ہوم سیریز پاکستان نے ’’سستے‘‘ وینیوز کی تلاش شروع کردی
یو اے ای کافی مہنگا پڑتا ہے، قطر میں میزبانی پر غور کررہے ہیں، نجم سیٹھی
ملک میں ایک برس کے اندر انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ترجیح ہے،چیئرمین۔ فوٹو: فائل
پاکستان نے مستقبل کیلیے سستے وینیوز کی تلاش شروع کردی، پی سی بی عبوری کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہاکہ یو اے ای کافی مہنگا پڑتا ہے۔
قطر میں ہوم سیریز کی میزبانی پر غور کررہے ہیں، ملک میں ایک برس کے اندر انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہماری ترجیح مگر یہ سیکیورٹی صورتحال سے مشروط ہے، انھوں نے ان خیالات کا اظہار ایک خلیجی اخبار سے بات چیت میں کیا، نجم سیٹھی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے ہماراکافی ساتھ دیا، یہی وجہ ہے کہ ہم یہاں پر ہوم سیریز کا انعقاد کرتے ہیں، مگر ہم نے بھی ان ریاستوں کو عالمی نقشے پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا، میری یہاں کے آفیشلز سے بات ہوئی جس میں خاص طور پر میچز پر ہونے والے کثیر اخراجات کا معاملہ اٹھایا، مجھے بتایا گیا کہ اگر ہم ان کے ساتھ طویل مدت کا معاہدہ کرلیں تو اس میں کچھ کمی ہوسکتی ہے، فی الحال ہم سیریز درسیریز کی بنیاد پر کنٹریکٹ کررہے ہیں، اسی کیساتھ ہم دوسرے وینیوز کی تلاش میں بھی ہیں، خاص طور پر قطر ہماری نظر میں ہے جہاں پر ہماری ویمنز ٹیم ایک ہوم سیریز کی میزبانی کرنے کیساتھ ایک ٹورنامنٹ کھیل رہی ہے۔
وہاں پر لاگت دبئی اور شارجہ کے مقابلے میں بہت کم ہوگی، اس وقت اخراجات ہی ہمارے لیے سب سے اہم مسئلہ ہیں، ویسے بھی ہماری کوشش ہوگی کہ ایک برس میں پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہوجائے۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے بھی مجھے انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کا ٹاسک دیا جس پر میں نے ان سے کہا کہ پہلے حکومت کو ملک میں امن قائم کرنا ہوگا، جس پر انھوں نے مجھے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے میں آغازکریں گے مجھے اسی کا انتظار ہے۔نجم سیٹھی نے مزید کہا کہ میں ورلڈ کپ 2015 کی تیاریوں کے حوالے سے مطمئن ہوں، ہم نے گذشتہ 4 میں سے تین ون ڈے سیریز جیتیں، نئے کھلاڑی ٹیم میں آ کر اچھا پرفارم کررہے ہیں۔
قطر میں ہوم سیریز کی میزبانی پر غور کررہے ہیں، ملک میں ایک برس کے اندر انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہماری ترجیح مگر یہ سیکیورٹی صورتحال سے مشروط ہے، انھوں نے ان خیالات کا اظہار ایک خلیجی اخبار سے بات چیت میں کیا، نجم سیٹھی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے ہماراکافی ساتھ دیا، یہی وجہ ہے کہ ہم یہاں پر ہوم سیریز کا انعقاد کرتے ہیں، مگر ہم نے بھی ان ریاستوں کو عالمی نقشے پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا، میری یہاں کے آفیشلز سے بات ہوئی جس میں خاص طور پر میچز پر ہونے والے کثیر اخراجات کا معاملہ اٹھایا، مجھے بتایا گیا کہ اگر ہم ان کے ساتھ طویل مدت کا معاہدہ کرلیں تو اس میں کچھ کمی ہوسکتی ہے، فی الحال ہم سیریز درسیریز کی بنیاد پر کنٹریکٹ کررہے ہیں، اسی کیساتھ ہم دوسرے وینیوز کی تلاش میں بھی ہیں، خاص طور پر قطر ہماری نظر میں ہے جہاں پر ہماری ویمنز ٹیم ایک ہوم سیریز کی میزبانی کرنے کیساتھ ایک ٹورنامنٹ کھیل رہی ہے۔
وہاں پر لاگت دبئی اور شارجہ کے مقابلے میں بہت کم ہوگی، اس وقت اخراجات ہی ہمارے لیے سب سے اہم مسئلہ ہیں، ویسے بھی ہماری کوشش ہوگی کہ ایک برس میں پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہوجائے۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے بھی مجھے انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کا ٹاسک دیا جس پر میں نے ان سے کہا کہ پہلے حکومت کو ملک میں امن قائم کرنا ہوگا، جس پر انھوں نے مجھے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے میں آغازکریں گے مجھے اسی کا انتظار ہے۔نجم سیٹھی نے مزید کہا کہ میں ورلڈ کپ 2015 کی تیاریوں کے حوالے سے مطمئن ہوں، ہم نے گذشتہ 4 میں سے تین ون ڈے سیریز جیتیں، نئے کھلاڑی ٹیم میں آ کر اچھا پرفارم کررہے ہیں۔