غربت کے خاتمہ کی یقین دہانی
مستقبل قریب میں شرح نمو میں کمی کے پیش نظر غربت کی صورتحال مزید خراب ہونے کی توقع ہے، رپورٹ
مستقبل قریب میں شرح نمو میں کمی کے پیش نظر غربت کی صورتحال مزید خراب ہونے کی توقع ہے، رپورٹ۔ فوٹو: فائل
کورونا نے چین کے شہر ووہان میں جب سر اٹھایا تو جنوری 2020ء کی ابتدائی تاریخ تھی، کسی کو توقع نہ تھی کہ چمگادڑ سے پیدا ہونے والا یہ بے نام سا جرثومہ عالمی عفریت بن کر دنیا کی معیشت اور انسانی صحت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہوگا اور آج کورونا کی دوسری لہر کے خطرہ سے دوچار دنیا کو بتایا جا رہا ہے کہ اس وائرس کے معاشی اثرات و مضمرات آیندہ دو سال تک غربت و افلاس کی وسعت میں اضافہ کر دیں گے، یعنی اچھے دنوں کا اہل وطن کو انتظار ہی رہے گا۔
یہ پیشگوئی عالمی بینک نے جنوبی ایشیا میں بدترین کساد بازاری کے تناظر اور کووڈ 19 کے منفی اثرات کی وجہ سے سست اور غیر یقینی معاشی بحالی کے ساتھ ساتھ کی ہے ، عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں پاکستان میں غربت میں اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔
ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کی جنوبی ایشیائی اکنامک فوکس رپورٹ، جو سال میں دو مرتبہ شایع ہوتی ہے، کے تازہ شمارے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اقتصادی شرح نمو مالی سال 2021 میں کم ہونے کی توقع ہے اور 0.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جب کہ اس سے قبل مالی سال 2019 تک تین سال کے دوران سالانہ اوسط 4 فیصد رہی۔ رپورٹ کے مطابق اقتصادی نمو توقع سے کم یعنی مالی سال 2021 اور 2022 میں اوسطاً 1.3 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
اس میں کہا گیا کہ یہ اندازہ انتہائی غیر یقینی ہے اور اس کی پیش گوئی انفیکشن میں اضافہ نہ ہونے یا وائرس کی مزید لہروں کے نہ آنے کے حساب سے کی گئی ہے کیوں کہ دوسری صورت میں مزید وسیع پیمانے پر لاک ڈاؤن کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سندھ میں مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن مختلف شہری علاقوں میں نافذ ہے، میڈیا نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ پنجاب کے 36 اضلاع میں کورونا مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے، طبی ذرایع کے مطابق حکومتی ایس او پیز اور سماجی فاصلہ کی پابندیوں کو نظر انداز کیا گیا اور اجتماع لگانے، بھیڑ اور رش سے گریز میں بے احتیاطی برتی گئی تو کورونا کے پھیلاؤ کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا، عالمی ادارہ صحت نے اگرچہ دوسری لہر کو نسبتاً کم تباہ کن اور اس کی ہلاکت خیزی کو کم ہولناک کہا ہے تاہم عالمی سطح پر عوام کو آگاہی مہم کے ذریعے وائرس کے دوبارہ حملہ سے بچاؤ کی ہر ممکن تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ۔
اس رپورٹ کے اجرا سے قبل ایشیا کے خطے کے لیے عالمی بینک کے نائب صدر ہارٹویگ شیفر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کووڈ-19کے دوران جنوبی ایشیائی معیشتیں توقع سے زیادہ تباہی سے دوچار ہوئیں بالخصوص چھوٹے کاروبار اور غیر رسمی کام کرنے والوں کے لیے یہ صورتحال بدترین ثابت ہوئی جو اچانک اپنی ملازمت اور اجرت سے محروم ہو گئے، بینک نے تکنیکی وجوہات کی بنا پر پاکستان کی غربت کے اعداد شایع نہیں کیے لیکن خطے کے دوسرے ممالک کی طرح غربت میں اضافے کی شرح بلند ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وبائی مرض پر قابو پانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے پاکستان کی معیشت شدید متاثر ہوئی، اقتصادی سرگرمیاں سکڑ گئیں اور غربت میںمزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ رواں برس کے آغاز میں مالیاتی اور مالی پالیسیوں میں سختی کی گئی اور اس کے بعد لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ترقی کی نمو بتدریج بڑھے گی لیکن دوسری جانب غیر یقینی صورتحال اور طلب کے دباؤ کے لیے کیے گئے اقدامات کی بحالی کی وجہ سے یہ کم رہنے کا امکان ہے۔
