پاکستان نے کنڑ پر 38راکٹ داغے افغان الزام
آئی ایس آئی کے اہلکار کامدیش میں حملوں کیلیے جنگجوئوںسے رابطے میں ہیں ، افغان جنرل
آئی ایس آئی کے اہلکار کامدیش میں حملوں کیلیے جنگجوئوںسے رابطے میں ہیں ، افغان جنرل,فوٹو : فائل
KARACHI:
افغانستان کے اعلی حکام نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان کی طرف سے گزشتہ رات صوبہ کنڑ پر 38 راکٹ مارے گئے ۔
افغان میڈیا کے مطابق شامشاد202 کمانڈنٹ کے پریس آفس نے بتایا کہ یہ راکٹ صوبہ کنڑ کے ضلع دانگام پر مارے گئے ۔ تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔ دریں اثناء افغانستان نے پاکستان اور اس کے انٹیلیجنس اداروں پر روایتی الزام تراشی کو نیارخ دیتے ہوئے شوشہ چھوڑا ہے کہ صوبہ نورستان میں افغان حکومت کے مخالف مسلح جنگجوؤں کے ہمراہ آئی ایس آئی کے افسران بھی دراندازی کر رہے ہیں جبکہ آئی ایس آئی کے اہلکار ضلع کامدیش میں حکومت کے زیرکنٹرول علاقوں میں مربوط حملوں کیلئے عسکریت پسندوں سے بات چیت کر رہے ہیں ۔
ایک افغان اخبارکو انٹرویومیں صوبہ نورستان کے سکیورٹی چیف جنرل غلام اللہ نے کہا کہ تقریباً 50 پاکستانی انٹیلی جنس افسران کامدیش اور بارگاہ ماتل کے اضلاع میں داخل ہوئے ہیں جو بھاری اور ہلکے ہتھیاروں سے لیس ہیں ۔
افغانستان کے اعلی حکام نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان کی طرف سے گزشتہ رات صوبہ کنڑ پر 38 راکٹ مارے گئے ۔
افغان میڈیا کے مطابق شامشاد202 کمانڈنٹ کے پریس آفس نے بتایا کہ یہ راکٹ صوبہ کنڑ کے ضلع دانگام پر مارے گئے ۔ تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔ دریں اثناء افغانستان نے پاکستان اور اس کے انٹیلیجنس اداروں پر روایتی الزام تراشی کو نیارخ دیتے ہوئے شوشہ چھوڑا ہے کہ صوبہ نورستان میں افغان حکومت کے مخالف مسلح جنگجوؤں کے ہمراہ آئی ایس آئی کے افسران بھی دراندازی کر رہے ہیں جبکہ آئی ایس آئی کے اہلکار ضلع کامدیش میں حکومت کے زیرکنٹرول علاقوں میں مربوط حملوں کیلئے عسکریت پسندوں سے بات چیت کر رہے ہیں ۔
ایک افغان اخبارکو انٹرویومیں صوبہ نورستان کے سکیورٹی چیف جنرل غلام اللہ نے کہا کہ تقریباً 50 پاکستانی انٹیلی جنس افسران کامدیش اور بارگاہ ماتل کے اضلاع میں داخل ہوئے ہیں جو بھاری اور ہلکے ہتھیاروں سے لیس ہیں ۔