پاکستانی چاول اور آلو پر روسی پابندی جنوری میں ختم ہونے کا امکان

پھلوں سے پابندی اٹھنے کے بعد 9 دسمبر سے کینو کی روس کو برآمدات شروع، اب تک 27 لاکھ 82 ہزار ڈالر کی برآمدات ہو چکی ہے

روس کو تقریباً 1کروڑ 20 لاکھ ڈالر مالیت کا چاول اور 150 کروڑ ڈالر مالیت کا آلو برآمد کیا جا سکتا ہے،فوڈ ایکسپورٹرز۔ فوٹو: فائل

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹر،امپورٹرز اینڈمرچنٹس ایسوسی ایشن کے ترجمان اور شریک چیئرمین عبدالواحد نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے پاکستانی چاول اور آلو پر عائد پابندی بھی جنوری 2014تک ختم کیے جانے کے امکانات ہیں۔

روس کو اب تک 27لاکھ82 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کے کینو برآمد کیے گئے ہیں، مجموعی طور پر پاکستان سے اب تک 50لاکھ ڈالر مالیت کاکینو برآمد کیا جاچکا ہے۔ عبدالواحد کے مطابق جنوری 2014 کے اختتام سے قبل روس کی جانب سے پاکستانی چاول اور آلو کی درآمدات پرعائد پابندی ختم ہونے کے بھرپور امکانات ہیں جس کے بعد روس کو تقریباً 1کروڑ 20 لاکھ ڈالر مالیت کا چاول اور 150 کروڑ ڈالر مالیت کا آلو برآمد کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزارت نیشنل فوڈ اینڈ سیکیورٹی جلد از جلد حکومتی سطح پر روسی قرنطینہ وفدکو پاکستان آنے کادعوت نامہ ارسال کرے تاکہ روسی وفد 15 جنوری 2014 تک پاکستانی زرعی سیکٹر بشمول چاول اور آلو پر عائدپابندی کو بھی ختم کر دے۔ انہوںنے بتایا کہ روس کی جانب سے پاکستانی پھلوں کی درآمد پر عائد پابندی اٹھانے کا فیصلہ ہوتے ہی 9 دسمبر سے پاکستانی کینو کی برآمدات شروع ہوچکی ہے، کینو کی برآمدات میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالمالک کی سربراہی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔




انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے رواں سیزن کے دوران کینو کی برآمد کا ہدف 3لاکھ ٹن مقرر کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں 18کروڑ ڈالر کے زرمبادلہ کے حصول کی توقع ہے جبکہ پاکستان سے روس کو کینو کی برآمدات 82ہزار ٹن کے لگ بھگ رہنے کی امید ہے جس سے 5کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہو گا۔ عبدالواحد نے کہا کہ روس پاکستانی زرعی سیکٹر خاص طور پر آلو اور کینو کی اہم ترین مارکیٹ ہے جس کو دیگرممالک حاصل کرنے کے لیے سرگرم عمل رہتے ہیں لہٰذاحکومت کو چاہیے کہ پاکستانی زرعی سیکٹرز کے برآمدکنندگان کو جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی سمیت بھرپورتعاون فراہم کرے تاکہ ملک کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوسکے۔ عبدالواحد نے بتایا کہ ایرانی مارکیٹ بند رہنے کی صورت میں پاکستان کو زرمبادلہ کی مد میں 4 کروڑ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، وزیراعظم اور وفاقی وزیر خزانہ کو چاہیے کہ وہ ایران، روس، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک سے قائم سفارتی و تجارتی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ملکی برآمدی سرگرمیوں کوفروغ دینے کے اقدامات کریں۔
Load Next Story