گلے کے امرا ض میں مبتلا افراد کی شرح میں اضافہ ہوگیا ماہرین طب

سارک ممالک میں سردمہری کے باوجودطبی ماہرین بیماریوں سے لڑنے کیلیے پرعزم ہیں،8ویں ای این ٹی کانگریس میں ماہرین کی گفتگو

پاکستان میں جونیئر ڈاکٹروں کو تربیت کی اشدضرورت ہے، ڈاکٹر بیمل، ای این ٹی سرجنز کی ملک میں شدید کمی ہے، پروفیسر طارق رفیع فوٹو: فائل

سارک ممالک کے درمیان جاری سیاسی سرد مہری کے باوجود ماہرین طب خطے میں بیماریوں سے لڑنے کا عزم رکھتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار آٹھویں ای این ٹی سارک کانگریس میں شرکت کے لیے آنے والے ماہرین طب نے گفتگو میں کیا،ماہرین صحت کا کہنا تھا کہ حکومتی سطح پر ماہرین طب میں رابطے ضروری ہیں تاکہ سارک ممالک کے عوام کو جدید علاج کی سہولتیں فراہم کی جاسکیں اس موقع پر چیئرمین کانگریس پروفیسر طارق رفیع، پروفیسر محمد عثمان ، پروفیسر عمر فاروق، ڈاکٹر قیصر سجاد بھی موجود تھے، بنگلہ دیشی ای این ٹی سرجن پروفیسر ذاکر الرحمن نے بتایا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اس وقت تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں جن میں جلد بہتری کی توقع ہے لیکن ماہرین طب اپنی پیشہ وارانہ ذمے داریوں سے غافل نہیں میں یہی جذبہ لیکر پاکستان آیا ہوں، بھارت کے ڈاکٹر روی رام لنگم کا کہنا تھا کہ جب ہم بھارت میں ہوتے ہیں تو میڈیا پاکستان کا مختلف عکس پیش کرتا ہے لیکن پاکستان آکر احساس ہوا کہ یہاں بہت پرخلوص اور محبت کرنے والے لوگ بستے ہیں۔




نیپال کے معروف این این ٹی سرجن اور سارک ایسوسی ایشن کے موجودہ صدر پروفیسر ڈاکٹر بیمل کمار سنہیا نے کہا کہ سارک ممالک کے ماہرین طب میں رابطے ہونے چاہئیں، پاکستان میں جونیئر ڈاکٹروں کو تربیت کی اشد ضرورت ہے اگر یہ تربیت علاقائی ممالک کی بیماریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دی جائے تو اس کے نتائج کار آمد ہوں گے، نیپال میں طب کی اعلیٰ تعلیم وتربیت میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے، کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کی ایک برانچ نیپال میں قائم ہے جہاں نیپال کے ڈاکٹروں کو اعلیٰ تعلیم وتربیت دی جارہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ نیپال میں گلے کے امراض کی شرح بہت کم ہے لیکن پاکستان میں ان بیماریوں کی شرح ہولناک ہے اس موقع پر پروفیسر طارق رفیع نے بتایا کہ پاکستان میں گٹکا، مین پوری، پان اور چھالیہ کے بے دریغ استعمال سے منہ اور گلے کے کینسر کی شرح میں 40 فیصد اضافہ ہوگیا ہے ملکی آبادی بڑھ رہی ہے لیکن ای این ٹی سرجنز کی شدید کمی ہے۔
Load Next Story