امریکی وزیر خارجہ کی چین پر تنقید
اب امریکا کو چینی حکمت عملی سے اپنے لیے خطرہ کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔
اب امریکا کو چینی حکمت عملی سے اپنے لیے خطرہ کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔ فوٹو : فائل
امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ یعنی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے امریکا کے ایشیائی اتحادی ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ چین کی طرف سے کیے جانے والے استحصال اور بدعنوانی کے مقابلے کے لیے مشترکہ طور پر جدوجہد کریں اور مل جل کر اس کا مقابلہ کیا جائے۔
پومپیو نے اس خیال کا اظہار بیجنگ کے طرز عمل میں مزید سختی محسوس ہونے پر کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اب امریکا کو چینی حکمت عملی سے اپنے لیے خطرہ کا احساس پیدا ہو رہا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے چوٹی کے اہلکار نے یوں برسرعام چین کو چیلنج کرنے کی زبان استعمال کی ہے اور اس کے لیے اپنے ایشیائی حامی ممالک کی بھی مدد طلب کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے چین پر کورونا کا خطرناک وائرس پھیلانے کا الزام بھی لگایا جو چین کے شہر ووہان سے شروع ہوا تھا۔
امریکی الزام میں یہ بھی کہنا ہے کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی نے اس وائرس کے پھیلانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ دوسری طرف عالمی سائنسدان اس وجہ سے حیران ہوئے پھرتے ہیں کہ اول تو ان کو کورونا وائرس کے سانچے اور ہیت کی سمجھ نہیں آ رہی اور یہ تک پتہ نہیں چل سکا کہ اس کا سر کدھر اور پاؤں کدھر ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ مذکورہ وائرس اپنی شکل اور ہیت تبدیل بھی کرتا رہتا ہے۔
امریکا کے لیے یہ زیادہ پریشانی کی بات اس وجہ سے بھی ہے کہ اس کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور موصوف کے کئی معاونین اس مہلک وائرس کا شکار بن گئے اگرچہ اب وہ اپنے دعوے کے مطابق اس کے اثرات سے باہر نکل آئے ہیں لیکن کہنے والے اسے بھی امریکیوں کی کارروائیوں کا ایک نمونہ ہی خیال کر رہے ہیں۔
اگرچہ صدر ٹرمپ کے ایشیائی ملکوں کے دورے میں سے جنوبی کوریا اور منگولیا کے دورے کو خارج کر دیا گیا ہے تاکہ صدر ٹرمپ کا دورہ ہر قسم کے خطرے سے محفوظ رہ سکے کیونکہ ان علاقوں میں وائرس کا زیادہ خطرہ ہے ۔
پومپیو نے اس خیال کا اظہار بیجنگ کے طرز عمل میں مزید سختی محسوس ہونے پر کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اب امریکا کو چینی حکمت عملی سے اپنے لیے خطرہ کا احساس پیدا ہو رہا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے چوٹی کے اہلکار نے یوں برسرعام چین کو چیلنج کرنے کی زبان استعمال کی ہے اور اس کے لیے اپنے ایشیائی حامی ممالک کی بھی مدد طلب کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے چین پر کورونا کا خطرناک وائرس پھیلانے کا الزام بھی لگایا جو چین کے شہر ووہان سے شروع ہوا تھا۔
امریکی الزام میں یہ بھی کہنا ہے کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی نے اس وائرس کے پھیلانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ دوسری طرف عالمی سائنسدان اس وجہ سے حیران ہوئے پھرتے ہیں کہ اول تو ان کو کورونا وائرس کے سانچے اور ہیت کی سمجھ نہیں آ رہی اور یہ تک پتہ نہیں چل سکا کہ اس کا سر کدھر اور پاؤں کدھر ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ مذکورہ وائرس اپنی شکل اور ہیت تبدیل بھی کرتا رہتا ہے۔
امریکا کے لیے یہ زیادہ پریشانی کی بات اس وجہ سے بھی ہے کہ اس کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور موصوف کے کئی معاونین اس مہلک وائرس کا شکار بن گئے اگرچہ اب وہ اپنے دعوے کے مطابق اس کے اثرات سے باہر نکل آئے ہیں لیکن کہنے والے اسے بھی امریکیوں کی کارروائیوں کا ایک نمونہ ہی خیال کر رہے ہیں۔
اگرچہ صدر ٹرمپ کے ایشیائی ملکوں کے دورے میں سے جنوبی کوریا اور منگولیا کے دورے کو خارج کر دیا گیا ہے تاکہ صدر ٹرمپ کا دورہ ہر قسم کے خطرے سے محفوظ رہ سکے کیونکہ ان علاقوں میں وائرس کا زیادہ خطرہ ہے ۔