اس منظر نامے میں انفیکشن کے ممکنہ طور پر دوبارہ پھیلاؤ، ٹڈی دل کی وجہ سے فصلوں کو وسیع پیمانے پر پہنچنے والے نقصان اور مون سون بارشوں نے مزید خطرات کا اضافہ کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق معقول سود کی ادائیگی، بڑھتی ہوئی تنخواہ، پنشن بل اور توانائی کے شعبے میں حکومت کے ذریعے سرکاری کاروباری اداروں کے 'گارنٹی والے قرض' کی وجہ سے اخراجات کافی حد تک برقرار رہیں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مستقبل قریب میں شرح نمو میں کمی کے پیش نظر غربت کی صورتحال مزید خراب ہونے کی توقع ہے، رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمزور طبقے میں خدمات کے شعبے میں ملازمتوں پر بہت زیادہ انحصار کیا جاتا ہے اور سروسز کی کمزور شرح نمو ممکنہ طور پر وبا کی وجہ سے بے انتہا غربت میں کمی کے سلسلے میں غیر موثر ثابت ہو گی۔
اس میں کہا گیا ہے کہ معاشی منظر نامے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ممکنہ طور پر وائرس کی دوسری لہر کی وجہ سے انفیکشن کا پھیلاؤ ہے جس کی وجہ سے مقامی سطح پر نیا لاک ڈاؤن نافذ کیا جا سکتا ہے اور ڈھانچے میں اصلاحات پر عملدرآمد التوا کا شکار ہو جائے گا۔حکومت کو امیر ملکوں سے معاونت اور مالی امداد ملنے کی فوری توقعات نہیں رکھنی چاہئیں، کیونکہ امیر ملکوں کی معیشتیں خود گرداب میں پھنسی ہوئی ہیں۔
ان کے ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اقتصادی بحالی بہتر معاشی اقدامات اور کاروبار و تجارت میں تیزی کی صورت میں کچھ عوامی خوشحالی کے امکانات پیدا بھی ہوئے تو وہ 2021 کے بعد ہی نظر آئیں گے اور پھر معمولات معیشت کی بحالی شروع ہوسکتی ہے، ایسی صورت میں پاکستان کے اقتصادی ماہرین اور ہمارے معاشی مینیجرز کو بنیادی معاشی اقدامات منظم طریقے سے کرنا چاہئیں، حکومت کورونا سے متاثرہ زندگی کے ان کمزور شعبوں پر خصوصی توجہ دے جنھیں کورونا وائرس نے زبردست ہٹ کیا اور لوگوں کے لیے دو وقت کی روٹی حاصل کرنا مشکل ہوگیا۔
شہری مہنگائی اور بیروزگاری سے تنگ آگئے ، انھیں جمہوری ثمرات نہیں ملے، اگر زندگی آسودگی کی جانب دوڑتی ہوئی نظر آئیگی تب ہی عوام تبدیلی کا یقین کر لیں گے، لیکن اس منظر نامہ کو ابھارنے کے لیے حکومت کو سیاسی صورتحال اور جمہوری عمل کی سموتھ سیلنگ کو یقینی بنانے کے لیے سیاسی اسٹرکچر اور بڑے اقتصادی فیصلے اس انداز نظر سے کرنا پڑیں گے کہ سیاسی سٹیک ہولڈرز ایک مکمل شو ڈاؤن سے اجتناب کریں اور سیاسی محاذ آرائی جیسے ''وار گیمز'' اور بلیم گیم کی دیوانگی کو ترک کر دیں۔
ملکی معیشت کی بحالی کے لیے لازم ہے کہ صنعتکاری کو پرامن ماحول اور انویسٹمنٹ کے لیے سازگار حالات میسر ہوں۔ گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے انٹرنیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو عالمی طاقت بنانے کے جس خواب کا حوالہ دیا وہ اسی صورت شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے کہ قوم کے جینئس اور ذہین اذہان کے لیے ایک ساز گار تخلیقی ماحول انھیں دیا جائے۔
سیاست دانوں کو ملکی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایسی بے لوث معاون جمہوری قوتیں بھی سرگرم عمل ہوں جو تصادم، کشیدگی اور انتشار کے امکانات کو روک کر تعمیری اور جمہوری رویوں کو فروغ دینے میں مدد دیں۔حقیقت یہ ہے کہ سیاسی سفر حکومت اور حزب اختلاف کے مابین جمہوری اور پارلیمانی اشتراک عمل کے بغیر ممکن نہیں، دنیا کی دو بہترین فٹبال ٹیمیں بھی ہزاروں شائقین فٹبال کو دل شکستہ کر دیں گی اگر انھوں نے فیئر پلے چھوڑ کر رف کھیل کو اپنا ٹارگٹ بنا لیا اور ''نہ کھیلیں گے ، نہ کھیلنے دیں گے'' کی حکمت عملی اپنائی تو کھیل کا سارا حسن جمہوریت کے حسن کی طرح خاک میں مل جائے گا۔
