کی تجویز، سندھ نے آگاہ نہیں کیا
زیادہ قیمتوں کا جواز بنا کر درآمد میں تاخیر نہ کی جائے، وزیر اعظم، روس سے معاہدے کے بعد نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے مزید گندم کیلیے رابطے تیز ل۔ فوٹو : فائل
وفاقی وزارت خزانہ کی جانب سے سبسڈی کی شراکت داری سے انکار کے بعد پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے عوام کے غذائی تحفظ کیلیے گندم کی درآمد پر آنے والے 100 فیصد اخراجات خود برداشت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
پنجاب گزشتہ دو ماہ سے مطالبہ کر رہا تھا کہ وفاقی حکومت درآمد کی جانے والی گندم 1400 روپے قیمت پر اسے فراہم کرے یا پھر نصف سبسڈی کی شراکت داری کرے۔ تاہم وفاقی وزارت خزانہ نے ایسا کرنے سے صاف انکار کردیا تھا۔ خیبر پختونخوا حکومت نے وفاق کو تحریری طورپر آگاہ کردیا کہ وہ تمام اخراجات خود برداشت کر کے ساڑھے چار لاکھ ٹن گندم لینے کو تیار ہے جس کے بعد پنجاب بھی سو فیصد اخراجات خود برداشت کرنے پر رضامندہو گیا ہے۔
علاوہ ازیں پنجاب اور خیبر پختونخوا نے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کو گندم کی آئندہ فصل کیلئے امدادی قیمت خرید بڑھا کر 1700روپے جبکہ بلوچستان نے1800روپے فی من مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔وفاقی حکومت کے ماتحت ادارہ نے 1650 روپے فی من کا تخمینہ لگایاہے۔سندھ حکومت نے تا حال کسی تجویز سے آگاہ نہیں کیا۔ صوبوں کی فلورملز کو سرکاری گندم کی قیمت فروخت میں اضافہ کی سفارشات بھی چند روز میں وفاق کو مہیا کر دی جائیں گی۔
مزید برآں گندم کی روس سے کراچی بندرگاہ آمد اور دوسرے صوبوں میں ترسیل کا ٹھیکہ لینے کیلئے وزارت ریلوے اور وزارت جہاز رانی نے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اور وزارت تجارت پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا ہے۔
پنجاب گزشتہ دو ماہ سے مطالبہ کر رہا تھا کہ وفاقی حکومت درآمد کی جانے والی گندم 1400 روپے قیمت پر اسے فراہم کرے یا پھر نصف سبسڈی کی شراکت داری کرے۔ تاہم وفاقی وزارت خزانہ نے ایسا کرنے سے صاف انکار کردیا تھا۔ خیبر پختونخوا حکومت نے وفاق کو تحریری طورپر آگاہ کردیا کہ وہ تمام اخراجات خود برداشت کر کے ساڑھے چار لاکھ ٹن گندم لینے کو تیار ہے جس کے بعد پنجاب بھی سو فیصد اخراجات خود برداشت کرنے پر رضامندہو گیا ہے۔
علاوہ ازیں پنجاب اور خیبر پختونخوا نے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کو گندم کی آئندہ فصل کیلئے امدادی قیمت خرید بڑھا کر 1700روپے جبکہ بلوچستان نے1800روپے فی من مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔وفاقی حکومت کے ماتحت ادارہ نے 1650 روپے فی من کا تخمینہ لگایاہے۔سندھ حکومت نے تا حال کسی تجویز سے آگاہ نہیں کیا۔ صوبوں کی فلورملز کو سرکاری گندم کی قیمت فروخت میں اضافہ کی سفارشات بھی چند روز میں وفاق کو مہیا کر دی جائیں گی۔
مزید برآں گندم کی روس سے کراچی بندرگاہ آمد اور دوسرے صوبوں میں ترسیل کا ٹھیکہ لینے کیلئے وزارت ریلوے اور وزارت جہاز رانی نے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اور وزارت تجارت پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا ہے۔