کیمسٹری کا نوبل انعام دو خواتین نے جیت لیا

ان دونوں خواتین میں سے ایک کا تعلق فرانس سے اور دوسری کا امریکا سے ہے۔

ان دونوں خواتین میں سے ایک کا تعلق فرانس سے اور دوسری کا امریکا سے ہے۔ فوٹو: فائل

دو خواتین سائنس دانوں کو کیمسٹری کے میدان میں نئی اختراع کرنے پر 2020ء کا سائنس کا نوبل انعام مرحمت کر دیا گیا ہے جس کے بعد اس مضمون میں ترقی کی نئی راہیں کھلنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ان دونوں خواتین میں سے ایک کا تعلق فرانس سے اور دوسری کا امریکا سے ہے۔ ممکن ہے ہم کہیں اندھا بانٹے ریوڑیاں مڑ مڑ اپنوں کو کے مصداق امریکا اور یورپی ممالک اپنوں ہی کو نوازتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم نہ تین میں ہیں نہ تیرہ میں ہیں۔

ہماری سرکاری پالیسی پر ایک طائرانہ نظر ڈالیے آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ ہماری سرکار کا زیادہ دھیان تعلیم و ٹیکنالوجی کے بجائے اپوزیشن جماعتوں کی راہوں میں روڑے اٹکانے پر ہے۔ کیمسٹری میں نوبل انعام جیتنے والی دونوں خواتین کو دس لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم انعام میں دی جائے گی۔

ایما نویلہ کارپینٹر فرانسیسی خاتون ہے اور جینیفر ڈوڈنا امریکن ہے جنھیں 10ملین یا ایک کروڑ سویڈش کراؤن کی رقم ملے گی۔ کیمسٹری میں اس نئی تحقیق سے جانوروں اور پودوں کے ڈی این اے کے زیادہ بہتر مطالعے کا موقع ملے گا جو سائنس کی بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔


ڈی این اے کا تجزیہ کرنے سے حیاتیاتی سائنس میں انقلابی پیشرفت کے امکانات پیدا ہونگے۔ یہ تبصرہ سویڈن کی اکیڈمی آف سائنس کی طرف سے کیا گیا ہے۔ کارپینٹر کی عمر51 سال ہے جب کہ ڈوڈنا 56 سال کی ہے۔ ان دونوں کا کیمسٹری کے مضمون میں نوبل انعام جیتنے کا نمبر چھٹا اور ساتواں ہے۔ سائنسی مبصرین کے مطابق 1964ء کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے جب برطانوی شہری ڈورتھی کرافٹ نے کیمسٹری کا نوبل انعام تن تنہا ہی جیتا تھا۔

کارپینٹر جس کا تعلق میکس پلانک یونٹ سے ہے وہ اپنی کامیابی پر بہت زیادہ خوش ہے کیونکہ نوبل انعام جیتنا اس کا اولین خواب تھا البتہ انعام حاصل کرنا اس کے لیے زیادہ خوش گوار اور جذباتی لمحہ ہوگا۔ دو خواتین کی طرف سے کیمسٹری کا نوبل انعام جیتنے سے یہ مضمون مزید ماڈرن ہو جائے گا اور توقع کی جاتی ہے کہ اس میدان میں مزید خواتین بھی قسمت آزمائی کریں گی۔

1918ء میں فزکس کا نوبل انعام بھی خواتین سائنس دانوں نے جیتا تھا۔ اس خبر سے ہم بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ مغربی ممالک میں صرف رسمی تعلیم نہیں دی جاتی بلکہ مضامین میں شاندار روایات پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے حتیٰ کہ آپ نوبل انعام تک پہنچ جاتے ہیں۔
Load Next Story