اس لیے وقت ضایع نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے ملک کو ہی نہیں پوری دنیا کو بڑے چیلنجز درپیش ہیں، جنھیں مدبر و دانشمند سیاست دانوں نے ہی حل کرنا ہے۔
یہ پیشگوئی عالمی بینک نے جنوبی ایشیا میں بدترین کساد بازاری کے تناظر اور کووڈ 19 کے منفی اثرات کی وجہ سے سست اور غیر یقینی معاشی بحالی کے ساتھ ساتھ کی ہے ، عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں پاکستان میں غربت میں اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔
ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کی جنوبی ایشیائی اکنامک فوکس رپورٹ، جو سال میں دو مرتبہ شایع ہوتی ہے، کے تازہ شمارے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اقتصادی شرح نمو مالی سال 2021 میں کم ہونے کی توقع ہے اور 0.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جب کہ اس سے قبل مالی سال 2019 تک تین سال کے دوران سالانہ اوسط 4 فیصد رہی۔ رپورٹ کے مطابق اقتصادی نمو توقع سے کم یعنی مالی سال 2021 اور 2022 میں اوسطاً 1.3 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
اس میں کہا گیا کہ یہ اندازہ انتہائی غیر یقینی ہے اور اس کی پیش گوئی انفیکشن میں اضافہ نہ ہونے یا وائرس کی مزید لہروں کے نہ آنے کے حساب سے کی گئی ہے کیوں کہ دوسری صورت میں مزید وسیع پیمانے پر لاک ڈاؤن کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سندھ میں مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن مختلف شہری علاقوں میں نافذ ہے، میڈیا نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ پنجاب کے 36 اضلاع میں کورونا مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے، طبی ذرایع کے مطابق حکومتی ایس او پیز اور سماجی فاصلہ کی پابندیوں کو نظر انداز کیا گیا اور اجتماع لگانے، بھیڑ اور رش سے گریز میں بے احتیاطی برتی گئی تو کورونا کے پھیلاؤ کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا، عالمی ادارہ صحت نے اگرچہ دوسری لہر کو نسبتاً کم تباہ کن اور اس کی ہلاکت خیزی کو کم ہولناک کہا ہے تاہم عالمی سطح پر عوام کو آگاہی مہم کے ذریعے وائرس کے دوبارہ حملہ سے بچاؤ کی ہر ممکن تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ۔
اس رپورٹ کے اجرا سے قبل ایشیا کے خطے کے لیے عالمی بینک کے نائب صدر ہارٹویگ شیفر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کووڈ-19کے دوران جنوبی ایشیائی معیشتیں توقع سے زیادہ تباہی سے دوچار ہوئیں بالخصوص چھوٹے کاروبار اور غیر رسمی کام کرنے والوں کے لیے یہ صورتحال بدترین ثابت ہوئی جو اچانک اپنی ملازمت اور اجرت سے محروم ہو گئے، بینک نے تکنیکی وجوہات کی بنا پر پاکستان کی غربت کے اعداد شایع نہیں کیے لیکن خطے کے دوسرے ممالک کی طرح غربت میں اضافے کی شرح بلند ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وبائی مرض پر قابو پانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے پاکستان کی معیشت شدید متاثر ہوئی، اقتصادی سرگرمیاں سکڑ گئیں اور غربت میںمزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ رواں برس کے آغاز میں مالیاتی اور مالی پالیسیوں میں سختی کی گئی اور اس کے بعد لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ترقی کی نمو بتدریج بڑھے گی لیکن دوسری جانب غیر یقینی صورتحال اور طلب کے دباؤ کے لیے کیے گئے اقدامات کی بحالی کی وجہ سے یہ کم رہنے کا امکان ہے۔
