پولیس میں خلاف ضابطہ ترقیوں کیخلاف درخواست کی سماعت ملتوی
صرف اس وقت تک تحفظ ہے جب تک آرڈیننس چیلنج یادوسرا قانون نہیں آتا،سندھ ہائیکورٹ
صرف اس وقت تک تحفظ ہے جب تک آرڈیننس چیلنج یادوسرا قانون نہیں آتا،سندھ ہائیکورٹ۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے محکمہ پولیس میں خلاف ضابطہ ترقی پانے والے افسران کی ترقی کے خلاف درخواست کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس امیرہانی مسلم اور جسٹس اطہرسعیدشامل تھے،سیکریٹری سروسز اقبال درانی نے عدالت کو بتایاکہ گورنر سندھ نے سول سروس ترمیمی آرڈیننس جاری کیا ہے جس سے خلاف ضابطہ ترقی پانے والے پولیس افسران کو بھی تحفظ مل گیا ہے، بینچ کے استفسار پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عدنان کریم نے بتایا کہ اس حوالے سے دوسرا ترمیمی آرڈیننس جاری ہوا ہے جس کی وجہ سے خلاف ضابطہ ترقی حاصل کرنے والوں کو تحفظ مل گیا ہے۔
انھوں نے بینچ کو بتایا کہ چیف سیکریٹری نے انسپکٹر سے اوپر کے عہدوں کے لیے جائزہ کمیٹی کا اجلاس طلب کیاتھا لیکن محکمہ قانون کی رائے تھی کہ آرڈیننس آنے کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی ہے، پولیس افسران کی خلاف ضابطہ ترقیوں کو بھی تحفظ دے دیا گیا ہے اس لیے چیف سیکریٹری ان کی ترقیوں کا جائزہ نہیں لے سکتے اس رائے کے بعد جائزہ کمیٹی کا اجلاس ملتوی کردیا گیا، انسپکٹر شہباز مغل کے وکیل بیرسٹرعابدایس زبیر ی نے موقف اختیار کیا کہ عدالت کے حکم پر شہبازمغل کی ڈی ایس پی سے سب انسپکٹر کے عہدے پر تنزلی کردی گئی ہے،مذکورہ افسر کی ترقی جائز اور قانون کے مطابق تھی۔
ان کی تنزلی کا فیصلہ واپس لیا جائے، جسٹس امیر ہانی مسلم نے استفسار کیا کہ شہباز مغل تو ریگولر افسر بھی نہیں تھے، انہیں کس قانون کے تحت ریگولر کیا گیا اور ترقی دے دی گئی ؟عدالت نے آبزرو کیا کہ مذکورہ افسر کو 2001میں کنٹریکٹ پر سب انسپکٹر کے عہدے پر تقرری دی گئی تھی،2004میں انہیںخلاف ضابطہ ریگولر کرکے ترقی دے دی گئی اورڈی ایس پی بنادیا گیا،جسٹس امیر ہانی مسلم نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس افسر کو خلاف ضابطہ ریگولر کرکے ترقی دے دی گئی۔
انسپکٹر کی حیثیت سے ریگولر نہیں کیا جاسکتا، جسٹس انورظہیرجمالی نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ گورنرسندھ کی جانب سے جاری آرڈیننس سے ان افسران کواس وقت تک تحفظ مل گیا ہے جب تک اس آرڈیننس کو چیلنج نہیں کیا جاتا یا کوئی اور قانون نہیں آتا ، فاضل بینچ نے خلاف ضابطہ ترقیوں کیخلاف درخواست کی سماعت غیر معینہ مدت کیلیے ملتوی کردی، بینچ کی ہدایت پر چیف سیکریٹری سندھ راجا محمد عباس بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے محکمہ پولیس میں خلاف ضابطہ ترقی پانے والے افسران کی ترقی کے خلاف درخواست کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس امیرہانی مسلم اور جسٹس اطہرسعیدشامل تھے،سیکریٹری سروسز اقبال درانی نے عدالت کو بتایاکہ گورنر سندھ نے سول سروس ترمیمی آرڈیننس جاری کیا ہے جس سے خلاف ضابطہ ترقی پانے والے پولیس افسران کو بھی تحفظ مل گیا ہے، بینچ کے استفسار پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عدنان کریم نے بتایا کہ اس حوالے سے دوسرا ترمیمی آرڈیننس جاری ہوا ہے جس کی وجہ سے خلاف ضابطہ ترقی حاصل کرنے والوں کو تحفظ مل گیا ہے۔
انھوں نے بینچ کو بتایا کہ چیف سیکریٹری نے انسپکٹر سے اوپر کے عہدوں کے لیے جائزہ کمیٹی کا اجلاس طلب کیاتھا لیکن محکمہ قانون کی رائے تھی کہ آرڈیننس آنے کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی ہے، پولیس افسران کی خلاف ضابطہ ترقیوں کو بھی تحفظ دے دیا گیا ہے اس لیے چیف سیکریٹری ان کی ترقیوں کا جائزہ نہیں لے سکتے اس رائے کے بعد جائزہ کمیٹی کا اجلاس ملتوی کردیا گیا، انسپکٹر شہباز مغل کے وکیل بیرسٹرعابدایس زبیر ی نے موقف اختیار کیا کہ عدالت کے حکم پر شہبازمغل کی ڈی ایس پی سے سب انسپکٹر کے عہدے پر تنزلی کردی گئی ہے،مذکورہ افسر کی ترقی جائز اور قانون کے مطابق تھی۔
ان کی تنزلی کا فیصلہ واپس لیا جائے، جسٹس امیر ہانی مسلم نے استفسار کیا کہ شہباز مغل تو ریگولر افسر بھی نہیں تھے، انہیں کس قانون کے تحت ریگولر کیا گیا اور ترقی دے دی گئی ؟عدالت نے آبزرو کیا کہ مذکورہ افسر کو 2001میں کنٹریکٹ پر سب انسپکٹر کے عہدے پر تقرری دی گئی تھی،2004میں انہیںخلاف ضابطہ ریگولر کرکے ترقی دے دی گئی اورڈی ایس پی بنادیا گیا،جسٹس امیر ہانی مسلم نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس افسر کو خلاف ضابطہ ریگولر کرکے ترقی دے دی گئی۔
انسپکٹر کی حیثیت سے ریگولر نہیں کیا جاسکتا، جسٹس انورظہیرجمالی نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ گورنرسندھ کی جانب سے جاری آرڈیننس سے ان افسران کواس وقت تک تحفظ مل گیا ہے جب تک اس آرڈیننس کو چیلنج نہیں کیا جاتا یا کوئی اور قانون نہیں آتا ، فاضل بینچ نے خلاف ضابطہ ترقیوں کیخلاف درخواست کی سماعت غیر معینہ مدت کیلیے ملتوی کردی، بینچ کی ہدایت پر چیف سیکریٹری سندھ راجا محمد عباس بھی عدالت میں پیش ہوئے۔