اس منظر نامے میں انفیکشن کے ممکنہ طور پر دوبارہ پھیلاؤ، ٹڈی دل کی وجہ سے فصلوں کو وسیع پیمانے پر پہنچنے والے نقصان اور مون سون بارشوں نے مزید خطرات کا اضافہ کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق معقول سود کی ادائیگی، بڑھتی ہوئی تنخواہ، پنشن بل اور توانائی کے شعبے میں حکومت کے ذریعے سرکاری کاروباری اداروں کے 'گارنٹی والے قرض' کی وجہ سے اخراجات کافی حد تک برقرار رہیں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مستقبل قریب میں شرح نمو میں کمی کے پیش نظر غربت کی صورتحال مزید خراب ہونے کی توقع ہے، رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمزور طبقے میں خدمات کے شعبے میں ملازمتوں پر بہت زیادہ انحصار کیا جاتا ہے اور سروسز کی کمزور شرح نمو ممکنہ طور پر وبا کی وجہ سے بے انتہا غربت میں کمی کے سلسلے میں غیر موثر ثابت ہو گی۔
اس میں کہا گیا ہے کہ معاشی منظر نامے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ممکنہ طور پر وائرس کی دوسری لہر کی وجہ سے انفیکشن کا پھیلاؤ ہے جس کی وجہ سے مقامی سطح پر نیا لاک ڈاؤن نافذ کیا جا سکتا ہے اور ڈھانچے میں اصلاحات پر عملدرآمد التوا کا شکار ہو جائے گا۔حکومت کو امیر ملکوں سے معاونت اور مالی امداد ملنے کی فوری توقعات نہیں رکھنی چاہئیں، کیونکہ امیر ملکوں کی معیشتیں خود گرداب میں پھنسی ہوئی ہیں۔
ان کے ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اقتصادی بحالی بہتر معاشی اقدامات اور کاروبار و تجارت میں تیزی کی صورت میں کچھ عوامی خوشحالی کے امکانات پیدا بھی ہوئے تو وہ 2021 کے بعد ہی نظر آئیں گے اور پھر معمولات معیشت کی بحالی شروع ہوسکتی ہے، ایسی صورت میں پاکستان کے اقتصادی ماہرین اور ہمارے معاشی مینیجرز کو بنیادی معاشی اقدامات منظم طریقے سے کرنا چاہئیں، حکومت کورونا سے متاثرہ زندگی کے ان کمزور شعبوں پر خصوصی توجہ دے جنھیں کورونا وائرس نے زبردست ہٹ کیا اور لوگوں کے لیے دو وقت کی روٹی حاصل کرنا مشکل ہوگیا۔
شہری مہنگائی اور بیروزگاری سے تنگ آگئے ، انھیں جمہوری ثمرات نہیں ملے، اگر زندگی آسودگی کی جانب دوڑتی ہوئی نظر آئیگی تب ہی عوام تبدیلی کا یقین کر لیں گے، لیکن اس منظر نامہ کو ابھارنے کے لیے حکومت کو سیاسی صورتحال اور جمہوری عمل کی سموتھ سیلنگ کو یقینی بنانے کے لیے سیاسی اسٹرکچر اور بڑے اقتصادی فیصلے اس انداز نظر سے کرنا پڑیں گے کہ سیاسی سٹیک ہولڈرز ایک مکمل شو ڈاؤن سے اجتناب کریں اور سیاسی محاذ آرائی جیسے ''وار گیمز'' اور بلیم گیم کی دیوانگی کو ترک کر دیں۔
ملکی معیشت کی بحالی کے لیے لازم ہے کہ صنعتکاری کو پرامن ماحول اور انویسٹمنٹ کے لیے سازگار حالات میسر ہوں۔ گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے انٹرنیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو عالمی طاقت بنانے کے جس خواب کا حوالہ دیا وہ اسی صورت شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے کہ قوم کے جینئس اور ذہین اذہان کے لیے ایک ساز گار تخلیقی ماحول انھیں دیا جائے۔
سیاست دانوں کو ملکی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایسی بے لوث معاون جمہوری قوتیں بھی سرگرم عمل ہوں جو تصادم، کشیدگی اور انتشار کے امکانات کو روک کر تعمیری اور جمہوری رویوں کو فروغ دینے میں مدد دیں۔حقیقت یہ ہے کہ سیاسی سفر حکومت اور حزب اختلاف کے مابین جمہوری اور پارلیمانی اشتراک عمل کے بغیر ممکن نہیں، دنیا کی دو بہترین فٹبال ٹیمیں بھی ہزاروں شائقین فٹبال کو دل شکستہ کر دیں گی اگر انھوں نے فیئر پلے چھوڑ کر رف کھیل کو اپنا ٹارگٹ بنا لیا اور ''نہ کھیلیں گے ، نہ کھیلنے دیں گے'' کی حکمت عملی اپنائی تو کھیل کا سارا حسن جمہوریت کے حسن کی طرح خاک میں مل جائے گا۔
اس لیے وقت ضایع نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے ملک کو ہی نہیں پوری دنیا کو بڑے چیلنجز درپیش ہیں، جنھیں مدبر و دانشمند سیاست دانوں نے ہی حل کرنا ہے۔